بھارت میں مسلمانوں کےمسائل

موجودہ حالات جن سے فی الوقت مسلمانان ہند دوچار ہیں، تشویشناک اوردشوار گزار ہیں بلکہ صبر آزما بھی ہیں۔ اس کے باوجود  ہندوستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ آزاد ہندوستان میں مسلمان مختلف ادوار میں چیلنجز کا سامنا کرتے آئے ہیں۔ حکومت اور اقتدار میں  کوئی بھی رہا ہو ، دشواریوں سے دوچار خصوصاً مسلمان اور عموماً کمزور و پسماندہ طبقات ہی ہوئے ہیں۔ اس لیے اگر آج کوئی یہ کہتا ہے کہ موجودہ حکومت مسلمانوں کے تعلق سے حد درجہ سخت ثابت ہورہی ہے، تو ایسے اشخاص کو وہ دن بھی یاد کرلینے چاہیے جب اسی ملک کے چپے چپے پر فسادات ہوئے اور اس میں  نقصان مسلمانوں اور عام انسانوں کے حصہ میں آیا ہے ۔

1946 میں کلکتہ کا فساد جس میں تقریبا 10,000انسان مارے گئے۔  1970میں بھیونڈی، مہاراشٹر کا فساد جس میں 250 لوگوں نے اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا۔ 1980میں مرادآباد ،اترپردیش کا فساد جس میں  400 لوگ ہلاک ہوئے۔ 1984 میں سکھوں کی ہلاکت جس میں اندازاً3000 سکھ ہلاک ہوئے۔1987میں ہاشم پوری میرٹھ کے فسادات۔ 1989میں بھاگلپور، بہار کا فساد جس میں 1000لوگ ہلاک ہوئے۔ 1992 میں بابری مسجد کی شہادت اور پورے ملک میں پھوٹنے والے چھوٹے بڑے بے شمار فسادات جس میں نہ جانے کتنی جانیں ضائع ہوئیں۔ 2002 میں گجرات کے فسادات یا قتل عام ۔ 2006 میں علی گڑھ کے فسادات اور 2013 میں مظفر نگر کے فسادات جس میں تقریبا 450 لوگ ہلاک ہوئے اور پچاس ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے۔ یہ چند بڑے فسادات کا تذکرہ ہے۔ ان کے علاوہ فسادات کی ایک طویل فہرست ہے جسے دیکھ کے محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں آغاز ہی سے فسادات کنٹرول کرنے کا کوئی منصوبہ نہ کل تھا اور نہ آج ہے ۔ نتیجہ میں معاشرے کے منظم و غیر منظم غنڈے موالی اور فسادی لوگ اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوتے آئے ہیں۔ ساتھ ہی ان بے شمار فسادات نے  نہ صرف مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو داؤ پر لگائی گئی بلکہ انہیں معاشی، معاشرتی، تعلیمی  اور تمدنی سطحوں پر بھی منظم و منصوبہ بند انداز میں کمزور کیا گیا۔ اور اس کے لیے یہ فسادات کارآمد ذریعہ ثابت ہوئے ہیں ۔

ہندوستان کی موجودہ صورتحال میں جس خوف وہراس میں مسلمان مبتلاہیں اس میں جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے وہ گرچہ فسادات سے مختلف ہے اس کے باوجود مقاصد کے حصول میں وہ مدد گار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کا وزیر اعظم فسادیوں کو متنبہ کرتا ہے۔ لیکن لا اینڈ آڈر کی صورتحال کمزور ہونے کی بنا پر ان کے حوصلے بلند ہیں ۔ ساتھ ہی وہ اپنے ناپاک عزائم میں آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر درج بالا اہم ترین فسادات کا جہاں تذکرہ کیا گیا وہیں ان مقامات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جہاں وہ رونما ہوئے ہیں۔ اس پس منظر میں بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ جنہیں آج ہم کھلا دشمن سمجھتے ہیں گزرے ہوئے کل میں وہ ان مقامات پر اقتدارمیں نہیں تھے۔ اس کے باوجود فسادات ہوئے، مسلمان ہر سطح پر متاثر ہوئے، ان کی پریشانی اور تکالیف کا حل نہیں نکالا گیا اور دوسروں کے بھیانک چہرے دکھا کے چند سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کے ووٹ سے خوب کھلواڑ کی۔ آج ایک بار پھر یہ سلسلہ چل نکلا ہے۔ اس موقع پر جہاں یہ بات اہم ہے کہ کھلے دشمن اور گریبان وآستینوں میں چھپے دشمنوں میں فرق کیا جانا چاہیے۔ وہیں یہ بات بھی اہم ہے کہ اندرون خانہ امت ایک دوسرے کی دشمنی سے بعض آئے۔ مسلکی بنیادوں پر اختلاف اس درجہ سرچڑھ کے نہ بولیں کہ ہم اندر ہی اندر کھوکھلے ہو جائیں۔

اس صورتحال میں تبدیلی جتنی جلدی ممکن ہونی چاہیے ورنہ کل ہم مزید مسائل سے دوچار ہونے والے ہیں۔ نیز یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے جو اس میں کامیاب ہو گیا درحقیقت وہ کامیاب ہے اور جو وہاں ناکام ٹھہرا وہ خسارے میں ہے۔  لہذا خوف و ہراس سے نکلیے، اللہ پہ توکل کیجئے ، اس پر مکمل ایمان لائیے اوراس کے بتائے طریقہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیے ۔ کیونکہ  دنیا میں انسان دوطریقوں سے عموماً پریشانیوں اور تکالیف سے دوچار ہوتے ہیں۔ایک ) جب اللہ کا غضبناک ان پر نازل ہوتا ہے تو دوسرے تب جب ان کو اسلام پر چلتے ہوئے اسے اختیار کرتے ہوئے ، دنیا و آخرت میں درجات بلند کرنے کی غرض سے اللہ کی جانب سے آزمائشوں میں ڈالا جاتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ملت کی مجموعی صورتحال کی روشنی میں آج ہم جن مسائل سے دوچار ہیں وہ آزمائشیں نہیں ہیں بلکہ اللہ کاغضب ہے ۔ اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے زندگی کے جملہ معاملات میں وہی طریقے اختیار کر لیے ہیں جو اہل باطل اختیار کیے ہوئے۔ نیز اہل باطل کے ان طریقوں کو اختیار کرتے ہوئے نہ ہمیں ان سے کراہیت محسوس ہوتی ہے، نہ ہمیں اس کی سمجھ ہے اور نہ ہی مجموعی طور پر امت میں اس جانب بیداری ہی پائی جاتی ہے ۔ پھر کیونکر ہم اللہ کے محبوب ہو سکتے ہیں اور کیونکر اللہ ہماری مدد فرمائے گا۔

قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے:" واقعہ یہ کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا، اس کے لڑکوں کو قتل کرتا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا۔ فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا۔ اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کرکے رکھے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنا دیں اور انہی کو وارث بنا ئیں اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں اور ان سے فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دِکھلا دیں جس کا انہیں ڈر تھا"(سورۃالقصص:4۔6 )۔ مزید فرمایا:"اور موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا ، اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو وہ چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور آخری کامیابی انہی کے لیے ہے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں"(سورہ العراف127۔128)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی بتائی کہ :"یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اورمنکر سے منع کریں گے۔ اور تمام معاملات کا انجامِ کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔"(سورۃ الحج:41)۔

موجودہ حالات میں نیز زماں و مکاں کی قیود سے بالاتر ہر زمانے میں مسلمانوں کے لیے لازم ہے کہ وہ قرآن حکیم کی ایک ایک آیت پر غور و فکر کریں اوراپنی انفرادی واجتماعی زندگیوں میں تبدیلی لائیں۔ وہیں اس موقع پر درج بالا آیات کی روشنی میں غور و فکر کرنے والوں کی لیے ہدایات اور رہنمائی ہے۔ لازم ہے کہ ہم اپنا جائزہ لیں ، احتساب کریں اور آیات کی روشنی میں لائحہ عمل تیار کریں۔