یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
- تحریر طارق محمود مرزا
- جمعرات 20 / جولائی / 2017
- 5354
آسٹریلیا اور پاکستان کی سیاست میں جو سب سے نمایاں فرق ہے وہ یہ ہے کہ آسٹریلیا میں سیاست عوامی اور قومی مسائل پر کی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں سیاست کا دائرہ سیاسی شخصیات کے گرد گھومتا رہتا ہے اور مسائل کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ سیاست دان ، میڈیا اور عوام صرف لیڈروں کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ لیڈر یا تو فرشتے ہوتے ہیں یا پھر شیطان۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص جس پارٹی کے حق میں ہوتا ہے اس کی نظر میں اس پارٹی کا لیڈر نیک، پاکباز، باکردا راور انسانی غلطیوں سے مبرا فر شتہ ہوتا ہے جبکہ مخالف پارٹی کا لیڈر بدکردار، جھوٹا، مکار اور تمام برائیوں کا منبع ہوتا ہے۔
ان دو انتہاؤں کے درمیان کوئی لیڈر ٹھہر ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ اس دنیا سے گزر نہ جائے۔ اس جہانِ فانی سے کوچ کرجانے کے بعد بدکردار باکردار اور غدار محب وطن ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹوکو ان کی زندگی میں ان کے مخالفین نے کیسے خطابات سے نہیں نوازا۔ لیکن مرنے کے بعد ان کو شہیدِ جمہوریت اور قائد عوام مخالفین نے بھی مان لیا ہے۔ اسی طرح جو سیاستدان اقتدار میں ہوتا ہے وہ انتہائی برا ہوتا ہے جونہی وہ دائرہِ اقتدار سے باہر نکلتا ہے تو وہ دودھ کا دُھلا بن جاتا ہے جیسا کہ آج کل آصف زرداری، خورشید شاہ اور راجہ پرویز اشرف بنے ہوئے ہیں۔ جبکہ تین چار برس قبل جب یہ اقتدار میں تھے تو ان میں تمام برائیا ں بدرجہ اتم موجود تھیں جو اپوزیشن میں آ کرآہستہ آہستہ جھڑ گئی ہیں۔ اور اب وہ ڈرائی کلین ہو کر عمران خان اور سراج الحق کے ساتھ کھڑے ہوکر پریس کانفرنس سے خطاب کر سکتے ہیں۔
آصف زرداری کی کرپشن کے قصے اور سوئس اکاؤنٹ بھی لوگ بھول چکے ہیں۔ اس وقت عمران خان، بلاول بھٹو، سراج الحق اور ڈاکٹر فاروق ستار کی توپوں کا رخ نواز شریف کی طرف ہے اور اسے نااہل قرار دلوانا، وہ واحد ایجنڈا ہے جس پر تمام حزب اختلاف متحد ہو کرکام کررہی ہے۔ اس دوران عوامی مسائل، بجلی کی لوڈ شیڈنگ، لاقانونیت، بے روز گاری، سکول ، ہسپتال، سڑکیں، عوامی سہولیات کے تمام منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ کر بخوبی کام کر رہے ہیں ۔ کیونکہ سیاستدان اور میڈیا ان پر کوئی بات نہیں کر رہا۔ میڈیا پر رات دن پانامہ سوار ہے۔ اس دوران ملک کے اہم مسائل اور نواز شریف کے علاوہ کرپشن کے دوسرے کیسز کو میڈیا، سیاستدانون اور عام لوگوں نے بھلا دیا ہے۔ جیسے رینٹل پاور کیس، زرداری صاحب کے سویٹرزلینڈ میں جمع کروڑوں ڈالر، پی آئی اے اور اسٹیل مل کا خسارہ، سٹاک ایکسچیج کی مندی حتیٰ کہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم اور جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی، بے گناہ کشمیریوں اور پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کو سب نے فراموش کیا ہؤا ہے۔ ہر طرف پانامہ کا ہنگامہ ہے۔ ہر شخص نواز شریف کی نااہلی کی بات کر رہا ہے۔ ایسے لگتا ہے نواز شریف کی نااہلی کے ساتھ ملک اور عوام کے تمام مسائل یک لخت حل ہو جائیں گے۔ ملک سے کرپشن ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔ قانون کی بالادستی قائم ہو جائے گی۔ رشوت ، سفارش اور اقرباء پروری کا قلع قمع ہو جائے گا ،سرکاری ملازمین اپنا کام ایمانداری سے کرنے لگیں گے۔ ہر شخص اور ادارہ اپنی حدود اور قانون کے اندر رہ کر عوام کی خدمت میں ڈٹ جائے گا۔ عوام کو انصاف اور تمام حقوق حاصل ہو جائیں گے۔ ملک میں خوشحالی کا دور دورہ شروع ہو جائے گا بلکہ دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔
کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ یہ ایک خاندان کی کرپشن کا کیس ہے۔ ان کے خلاف انکوائری ہو رہی ہے۔ اس سے دنیا کے تمام دھندے متاثر نہیں ہونے چاہیے اور باقی تمام مسائل کی طرف سے توجہ نہیں ہٹنی چاہیے۔ سپریم کورٹ کے باہر سیاسی کارکنان کا روز روز کا تماشا دنیا بھر میں منفرد اور انوکھا تماشا ہے ۔ ملک کی سب سے بڑی ، سب سے محترم عدالت کے باہر اس طرح گالم گلوچ، الزام تراشی ، نعرہ بازی، ہلڑبازی اور شورشرابہ نہ صرف قومی امیج خراب کرتا ہے بلکہ اس ادارے کے احترام کے منافی ہے۔ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ایک حکم کے ذریعے معززعدالت اس سلسلے کو بند کیوں نہیں کر دیتی۔ عدالت کے سامنے اپنی اپنی عدالتیں لگا کرکیس کے متعلق برملا اظہار رائے توہین عدالت نہیں تو اورکیا ہے ۔ اسی طرح سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی پر بھی ایک فریق کی طرف سے تابڑ توڑ حملے، تنقید، الزامات کی بارش، کردار کشی بلکہ دھمکیاں اور گالیاں تک دی جار ہی ہیں۔ جبکہ جے آئی ٹی اس کا جواب تک دینے سے بھی قاصر ہے۔ انہوں نے تو صرف اپنا فرض ادا کیا تھا ۔ کیا یہ ان کا قصور تھا کہ ان پر یوں لعن طعن ہو رہی ہے ۔ اس طرح سپریم کورٹ اپنی ہی تشکیل کردہ جے آئی ٹی کو تحفظ دینے ،ان کی عزت نفس کو بچانے، ان کو گالی گلوچ، دھمکیوں اور بے جا الزام تراشی سے بچانے سے کیوں قاصر ہے۔ اگر سپریم کورٹ کے لئے کام کرنے والوں کا یہ حشر ہو رہا ہے تو اس ملک میں حق اور انصاف کی بات کرنے والوں اور اپنے فرائض منصبی ایمانداری سے ادا کرنے والوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ اس طرح سے تو اس ملک میں کبھی کوئی حق اور انصاف کی بات نہیں کرے گا اور نہ کبھی ایمانداری سے اپنا فرض ادا کرے گا۔
دوسری طرف مختلف ٹی وی چینل مختلف سیاسی گروپوں کے ترجمان بنے ہوئے ہیں۔ کوئی چینل اور اخبار متوازن اور غیرجانب دار خبریں اور تجزیے پیش نہیں کرتا۔ کیا یہی سچی صحافت کے اصول ہیں۔ میڈیا جو عوام کی تربیت اور راہنمائی کرتا ہے، وہ خود کسی نہ کسی گروپ بندی میں ملوث ہو کر جانبدار اور غلط خبریں اور تجزیے پیش کرتا ہے۔ ٹی وی پر بیٹھ کر اکثر گمراہ کن باتیں کی جاتی ہیں۔ کسی دانشور، اعتدال پسند اور غیرجانبدار شخص کو موقع نہیں دیا جاتا۔ اگر غلطی سے کسی کو بلا لیا جائے تو اینکرز اپنے الفاظ زبردستی اس کی زبان سے ادا کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوئی کسی کی بات سننے کے لئے تیا رنہیں ہے ۔ کوئی دلیل سے بات کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ کوئی اختلافِ رائے سننے اور سیاسی مخالفت کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ ایسا لگتا ہے پورا ملک اور معاشرہ ایک ہسٹریا کا شکار ہے۔ ہر طرف نفرت کی آگ بھڑک رہی ہے۔ انتہا پسندی کے الاؤ جل رہے ہیں ۔ تعصب اور مخالفت کے چھینٹے اُڑ رہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ پوری قوم سیاست اور نفرت کی بھٹی میں جل اور بھن رہی ہے ۔ یا اللہ یہ کیسی سیاست ہے جس میں سوائے نفرت اور عداوت کے کچھ نہیں ہے ۔
کوئی ہے جو اس جلتی آگ پر پانی ڈال سکے۔ معاشرے میں توازن ، عدل اور دھیما پن لانے کی کوشش کرے۔ کوئی ہے جوتحمل ، برداشت، صبر، حسن اخلاق، احترام انسانیت اور قانون کا سبق یاد کروائے۔ کوئی ہے جو سیاست کو ڈگڈگی والا تماشا نہیں بلکہ خدمت اور عبادت سمجھے۔ کوئی ہے جو قلم کو قوم کی امانت سمجھ کر اس میں خیانت کا مرتکب نہ ہو ۔ کوئی ہے جو لفظ کی حرمت کی پاسداری کرے۔ کوئی ہے جو نفرتوں کے کارزار میں علمِ محبت بلند کرے۔ کوئی ہے ۔ کوئی ہے ۔ کوئی ہے ۔