ینگ ڈاکٹرز کا مقدمہ
- تحریر مزمل سہروردی
- ہفتہ 22 / جولائی / 2017
- 4802
میرا اب بھی یہ ماننا ہے کہ پانامہ کا ہنگامہ تھمنے کے بعد اگلے انتخابات کارکردگی کی بنیاد پر ہی ہوں گے۔ لوگ ووٹ سیاسی جماعت کو اس کی کارکردگی کی بنیاد پر ہی دیں گے۔ اس وقت تحریک انصاف کی خیبر پختون خوامیں حکومت ہے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت ہے۔ اور مسلم لیگ (ن) کی مرکز، پنجاب، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں حکومت ہے۔ لیکن اگر سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو بنیادی طور پر پنجاب، سندھ اور کے پی کے کی حکومتوں کے درمیان عوامی خدمت اور کارکردگی کا موازنہ ضرور ہوگا۔
میں سمجھتا ہوں کہ تینوں بڑے صوبوں میں تین مختلف بڑی سیاسی جماعتوں کی حکومت ہے اور ان تینوں جماعتوں کو اگلے انتخابات میں اپنی صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کے حوالہ سے جوابدہ ہونا ہوگا۔ اگر پانامہ کی بنیاد پر ووٹ نہیں ملیں گے تو پھر سوال یہ ہے کہ کس بنیاد پر ووٹ ملیں گے۔ اگر دھاندلی انتخابی ایشو نہیں، پانامہ انتخابی ایشو نہیں ہے تو پھر عوام کے نزدیک ووٹ دینے کا معیار کیا ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ ووٹ کا معیاربراہ راست عوام کی خدمت ہے۔ ا س سے قبل پیپلزپارٹی نے اپنے دور اقتدار میں صوبائی خودمختاری سمیت اہم آئینی ترامیم کیں ۔ پیپلزپارٹی کا خیال تھا کہ صوبائی خود مختاری اور آئین کی بحالی کے نام پر ووٹ مل جائیں گے۔ تاہم عوام نے آئین کی بحالی کو سراہا لیکن اس کی بنیاد پر ووٹ نہیں دیئے۔ عوام نے لوڈ شیڈنگ کی بنیاد پر ووٹ دیئے۔ لیکن اگلا انتخاب شاید لوڈ شیڈنگ پر نہیں ہوگا کیونکہ ایک انداذہ تو یہی ہے کہ اگر انتخابات مقررہ وقت پر ہوئے تو لوڈ شیڈنگ اتنا بڑا مسئلہ نہیں رہے گا۔ تو پھر کیا اہم ہوگا۔ یقینا صحت تعلیم اور عوامی ترقیاتی کام ووٹ کی بنیاد ہو ں گے۔ عوام یہ دیکھیں گے تینوں بڑے صوبوں میں تین مختلف سیاسی حکومتوں نے ان کے لئے کیا کیا ہے۔
اس ضمن میں صحت ایک اہم مسئلہ ہے۔ بلا شبہ جب شہباز شریف پنجاب میں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل کر رہے تھے تو تحریک انصاف کا موقف تھا کہ ان کی ترجیح صحت ہے۔ یہ درست ہے کہ پیپلزپارٹی نے اس ضمن میں مقابلہ کی کبھی کوشش نہیں کی۔ تا ہم وہ چاہیں یا نہ چاہیں پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اس مقابلہ کا حصہ ہے۔ صحت کے شعبہ میں جتنے بھی فنڈز مہیا کر دیئے جائیں، ان کا تب تک کوئی فائدہ نہیں ہوگا جب تک ہم ڈاکٹروں کو ٹھیک نہیں کریں گے۔ ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتالوں کی وبا چند سال پہلے پنجاب سے شروع ہوئی ۔ افسوس کی بات تو یہی تھی کہ ینگ ڈاکٹرز کی اس ہڑتال کو سیاسی جماعتوں نے اپنے سیاسی مفاد کے لئے استعمال کیا۔ لیکن سیاسی مفاد کے اس کھیل نے ینگ ڈاکٹرز کی تنظیم کو پریشرگروپ بنا دیا۔ جب سیاسی مفاد کی خاطر ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کو سیاسی چھتری دی گئی تو یہ جن بوتل سے باہر آگیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ چاروں صوبوں کو ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتالوں کا سامنا ہے۔ پشاور اور کے پی کے دیگرشہروں میں بھی ینگ ڈاکٹرز نے ہڑتال کرکے حکومت اور مریضوں کے ناک میں دم کیا۔ کراچی میں بھی ینگ ڈاکٹرز نے ہڑتال کی۔ اور پنجاب میں تو اب یہ رواج ہی بن گیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں کے پی کے میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال بہت شدت سے سامنے آئی ہے۔ کے پی کے کی حکومت نے ینگ ڈاکٹرز کے خلاف سختی بھی کی ہے ۔ لیکن پھر بھی یہ جن واپس بوتل میں بند نہیں ہوا ہے۔ پشاور میں ایک آپریشن میں غفلت پر جب ڈاکٹروں کے خلاف انضباطی کاروائی کی گئی تو ینگ ڈاکٹرز دوبارہ ہڑتال کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کی تنظیمیں بلا شبہ ڈاکٹرز کی فلاح کیلئے کام کریں لیکن ہڑتالوں سے ان کی بدنامی بھی ہو رہی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ینگ ڈاکٹرز کی یہ خواہش ہے کہ وہ ہر وقت حکومت کو اپنے سامنے سرنگوں رکھیں۔ پنجاب میں ینگ ڈاکٹرز نے اب حکومت سے سیکرٹری ہیلتھ نجم شاہ کی تبدیلی کا مطالبہ کر دیا ہے ۔ مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یقینا ینگ ڈاکٹرز کو بخوبی انداذہ ہے کہ اس وقت حکومت کمزور پوزیشن میں ہے۔ اس لئے احتجاج سود مند ثابت ہو سکتاہے۔ سوال یہ ہے کہ نجم شاہ کا قصور کیا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ ساہیوال پلانٹ کے موقع پر لیڈی ڈاکٹرز کو استقبال کے لئے بلانے پر سیکرٹری ہیلتھ کو تبدیل کر دیا جائے۔ حالانکہ صورتحال یہ ہے کہ جب رات کو سیکر یٹر ی ہیلتھ کے علم میں آیا کہ لیڈی ڈاکٹرز کو ایسی تقریب میں آنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے اسے روک دیا ۔ اور اگلے دن لیڈی ڈاکٹرز اس تقریب میں نہیں گئیں۔ بیچارے نجم شاہ کو ایک ایسے جرم کی سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا جو اول تو سرزد ہی نہیں ہوا۔ دوسرا انہوں نے اسے ہونے سے روکا۔ ویسے حکومت پنجاب اس اسسٹنٹ کمشنر کو بھی او ایس ڈی بنا چکی ہے ۔ لیکن شاید اصل وجہ کچھ اور ہے ۔ کہیں ایسا تونہیں کہ ساہیوال میڈیکل کالج کے معاملات محرک بنے ہوں ۔
ینگ ڈاکٹرز کا موقف ہے کہ جب تک ہسپتالوں پر ایک بیڈ پر ایک مریض نہیں ہو تا۔ وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔ اور وہ اس کی ذمہ داری بھی سیکرٹری ہیلتھ پر ڈال رہے ہیں۔ ادھر کیا یہ حقیقت نہیں کہ لاہور کے چلڈرن ہسپتا ل میں ساڑھے چھ سو بیڈ کا اضافہ ہوا ہے ۔ جنرل ہسپتال لاہور میں PIMS کے منصوبہ نے کام بھی شروع کر دیا ہے۔ میو ہسپتال کے سرجیکل ٹاور کے تمام فنڈز جاری کردیئے گئے ۔ کیا ریجنل بلڈ سنٹرز نہیں بنائے گئے۔ کیا ملتان اور فیصل آباد میں برن یونٹس نہیں بن گئے۔ کیا بہاولپور میں کارڈیک سنٹر مکمل نہیں ہوا۔ لیکن ینگ ڈاکٹرز کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔ کہ جب تک یہ سب مکمل نہ ہو جائے وہ کام نہیں کر یں گے۔
میرے لئے یہ جاننا اہم تھا کہ اصل مسلئہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سنٹرل انڈکشن پالیسی نجم شاہ نے بنائی اور چٹوں پر داخلوں کا کلچر ختم کر دیا ہے۔ وہ پرائیوٹ میڈیکل کالج میں بھی میرٹ پر داخلوں پر بضد ہیں۔ شاید اسی لئے کچھ طاقت وار حلقے ان کوہٹانا چاہتے ہوں ۔ بہر حال یہ سب باتیں اپنی جگہ رہیں ، ینگ ڈاکٹرز کے جائز مطالبات پر بھی غور ہونا چاہئے۔ حکومت اگر ایشو پیدا نہ کرے تو ہڑتال تک نوبت نہیں آتی ۔