اب انصاف ہونا چاہئے
- تحریر میاں وقاص ظہیر
- جمعہ 21 / جولائی / 2017
- 4600
پاناما کیس کے دلائل ختم ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا جو کسی بھی وقت بجلی بن کر عوام یا حکمران خاندان پر گر سکتا ہے۔ شواہد تو یہ بتاتے ہیں کہ ملک میں نئی تاریخ بننے والی ہے۔ سپریم کورٹ کے دو قابل احترام جج تو پہلے ہی وزیر اعظم کے صادق اور امین ہونے پر بڑ ا سوالیہ نشان لگاچکے ہیں۔ باقی کسر واجد ضیاء کی قیاد ت میں کام کرنے والی جے آئی ٹی کی ٹیم نے نکال دی ، جنہوں نے ایسی ایسی نئے شواہد پاناما کیس میں شامل کئے۔ اس طرح عوام کو آگاہی ہوئی کہ ان کے ساتھ کیا کچھ ہوتا رہا ہے۔
حکمران ملکی پیسہ لوٹ کر باہر بھیجتے ہیں، پھر عدالت عظمیٰ کے قابل احترام ججز کے سامنے منی ٹریل کا ریکارڈ بھی پیش نہیں کرتے۔ ضرورت پڑنے پر جعلی دستاویزات سے عدالت کو گمراہ کرنے اور پکڑے جانے پر کلیریکل غلطی جیسے الفاظ استعمال کرکے بچنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ اس کیس کا فیصلہ جو بھی ہو لیکن ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ (ن) لیگ ایک جماعت نہیں مافیا کا نام ہے جو ظفر حجازی جیسے افراد کو لالچ اور دباؤ میں لا کر ریکارڈ ٹمپرنگ پر مجبور کرتا ہے ۔ آج ظفر حجازی راولپنڈی جیل میں ضرور سوچتے ہوں گے کہ اس مافیا نے کس طرح میری عزت ونفس کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ اور میرا نام تاریخ کے اوراق میں ایک بدکردار شخص کے طور پر درج کروایا ۔ ہو سکتا ہے ظفرحجازی نے ساری زندگی معزز بن کر اپنے حلقہ احباب میں گزاری ہو لیکن جو داغ ان کی شخصیت پر لگ گیا انہیں تاریخ کبھی نہیں دھونے دے گی ۔
میری عدالت عظمیٰ سے درخواست ہے کہ اب ہمیں اپنی دھرتی کی بقا اور استحکام کے لئے کرپٹ افراد کو کیفرکردار تک پہنچانے کا فیصلہ کرنا ہوگا ۔ اس فیصلہ میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے۔ کوئی سیاستدان ہو ، بیوروکریٹ، جج، مقامی نمائندہ ، صحافی ، تاجریا کسی نجی ادارے کا سربراہ ۔۔۔ اب کسی جرم کی معافی نہیں ملنی چاہئے ۔ پلی بارگین جیسے غیر منصفانہ آپشن ختم ہونے چاہئیں۔ ایک بات یہ بھی قابل غور ہے کہ جس ملک کے وزیر خزانہ کے اثاثے15 سال میں 91 لاکھ سے بڑھ کر83 کروڑ تک پہنچ جائیں تو غریب عوام کو بھی ایسے طریقے اور ہتھکنڈے کا پتہ چلناچاہئے۔ تاکہ بیچارے غربت کی وجہ نے اپنے بچوں کو زہر دیں نہ ہی ان کے گلے گاٹیں یا انہیں فروخت کرنے کیلئے بازار میں نہ نکلیں ۔
آج باشعور عوام کو اس سوال کا جواب بھی ضرورمل چکا ہوگا کہ اسحاق ڈار کی رپورٹ پر آئی ایم ایف نے پاکستان کو جرمانہ کیوں کیا تھا۔ جب ہمارے خزانہ کے سفید وسیاہ کا مالک ہی کرگٹ کی طرح رنگ بدلے تو عالمی سطح پر وہ کس طرح ملک وقوم کا وقار بلند کرسکتا ہے۔ کوئی موقع ایسا بتا دیں کہ ہماری عالمی دنیا میں جگ ہنسانی نہیں ہوئی ۔ ہمارے اوپر دہشتگردی ، دھوکہ بازبرائے فروخت قوم کے علاوہ نہ جانے کیسے کیسے الزام لگائے گئے۔ ہم اتنے گندے نہیں جتنے بڑھا چڑھا کر پیش کئے گئے ہیں۔ اس دھرتی کو ہمارے خون اور قربانیوں کی ضرورت پڑے تو ہم جان دینے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن اس ملک کی لوٹ مار کا سلسلہ اببند ہونا چاہئے۔
یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے ، اس مرحلے میں تو آئین کے آرٹیکل 62,63 کا نفاذ ہونا چاہئے۔ تاکہ جھوٹوں کو ان کے کئے کی سزا ملے۔ ورنہ لوگ یہی سمجھیں گے کہ ایہ قانون صرف شوپیس ہیں یا صرف قانون کی کتابوں کی زینت کے لئے ہے ۔