جھیل ، شولا اور چار جولائی

بارہ جون کی ابتدا تھی۔ ہمارے دوست داؤد صاحب نے کلویڈا سے فون کیا اور کہا 4 جولائی کے ویک اینڈ پر کیا کر رہے ہیں۔ ہم نے جواب دیا وہی جھک ماریں گے جو روز مارتے ہیں۔ داؤد صاحب نے تجویز پیش کی کیوں نہ ہم 4 جولائی کو مل کر جھیل ڈلن پر جھک ماریں۔ تجویز معقول تھی اور کلوریڈا کی جھیل ڈلن ہماری بھی محبوب جگہ تھی۔ ہم نے فوراً اپنے پسندیدہ ہوٹل کو فون کیا لیکن وہاں سے بھرپور معذرت ملی کہ ہوٹل مکمل طور پر بک ہے۔ یہ ہوٹل جھیل ڈلن کے اوپر ایستادہ ہے۔ اور 4 جولائی امریکی INDEPENDENCE DAY ہے۔ ہم نے دوسرے ہوٹل کا بندوبست کر لیا جو جھیل سے تھوڑا دور تھا۔

داؤد اور افراز کی فیملی کو 4 جولائی کو وہاں پہنچنا تھا۔ ہم ایک دن قبل وہاں پہنچ گئے۔ افراد ہمارے مہربان دوست ناصر علی سید کے فرزند ہیں جنہوں نے داؤد صاحب کی بیٹی کومل سے شادی کی ہے۔ کومل سراسر امریکی لڑکی ہے۔ اور افراز سراسر پشاوری۔ لیکن جیسے کہا جاتا ہے کہ Match is made in Heaven۔ شادی پشاورمیں ہی ہوئی۔ کومل چھ ماہ پاکستان میں رہی۔ (آفریں صد آفریں کومل) اب جو افراز کو دیکھا تو وہ خوش شکل ذہین آنکھوں والا امریکی لڑکا بن چکا تھا۔

ڈلن کا مختصر سا شہر مناظر قدرت سے مزین ہے۔ گرمیوں کے موسم میں جھیل ڈلن سیاحوں کیلئے اپنی آغوش وا کر دیتی ہے۔ یہاں بوٹنگ واٹر سکینگ، غسل آفتابی، پہاڑوں پر چڑھنا، بائیسکل سواری  اور شہری میں مختلف نمائش سیاحوں کو مصروف رکھتی ہیں۔ لیکن اس سارے علاقے کا سیزن دراصل موسم سرما ہوتا ہے۔ امریکہ بھر سے بلکہ یورپ سے بھی سکینگ کے دلدادہ گروہ در گروہ اس علاقے کا رخ کرتے ہیں۔ ڈلن کے آس پاس پانچ عالمی شہرت یافتہ سکینگ اسٹیشن بیس میل کے دائرے میں ہیں۔ موسم سرما میں جھیل ڈلن سفید عروسی گاؤن میں ملبوس اپنے حسن کی نمائش کرتی ہے۔ جھیل ڈلن شفاف میٹھے پانی کی جھیل ہے۔ جو کہ کلوریڈا کے وسط میں ہی مقیم ہے۔ دو صدی قبل یہ سارا علاقہ بیابان تھا۔ جنگلی جانوروں کا مسکن تھا۔ انیسیویں صدی کے وسط میں خبر اڑی کہ BIVE RIVER میں سونا بہہ رہا ہے۔ سونا چھاننے والوں کا ایک ہجوم دریا کے کنارے خیمہ زن ہو گیا۔ اشیائے ضرورت کی دکان کھل گئی۔ مچھلیاں پکڑنے والوں نے ڈھابے کھول دیئے۔ شراب خانے کھل گئے۔ اور لوگ آ آ کر قسمت آزمائی کرنے لگے۔ ادھر جھیل کے مشرقی طرف کلوریڈا کا معروف شہر ڈینور بھی مقبولیت کے مراحل سے گزر رہا تھا۔ انڈسٹری پھیلنے لگی۔ آبادی بڑھنے لگی۔ روزگار کی فراوانی دوسری اسٹیٹ کے باسیوں کیلئے کشش تھی۔ تلاش معاش کیلئے قافلے ڈینور کا رخ کرنے لگے۔

بیسویں صدی میں ڈینور امریکہ کا معتبر ترین شہر بن کر ابھرا۔ خوبصورت موسم، مناظر قدرت، زراعت کی فراوانی، تارکین وطن کے علاوہ سیاحوں نے بھی ڈینور کا رخ کیا۔ اس ریل پیل نے اچانک خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ ڈینور میں پانی کی قلت بری طرح محسوس کی جانے لگی۔ فاضل ذہن یکجا ہوئے۔ اس مسئلے پر سر جوڑ کر بیٹھے۔ ان دنوں ڈلن ایک معمولی سا گاؤں تھا۔ ارباب اختیار نے ڈلن کے شہریوں کو بلایا۔ اور دریا پر ڈیم بنانے کی تجویز ان کے سامنے رکھی اور بتایا کہ ڈیم کی وجہ سے تمہارا گاؤں زیر آب آ جائے گا۔ حکومت آپ کو آپ کی ہی زمینوں اور آپ کے رہائشی مکانات کا آپ کو معاوضہ دے گی۔ نہ صرف معاوضہ دے گی بلکہ آپ کو ایک نئی بستی تعمیر کر کے دے گی۔ ڈلن کے باسیوں نے اس پر سوچ بچار کی اور حکومت وقت کے فیصلے سے اتفاق کیا۔ (یاد کریں کالا باغ ڈیم) ڈلن کا پرانا گاؤں زیر آب آیا جس کے کھنڈرات آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ڈیم کا پانی ڈلن سے ڈینور سرنگ کے ذریعے KEY STORE سے CONTINENTAL DEVIDE  کے نیچے سے ڈینور سے ملائی۔

کلوریڈا کے مناظر اگرچہ پل پل دامن دل کھینچتے ہیں۔ لیکن ہماری وابستگی کی جگہ ڈینور سے دوسری بھی ہے۔ وہ ہیں ہمارے شہر کے باسی ہاشم خان۔ ہاشم خان کو پشاور اور ڈینور کے درمیان کوئی دوسرا مقام پسند نہ آیا۔ مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں۔ ہاشم سے ہمارا رشتہ ہمیشہ احترام کا رہا ہے۔ ان کی انتھک محنت کی تو دنیا قدر دان بھی ہے اور قائل بھی۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ پشاور کے ملٹری کلب میں ایک بے توقیر بال بوائے تھے۔ یہ بارہ تیرہ برس کا بال بوائے اینٹوں کے فرش پر زیر آسماں برہنہ پا رات گئے تک بال پر ضربیں لگاتا تھا۔ اس کے بازو اس کا ساتھ دیتے رہے ، اس کی  شعلہ بار آنکھیں ہمیشہ بال پر جمی رہیں۔ اس نے تھکاوٹ سے کبھی ہار نہیں مانی۔ وہ اس بے پناہ مشقت میں دن رات ڈٹا رہا۔ اس کی ضرب میں توانائی آتی رہی۔ اس کے بازو کوندے کی طرح چلتے رہے۔ اس کی آنکھیں بال پر جمی رہیں ۔ ایسے میں پچھم سے لکشمی آکر اس کے ننگے پاؤں میں بیٹھ گئی۔ اس کی ضرب میں کمی نہ آئی۔  اس کے بازؤں کی ہر ضرب، ضرب اول کی طرح توانا رہی۔ اس کے ہر وار سے چنگاریاں بکھرتی رہیں۔ اور لکشمی اس کے آنگن میں بیٹھی مسکراتی رہی۔ اور پھر یہی ناقابل توجہ منہنی سا لڑکا اسکواش کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بن کر سامنے آیا۔ اس کا پہلا مقابلہ ریجنل انڈین ٹورنامنٹ تھا  اور پہلی بار ہاشم خان لکڑی کے فرش پر اترے۔ ہاشم خان نے پشاور سے ممبئی تک کا سفر ریل میں کیا۔ ریل کا سفر ان کے لئے نیا تھا۔ ان کی آنکھوں کو ممبئی کے رنگوں اور روشنیوں نے ضرور متاثر کیا لیکن ان کی نگاہیں بال پر جمی رہیں۔ لکڑی کے فرش نے ہاشم خان کی ضربوں کو جلا بخشی۔ ان کی ہر ضرب سے بال جیسے کڑکتی بجلی بن جاتا۔ سارا ہندوستان ہاشم خان کی عظمت کا قائل ہو گیا۔

تقسیم ہند کے بعد وہ برٹش اوپن کے لئے منتخب ہوئے اور زندگی میں پہلی بار انہوں نے ہوائی جہاز کا سفر کیا۔ اور جب وہ لندن میں اترے تو وہ برہنہ پا نہ تھے۔ انہوں نے نہ صرف برٹش اوپن جیتا بلکہ  WIMBLEDON اسکواش بھی اپنے نام کرلیا۔ اور برٹش چیمپئن کو ان کے کورٹ میں ہی شکست فاش دی۔ اس کے بعد ہاشم خان نے چھ برٹش اوپن میں شرکت کی اور ہر بار کامیاب و سرفراز ہوئے۔ اس کے بعد انہیں دنیا کے ہر شہر میں پذیرائی ملی۔ نمائشی میچ کھیلے، ورک شاپ چلائیں، لیکچر دیئے اور لکشمی ان کے ہمراہ ہمیشہ مسکراتی رہی: ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے

صحافی برادری ان پر فدا تھی۔ وہ ان سے گھل مل کر باتیں کرتے تھے۔ ان کو لطیفے سناتے تھے ۔ لمبی لمبی محفلیں سجتی تھیں۔ اور ان کی ابدی مہمان نوازی ہر دم  ان کے ہم رکاب رہتی۔  ان کو آٹو گراف دینے کی بھی خوشی تھی۔ وہ ہمیشہ اپنا نام انگریزی اور اردو میں لکھتے۔ اور خوش دلی سے اسے دیکھتے تھے۔ یہ برہنہ پا کرہ رض کا  واحد اسکواش چیمئن دل کا غنی تھا۔  یاروں کا یار تھا۔ کبھی کبھی لوگوں کو چونکا بھی دیتے تھے۔ یہ بات قابل غور ہے۔ وہ 1970 میں بالٹی مور میں نمائشی میچ میں مدعو تھے۔ سینکڑوں کا مجمع تھا۔ لوگ خاص طور سے ہاشم خان کو دیکھنے آئے تھے۔ جب وہ اسکواش کورٹ میں مد مقابل کے رو برو ہوئے تو تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھے اور پا برہنہ تھے:

حرف حق جو دل میں کھٹکتا ہے کانٹے کی طرح

آج اظہار کریں اور خلش مٹ جائے

ہاشم خان کی مہمان نوازی تو تاریخ میں رقم ہے۔ لیکن یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ ہاشم خان کو پشاور کا شولا اور ڈینور کے شرمپ مرغوب ہیں۔ داؤد صاحب نے بتایا کہ ایک شام ہاشم خان سے اجازت چاہی لیکن ہاشم خان نہ مانے۔ تقاضہ کیا کہ کھانا کھا کر جائیے۔ داؤد نے معذرت چاہی۔ ہاشم خان چند لمحے انہیں عجیب نظروں سے دکھا۔ پھر ان کو ساتھ لے کر باورچی خانے میں آئے۔ ڈھکنا اٹھا کر شولا دکھایا۔ اور حکم صادر کیا کہ شولا ساتھ لے جائیں۔

پریڈ کے بعد ہم شہر نوردی کر رہے تھے۔ داؤد صاحب کا فون آیا کہ جھیل کے کنارے پارک میں پہنچ جائیں۔ ہم شولا کی ’’دیگ‘‘ لے کر آ رہے ہیں۔ پارک لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہم ٹیبل ڈھونڈ رہے تھے کہ ایک خاوند بی بی میز پر براجمان کاغذی لفافے سے لنچ نکال کر چبا رہے تھے۔ داؤد کو دیکھ کر عورت بولی ، آپ کو میز چاہئے ہم کھانا کھا چکے۔ یہ میز لے لیں۔ لڑکیوں نے سرعت سے میز پر قبضہ جمایا۔ اتنے میں شولا گرم ہو گیا۔ داؤد صاحب ہاشم ثانی بن گئے۔ دو پلیٹیں بھر کر ان کے سامنے رکھ دیں۔ اور ان کو شولا کی تاریخ سے روشناس کرنے لگے۔ ہم دل ہی دل میں سوچ رہے تھے کہ اگر شولا کھلانا ہی تھا تو کم از کم نظر نواز جوڑے کو کھلاتے۔ وہ عورت تو واجبی سے بھی کم تھی اور مرد خدا کی پناہ۔ اس کے بازو ٹیٹو کے گل بوٹوں اور ناگوار رنگوں سے آراستہ تھے۔ لیکن آج چار جولائی کا دن تھا۔ سارا ہجوم ایک سرور میں ڈوبا ہوا تھا۔ شولا آیا اور اپنی ساری رعنائیوں کے ساتھ آیا۔ زہرہ کے کمال فن اور لذت طعام سے کام و دہن سرشار ہوئے۔ نہ جانے کتنی مدت بعد شولا ہمارے سامنے دھرا تھا۔ پیٹ بھر گیا لیکن آنکھ بدستور بھوکی رہی۔ ہم نیم بیدار اور نیم خوابیدہ جھیل کی لہروں سے نظر بازی کر رہے تھے۔ افراز نے کپ ہماری طرف بڑھایا۔ ہم نے پوچھا یہ کیا ہے۔ کہنے لگے یہ وہ ہے جو شولا کھانے کے بعد نازل ہو جاتا ہے۔ یہ خالص پشاوری سبز الائچی دانہ قہوہ تھا۔ اچانک خمار شولا پکار اٹھا۔
گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی شولا و قہوہ میرے آگے

اگر ہم سپین میں ہوتے تو ضرور Siesta کا اہتمام کرتے۔ لیکن یہ کلوریڈا تھا۔ ہلکی ہلکی خنک ہوا چل رہی تھی۔ آتش بازی رات کو ساڑھے نو بجے شروع ہونا تھی۔ لیکن شہر میں یوم آزادی کے نغمے گائے جا رہے تھے۔ مختلف بینڈ اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ رقص و موسیقی کا اہتمام تھا۔ جھیل کے پارک میں بھی آزادی کے متوالے گٹار لئے دل بہلا رہے تھے۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں رقصاں تھے۔ مے خانوں کے در وا تھے۔ اک نعرہ مستانہ گونج رہا تھا:
چلو کہ مفت لگا دی ہے خون دل کی کشید
 
شام کے اندھیرے گہرے ہوتے ہی جھیل کی طرف متوالوں کی کاریں قطار اندر قطار جادہ پیما تھیں۔ سبھی کو فکر کہ کرسی یا کمبل بچھانے کی مناسب جگہ مل جائے تا کہ تشفی سے آتش بازی دیکھی جائے۔ انتظامیہ کا بھی کمال کہ انہوں نے پارکنگ انتظام کر رکھا تھا۔ وقت مقررہ پر ایک دھماکہ ہوا اور یوں لگا جیسے آسمان کی وسعتوں سے آتشیں لباس میں ملبوس فرشتے قہقہے لگاتے خلا میں رقص کناں تھے۔ ہر دھماکے کے ساتھ روشنیوں اور رنگوں پر داد کے ڈونگے برسائے جا رہے تھے۔ ہر آنکھ روشن تھی۔ ہر چہرہ دمک رہا تھا۔ جھیل کے جھریوں بھرے چہرے پر آتش بازی کا عکس مسرت کی نوید دے رہا تھا۔ دل کی دھڑکنیں پکار پکار کر کہہ رہی تھیں: 
آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی
ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں
ہم جنہیں سوز محبت کے سوا
کوئی بت کوئی خدا یاد نہیں