حکمرانوں کی داخلی کشمکش
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 20 / جولائی / 2017
- 4603
مسلم لیگ (ن) اور اس کے قائد نواز شریف بڑی مشکل صورتحال سے دوچار ہیں ۔ اگرچہ ماضی میں بھی ان کو کئی بڑے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن موجودہ بحران ماضی کے بحران کے مقابلے میں بہت بڑا ہے ۔ ماضی میں وہ سیاسی مسائل میں الجھ کر اداروں سے ٹکراؤ کا شکار رہے ہیں ۔ وہ اس لڑائی کو عمومی طور پر جمہوریت اور سول حکومت کی بالادستی کے نعرے کے طور پر استعمال کرتے تھے ۔ وہ اس حالیہ بحران کو بھی اسی موضوع سے جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ لیکن اس بار مسئلہ اتنا سادہ نہیں ۔ کیونکہ اس دفعہ ان کی اور ان کے خاندان کی ذاتی مالی ، سیاسی اور اخلاقی ساکھ پر بنیادی نوعیت کے سوالات اٹھے ہیں ۔ یہ سوالات محض ان کے سیاسی مخالفین تک ہی محدود نہیں بلکہ ملک کی اہم عدالت اور اس کے حکم پر بننے والی جے آئی ٹی نے بھی تفتیشی عمل میں اٹھائے ہیں۔
وزیر اعظم نواز شریف کے سامنے اس وقت چار بڑے چیلنجز ہیں ۔ اول قانونی یعنی سپریم کورٹ کے محاذ پر ، دوئم سیاسی مخالفین کے محاذ پر ، سوئم میڈیا کے محاذ پر اور چہارم اپنی ہی جماعت اور خاندان کی سطح پر۔ عمومی طور پر جب کسی سیاسی قیادت پر برا وقت آتا ہے یا وہ کسی بڑے بحران کا شکار ہوتی ہے تو اس کی اصل طاقت اس کی اپنی جماعت اور داخلی استحکام ہوتا ہے ۔ اور پارٹی ہی اس کا بڑا دفاع کرتی ہے ۔ اس وقت ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ نواز شریف اور ان کے خاندان پر جو الزامات ہیں وہ ان کی حکومت اور کابینہ پر نہیں بلکہ براہ راست ان کی ذات پر ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی سطح پر وزیر اعظم اور بالخصوص ان کے خاندان کے دفاع میں مشکل صورتحال کا سامنا ہے ۔
اگرچہ ابھی تک ہمیں مسلم لیگ (ن) کے داخلی محاذ پر کوئی ایسی بڑی مشکل دیکھنے میں نہیں آئی کہ جو نواز شریف کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہو۔ لیکن اگر صورتحال کا تجزیہ کی جائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس وقت مسلم لیگ (ن) کے داخلی محاذ پر ایک بڑی سیاسی کچھڑی پک رہی ہے ۔ جو لوگ یا سیاسی پنڈت مسلم لیگ کی تاریخ جانتے ہیں چاہے وہ کسی بھی فریق یا گروپ کی ہو وہ کوئی بڑی مزاحمتی سیاست کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتی ۔ کنونشن مسلم لیگ سے لے کر آج کی نواز شریف کی مسلم لیگ کی سیاست کا بنیادی نقطہ اقتدار اور اس کے اردگرد بننے والی طاقت ور سیاسی تکون کا ہے ۔ جب بھی مسلم لیگ اقتدار میں ہوتی ہے، وہ اپنے بحران کے نتیجے میں تقسیم ہوجاتی ہے اور یہ تقسیم اس وقت بھی ہمیں دیکھنے کو مل رہی ہے ، جس پر نواز شریف کو قابو پانا ہوگا۔
وزیر داخلہ چوہدری نثار نواز شریف کے قریبی اور وفادار ساتھیوں میں سمجھے جاتے ہیں ۔ ان کی ایک حیثیت مسلم لیگ، نواز شریف اور داخلی بڑی طاقتوں یا اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان ثالث کی بھی ہے جو مشکل وقت میں نواز شریف کو اسٹیبلیشمنٹ کی مزاحمتی سیاست سے بچاکر ایک مصالحت کار یا ضامن کا کردار ادا کرتے رہے ہیں ۔ شہاز شریف بھی اسی سیاست کے حامی ہیں۔ اس لیے یہ تاثر کہ وہ نواز شریف کے خلاف ہیں ، درست نہیں اور نہ ہی ان کی نیت پر شبہ کیا جانا چاہیے۔ بنیادی طور پر چوہدری نثار، نواز شریف سمیت بعض وفاقی وزرا اور مشیروں کی سیاسی ، قانونی حکمت عملی سے سخت نالاں نظر آتے ہیں ۔ اس کا برملا اظہار انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا اور کہا کہ وزیر اعظم یہ سارا بحران آپ کا اپنا پیدا کردہ ہے اور جن نادان و ناسمجھ دوستوں نے آپ کو اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کی سیاست میں الجھا دیا ہے، وہ آپ کے خیر خواہ نہیں ۔ پارٹی میں جو لوگ چوہدری نثار سے نالاں ہیں یا ان سے سیاسی فاصلہ رکھتے ہیں، وہ نواز شریف اور چوہدری نثار میں بدگمانی پیدا کرکے خود سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ۔
وزیر داخلہ عملی طور پر کابینہ کے اجلاس میں اپنے تحفظات کا تبادلہ کرنے کے بعد پارٹی کے اہم مشاورتی اجلاسوں میں شریک نہیں ہورہے جو پارٹی کے لیے مسئلہ بن رہا ہے ۔ کیونکہ ان کی عدم شرکت کو بنیاد بنا کر بہت سے لوگ پارٹی میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جو لوگ بھی مسلم لیگ کی سیاست کا وسیع مطالعہ رکھتے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اس وقت مسلم لیگ نواز دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے ۔ اول کہ ہمیں ریاستی اداروں سے کسی بھی قسم کے ٹکراؤ کی سیاست سے گریز کرنا چاہیے اور اپنی جماعت اور حکومت کو بچا کر اس موجود ہ بحران سے نکلنا چاہیے ۔ اس کے برعکس دوسرا طبقہ سمجھتا ہے کہ سارا بحران اسٹیبلیشمنٹ کا پیدا کردہ ہے اور عمران خان اس کا مہرہ ہے اور ہمیں کسی مصلحت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ڈٹ کر ان سے مقابلہ کرنا چاہیے ۔ اسی طبقہ کے بقول اس بار اسٹیبلیشمنٹ عدلیہ کی آڑ میں میدان میں اتری ہے اور وہ جوڈیشل مارشل لا لگانا چاہتی ہے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف مسلم لیگ (ن) کا ایک طبقہ مزاحمت کی سیاست پر زور دیتا ہے لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ جنرل مشرف کے دور میں جب انہوں نے فوجی مداخلت کے خلاف مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا تو کتنے لوگ ان کے ساتھ کھڑے تھے ۔ مسلم لیگ (ن) میں ایسے لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو سمجھتی ہے کہ اگر ہم نے موجودہ صورتحال میں اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کی تو اس کا نتیجہ ہمیں 2018کے انتخابات میں بڑی ناکامی کی صورت میں دیکھنے کو مل سکتا ہے ۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) میں ایک ایسا گروہ موجود ہے جو نجی محفلوں میں اس موقف کی تائید کرتا ہے کہ اگر نواز شریف مستعفی ہوکر اپنی جگہ نیا وزیر اعظم لے آئیں تو اس سے ان کی حکومت ، جماعت اور 2018 کے انتخابات کو بچایا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس کا نقصان 2018 کے انتخاب میں ہوگا اور اس پارٹی کو بھی دوبارہ تقسیم ہونے سے نہیں بچایا جاسکے گا ۔
نجی مجالس میں کئی مسلم لیگی نواز شریف اور بعض ساتھیوں کے جارحانہ رویہ او راسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ پر پریشان ہیں اور اس کا برملا اظہار کرتے ہیں ۔ ان کے بقول بلاوجہ ہمیں مشکل میں ڈالا جارہا ہے اور یہ متبادل سیاسی آپشن پر بھی غور کررہے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ یہ کھیل ان کو سیاسی طور پر فائدہ نہیں دے سکے گا۔ بنیادی طور پر مسلم لیگ اسٹیبلیشمنٹ کی ہمیشہ سے حامی جماعت رہی ہے ۔ خود نواز شریف کی مجموعی سیاست اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت کے ساتھ ہی کھڑی رہی اور جب بھی ان کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تو نتیجہ اسٹیبلیشمنٹ اور ان کے درمیان نئی مفاہمت کی صورت میں سامنے آیا ۔ نواز شریف کو دو باتیں سمجھنی ہوں گی کہ چوہدری نثار اور دیگر مصالحت پسندی کی سیاست کرنے والے اہم ہیں، ان کو نظرانداز کرکے نواز شریف اپنی اس ڈوبتی کشتی کو نہیں بچاسکیں گے ۔ اس طبقہ کے ساتھ نواز شریف کو مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ لیکن اس کے لیے وزیر اعظم کو اپنی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز کرنا چاہیے ۔ چوہدری نثار ارکان اسمبلی میں بھی ایک موثر گروپ تک رسائی رکھتے ہیں۔ دوئم نواز شریف کو سمجھنا چاہیے اس بار انہیں سیاسی نہیں بلکہ کرپشن ، بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا ہے۔ ان پر اور ان کے خاندان پر جے آئی ٹی کی تحقیقات میں سنگین الزامات سامنے آئے ہیں ۔ اس لیے ان الزامات کو بنیاد بنا کر نواز شریف کوئی بڑی مزاحمت پیدا نہیں کرسکیں گے ۔ البتہ یہ نظر آرہا ہے کہ نواز شریف اس جنگ کو سیاسی بنا کر خود کو سیاسی شہید کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں ۔
یہ منطق کہ ہمارے خلاف اصل کھیل اسٹیبلیشمنٹ کا ہے اور احتساب محض ان کا ایک نعرہ ہے اور ان تمام سازشوں کے تانے بانے اداروں سے جوڑے جارہے ہیں ۔ حالانکہ ان کے خلاف جو ساری سازشیں ہورہی ہیں وہ محض اسٹیبلیشمنٹ کی نہیں بلکہ ان کی اپنی اور سخت گیر ساتھیوں کی پیدا کردہ ہیں ۔ اس لیے مسلم لیگ تقسیم ہوتی ہے یا نواز شریف کا اقتدار ختم ہوتا ہے تو اس کی بڑی ذمہ داری خود نواز شریف پر ہوگی ۔ بہتر ہوگا کہ نواز شریف اس مسلم لیگ کو بچائیں وگرنہ مسلم لیگ کا کھیل جو ماضی میں نئی مسلم لیگ کی تشکیل کی صورت میں ہوتا رہا ہے، وہ دوبارہ شروع ہوسکتا ہے ۔