جمہوریت ، کرپشن اور فکری مغالطہ

پاکستانی معاشرے میں  جمہوریت کو تقویت دینے کے حوالے سے  پرجوش اور فکری مباحث دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ یہ رجحان صحت مند معاشرے کی عکاسی کرتا ہے ۔ جو معاشرہ فکری مباحث کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے، وہی ترقی کرتا ہے۔  لیکن المیہ ہے کہ یہاں فکری مباحث میں بلاوجہ  سیاسی مغالطے اور سیاسی بنیا د پر الجھنوں کو شعوری یا لاشعوری طور پر پیدا کرکے مثبت تبدیلیوں کا راستہ روکا جاتا ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہاں اب فکری ، سیاسی اور پسند و ناپسند کی بنیاد پر  تقسیم گہری ہوتی جارہی ہے ۔ لوگ اپنی اپنی باتوں کی دلیل بھی رکھتے ہیں اور اس میں شدت بھی ، لیکن  اس میں ہمیں عقل ودانش سے زیادہ جذباتیت کا عنصر زیادہ نمایاں نظر آتا ہے ۔

جمہوریت اور قانون کی حکمرانی میں کرپشن او ربدعنوانی کا خاتمہ کرنے کے لیے احتساب بھی ضروری ہے ۔ جہاں بھی جمہوری نظام مضبوط ہوگا وہاں قانون کی حکمرانی ہوگی ۔ ایسا نظام جو تفریق یا طبقاتی بنیاد پر نہیں بلکہ سب کے لیے ایک قانون کی بنیاد پر چلتا ہو، وہی سب کے لیے قابل قبول ہو سکتا ہے اور بہتر ساکھ رکھتا ہے ۔ اس وقت پاکستان کے سیاسی منظر نامہ میں  فریقین کے درمیان جمہوریت اور احتساب کے معاملے میں معاملات زیر بحث ہیں ۔ ہم ان معاملات کو جوڑ کر دیکھنے کی بجائے سیاسی تنہائی میں دیکھتے ہیں جو عمومی طور پر لوگوں میں بلاوجہ کی تقسیم پیدا کرتا ہے ۔ جمہوریت سے وابستہ افراد جمہوریت کے لیے باتیں تو بڑی بڑی کرتے ہیں یا اپنی کمٹمنٹ ضرور دکھاتے ہیں ، لیکن جب ان کے سامنے کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمہ کے لیے احتساب کی بات کی جائے تو وہ اسے بڑی شدت سے جمہوریت کے خلاف سازش کہتے ہیں ۔

ایک طبقہ وہ ہے جو ملک میں کڑے احتساب کا حامی ہے ، اس کے سامنے جب جمہوریت کا مقدمہ یا تسلسل کی بات کی جائے تو وہ کہتا ہے کہ بھاڑ میں جائے یہ نظام پہلے احتساب ہونا چاہیے ۔ اس طبقہ کے بقول جمہوری لوگ احتساب کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور وہ سیاسی سمجھوتوں کی بنیاد پر احتساب اور شفافیت پر سیاسی سمجھوتے کرکے اپنے ذاتی اور خاندانی مفادات کو تقویت دیتے ہیں ۔ یہاں سیاسی جمہوری حکومتیں ہوں یا فوجی حکمران  سب نے بنیادی طور پر ’’ احتساب کے عمل کو ‘‘  سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ۔ اول تو جیسے کہا گیا احتساب پر سیاسی سمجھوتے کیے گئے۔ دوئم احتساب کو اپنے مخالفین کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا گیا ۔ اس میں سیاسی اور فوجی طبقہ دونوں شامل رہے ہیں ۔ فوج نے بھی جب اقتدار پر قبضہ کیا تو اس کا اہم نعرہ احتساب ہی رہا  لیکن وہ بھی اپنی سیاسی بقا کے لیے سیاست اور احتساب پر خاموش ہوجاتے ہیں۔

ایک عجیب مغالطہ یہ ہے کہ جب بھی اس ملک میں کڑے احتساب کی بات کی جائے تو یہاں کا حکمران سمیت دیگر سیاسی طبقہ اس کو جمہوریت کے خلاف ایک بڑی سازش سے جوڑتا ہے ۔ حالانکہ احتساب اور جمہوریت ایک دوسرے سے متصادم نہیں ، لیکن ہمارا حکمران طبقہ اپنے حصہ کی کرپشن کو چھپانے کے لیے جمہوریت کو بطور ڈھال بناتا ہے ۔ سیاسی طبقہ سمیت اہل دانش کا ایک بڑا طبقہ بلاوجہ یہ دلیل دیتا ہے کہ کرپشن آج کی دنیا میں سرمایہ درانہ نظام کا حصہ ہے ، اس سے خوف زدہ ہوکر ہمیں جمہوری نظام پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے ۔ بحث یہ نہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ جمہوری قوتیں خود سے کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف غیر معمولی اقدامات کرنے ، قانون سازی کرنے اور اس پر عملدرآمد کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتیں ۔ وجہ صاف ہے کہ اگر جمہوریت سے وابستہ حکمران طبقات کا اپنا دامن کرپشن اور بداعمالیوں سے خو د پاک نہیں ہوگا، وہ کیسے اس کے خاتمہ میں کردار ادا کرسکتے ہیں ۔

اسی طرح جان بوجھ کر یہ مغالطہ بھی پھیلایا جاتا ہے کہ اگر کوئی کرپشن ، بدعنوانی اور کڑے احتساب کی بات کرے تو اس پر ہم جمہوریت دشمن ہونے کا سیاسی فتوی لگاکر اسے دیوار سے لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ شفافیت پر مبنی نظام اور کرپٹ لوگوں کو قانون کی شکنجے میں لانا جمہوری نظام کی بنیاد ہے ۔ ایک بحث یہ بھی موجود ہے کہ احتساب کا عمل فوج کرے یا عدلیہ اس کی ہر صورت حمایت کی جانی چاہیے ۔ پہلی اولین شرط تو جمہوری حکومت ہوتی ہے اور یہ  اس کے مینڈیٹ میں شامل ایک اہم نکتہ ہوتا ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب  جمہوری حکومتیں شفافیت پر مبنی نظام کے لیے احتساب کے عمل کو اپنی اہم ترجیحات کا حصہ نہیں بنائیں گی اور سمجھوتے کریں گی تو لوگوں میں بلاوجہ اس کے متبادل راستوں کی بحث شروع ہوتی ہے ۔

اس وقت بھی اگر آپ  سیاسی منظر نامہ پر پانامہ کے مقدمہ کو بنیاد بنا کر نظر ڈالیں تو ساری بحث احتساب اور جمہوریت کے دفاع میں نظر آرہی ہے ۔ لوگ اس میں سازشوں کی بو محسوس کررہے ہیں اور ان کو لگتا ہے کہ احتساب کے نام پر ماضی کے کھیل کو دوبارہ دہرانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اس کا راستہ روکنا ہے تو وہ بھی جمہوری قوتوں کو اپنے ہی جمہوری نظام میں تلاش کرنا چاہیے۔ اس میں شفافیت اہم ہے۔  جہاں سب کا احتساب بلاتفریق ہوتا ہو۔ جب لوگ فوج سے یا عدلیہ سے احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس کی وجہ ان کی ان طبقات سے محبت نہیں بلکہ حکمران طبقات سے بڑھتی ہوئی مایوسی ہوتی ہے ۔ ہم یہ مایوسی کیوں پیدا کرتے ہیں کہ جمہوری نظام خود شفاف اور بلاتفریق احتساب کے عمل میں رکاوٹ ہے ۔

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ملکی نظام میں کرپشن ، بدعنوانی اور احتساب کوئی اہم مسئلہ نہیں ان کو اپنے رویوں میں نظر ثانی کرنی چاہیے ۔ کیونکہ اب یہ مسائل دنیا بھر کی سیاست میں اہم ہیں۔  کئی ملکوں نے ان میں نئی اور جدید اصلاحات کرکے اپنے نظام کو شفاف بنایا ہے ۔ ہم نے اسی دہائی یا چند برسوں میں بہت سے ممالک دیکھے ہیں جہاں کرپشن اور بدعنوانی کی بنیاد پر حکمرانوں کو عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا۔  نئی نسل میں یہ بحث بڑھ رہی ہے کہ ہمارا حکمرانی کا نظام بدعنوانی میں ملوث ہے۔ اس نئی ابھرتی ہوئی مزاحمت کو ہمارے حکمران طبقات کو بھی سمجھنا چاہیے۔ یہ کہہ کر یہ نوجوان ناسمجھ ہیں اور محض ان کو جذباتی بنیاد پر نمٹنا درست حکمت عملی نہیں ۔

دنیا میں حکمرانی کا نظام چاربنیادوں پر شفاف ہوتا ہے ۔ اول  صاف ستھری اور شفاف قیادت ہر شعبہ میں لائیں جو خود ہی شفافیت پر مبنی نظام کو قائم کرے اور نظام چلائے ۔ دوئم  ریاستی اور حکومتی اداروں کو اتنا مضبوط اور خود مختار بنادیں کہ وہ حکمرانوں کے تابع ہونے کی بجائے قانون کی حکمرانی کے تابع ہو، لیکن اس کے لیے بھی مضبوط سیاسی اور انتظامی کمٹمنٹ کی ضرورت ہے۔ سوئم ملک میں احتساب کا نظام موثر اور بلاتفریق ہو تواسے نظام میں موجود خرابی پیدا کرنے والوں کا راستہ روکا جاسکتا ہے اور پیغام دیا جاسکتا ہے کہ ان معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کی جائے گا۔ چہارم  حکمرانی کے نظام میں معاشرے میں موجود طبقات کے درمیان اتحادی امکانات اور دباؤ کی سیاست کو مضبوط  کیا جائے۔  اس کے برعکس اگر ہمارے ریاستی ادارے ، حکومتیں اور سیاسی جماعتوں سمیت دیگر طبقات میں موجود مافیا کے طاقت ور عناصر کے مابین کوئی باہمی گٹھ جوڑ ہوجائے اورایک دوسرے کے ذاتی اور خاندانی مفادات کو ملک کے مفادات پر ترجیح دی جائے تو پھر نظام چاہے وہ کتنا ہی جمہوری کیوں ہو، لوگوں میں اپنی اہمیت اور ساکھ کھودیتا ہے۔ اس لیے یہاں جو لوگ بھی  جمہوریت کا مقدمہ لڑتے ہیں ان کو  اس لڑائی میں احتساب اور شفافیت پر مبنی نظام کو بھی بنیاد بنانا چاہیے۔ اس بحث میں نہیں الجھنا چاہیے کہ احتساب سے جمہوری نظام کو کوئی خطرہ ہے ۔ یہ بحث حکمران طبقات، بالادست طبقات اور اس کرپٹ مافیا کی ہے جس نے جمہوریت کو ڈھال بنالیا ہے۔

ہماری نئی نسل کو بھی مباحث اور سوشل میڈیا پر جمہوریت اور احتساب دونوں  کو ملا کر  نظام کو مضبوط بنانے کے لئے کام کرنا چاہیے۔ دوسروں کو بھی ترغیب دینی چاہیے کہ وہ ان مباحث میں بھی حصہ لیں اور عملی طور پر سیاسی جدوجہد کا حصہ بن کر ملک میں جمہوریت اور شفاف حکمرانی پر مبنی نظام کے لئے کام کریں۔  ہمیں جمہوریت اور احتساب دونوں درکار ہیں اور اس میں سے کسی ایک پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔