سوشل میڈیا اور سماج

کسی نے بہت خوب کہا کہ اگر سماجی میڈیا 1947 میں ہوتا تو پاکستان کے حصول کی جدو جہد سماجی میڈیا پر ہی چلتی اور بلند و بانگ نعرے ہر کسی کی ٹائم لائن پر لکھے ہوتے یا پھر ڈی پی بنے ہوتے۔  سڑکیں خالی ہوتیں، کوئی شور شرابے کی نوبت نہیں آتی اور سب سے بڑھ کر تحریک بغیر خون خرابے کے چلتی رہتی۔ پھر اس بات کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں کے ہم آج کن حالات میں کہاں ہوتے۔

سماجی میڈیا ہر مذہب ، نسل اور  زبان بولنے والوں ا ور تمام  مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کیلئے یکساں اہم ہے۔ کبھی کبھار ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض ملکوں میں کچھ قدغن بھی لگائی گئیں اور کچھ ایسی چیزیں بھی شائع ہوئیں جن سے کسی حد تک اشتعال پھیلا مگر اکثریت سماجی میڈیا پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہے۔ اس  کی بدولت دنیا ایک گلوبل گاؤ ں بنی ہوئی ہے۔ ایک بہت ہی مشہور کہاوت ہے نیکی کر اور کنویں میں ڈال، اس کہاوت کا تجزیہ کریں تو سمجھ  سکتے ہیں  کہ دراصل سماجی میڈیا کا بنیادی تاثراسی کہاوت میں پوشیدہ ہے ۔ آج ایک طرف وکی لیکس اور پانامہ لیکس نے رازوں سے پردہ اٹھایا ہے، وہیں سماجی میڈیا نے بھی کسی راز کو راز رہنے نہیں دیا۔  جس کی بدولت ہماری ذاتی زندگی اور ملکوں کی سلامتی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال پاکستان میں حکو مت کا  احتساب اور اس دوران سامنے آنے والا مواد ہے۔ 

ہمارے سماج میں ماضی کی طرح لوگ آج بھی رشتے ناتوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں لیکن رابطہ کی شکل تبدیل ہوگئی ہے۔ یہ ذمہ داری سماجی میڈیا نے سنبھال لی ہے۔  دنیا کے ہر کونے میں  وقت ضائع کئے بغیر ایک دوسرے سے فوری رابطہ کرسکتے ہیں۔ یادیں جمع کرنے کا اپنا مزا ہوتا تھا اور اس بات کی اپنی خوشی ہوتی تھی کہ جائیں گے تو بتائیں گے۔  تصویریں دھلوائیں گے تو دکھائیں گے مگر آج تو سب کچھ لمحوں میں ہوجاتا ہے۔ سوشل میڈیا نسلوں میں  ہم آہنگی پیدا کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ یہ پرانی نسلوں کو آج کی نسل کی ضروریات سے بروقت آگاہی فراہم کرتا ہے۔  مگر افسوس اس بات کا ہے کہ میل جول کے طور طریقوں کی تربیت سوشل میڈیا کے ذریعے ممکن نہیں ہورہی۔ پرانے لوگ تو نئی نسل سے اور ان کی ضروریات سے آگاہ ہو رہے ہیں مگر پرانے لوگ اپنی خواہشوں  کا کیا کریں۔ سوشل میڈیا پر ہر فرد انتہائی مہذب اور مؤدب بنا ہوتا ہے۔  خوبصورت تحریریں پڑھنے کو ملتی ہیں۔  محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ ہر قسم کی برائی سے بہت جلد پاک ہوجائے گا اور دنیا امن کا گہوارا بن جائے گی۔  مگر حقیقت اس سے یکسر مختلف ہ۔ے یہ سب زیادہ سے زیادہ لائیکس کیلئے اور زیادہ سے زیادہ شئیر کرنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا سے تعلق تقریباً ہر فرد کی ضرورت بن چکی ہے ۔

زمینی حقائق بہت واضح طور پر یہ بتا رہے ہیں کہ دنیا کہ حالات روزبروز خراب ہوتے جارہے ہیں۔ ہم اپنا اپنا گھر اچھا بناکر اور اسے بہت اچھی طرح صاف ستھرا رکھ کر اگر یہ سمجھ رہے ہیں کہ دنیا رہنے کیلئے بہت خوبصورت جگہ ہے تو آپ کو زمین پر آجانا چاہئے۔ سماجی میڈیا سے ہی ہمیں لمحہ لمحہ دنیا کے بدلتے حالات کا علم ہوتا رہتا ہے۔ مگر ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ تو صرف شام میں ہو رہا ہے، یہ تو صرف عراق میں ہورہا ہے یا پھر یہ کشمیر میں ہورہا ہے ۔ ہمیں اپنی سمجھ کے بند دروازے کھولنے ہوں گے۔ ہمیں اپنے ملک کی بقا کیلئے اپنے گھر اور اطراف پر نظر رکھنا ہوگی۔ اپنے بچوں کو ایسے حالات سے نمٹنے کی تربیت دینا ہوگی۔

سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے یہ  ضرور سمجھیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور جو کچھ ملک میں ہورہا ہے، یہ ملک کا اندرونی مسئلہ ہے۔ ہم پاکستانی کسی خارجی دخل اندازی کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ ہم نے اپنے کان اور آنکھیں کھلی رکھی ہوئی ہیں۔ ہم صرف سوشل میڈیا والا سماج نہیں ہیں۔