سراج الحق سے ایک مکالمہ

سراج الحق نہ خوش ہیں، نہ افسردہ۔ نہ پرامید ہیں۔ ان کو نہ منظرنامہ دھندلا لگ رہا ہے۔ لیکن منظر نامہ صاف بھی نہیں دکھائی دے رہا ۔ وہ کنفیوزہیں بھی اور نہیں بھی ۔ پانامہ میں جو کچھ ہوا ہے وہ اس سے خوش بھی ہیں اور ناخوش بھی ۔ ان کیلئے یہ اچھا بھی ہوا ہے اور برا بھی ۔ لیکن پھر کہنے لگے کہ اللہ پاکستان کیلئے بہتر کرے۔

میں سراج الحق سے یہ گفتگو پاکستان کے ایک علاقہ کمراٹ میں کر ہا ہوں۔ کمراٹ دیربالا میں تو ہے لیکن نہیں بھی ہے۔ کوہستان سے بھی دو گھنٹے کی مسافت کے بعد جب ہم یہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہماراپاکستان کوئی رابطہ نہیں۔ نہ یہاں ٹی وی ہے، نہ موبائل ۔ نہ انٹرنیٹ۔ ویسے تو یہاں پہنچنے کیلئے سٹرک بھی نہیں ہے۔ میں یہاں آ تو گیا ہوں واپس آنے میں بھی مشکل لگ ہی ہے۔ لاہور میں برادرم امیرالعظیم کے ذریعے دعوت ملی کہ انہوں نے کوہستان میں جلسہ رکھا ہے اور اس کے بعد کمراٹ جانے کا ارادہ ہے۔ پکنک ہے۔ آپ کو دعوت ہے۔ ویسے توسراج الحق کی شخصیت ایسی ہے کہ انکار کا سوال پیدا نہیں ہوتا ۔ اور کمراٹ نے الگ لالچ پیدا کیا ۔ لیکن یہاں پہنچ کر معلوم ہوا ہے کہ لالچ واقعی بری بلاّہے ۔ رات دیر تک سراج الحق صاحب کے اس چھوٹے سے کمرے میں پاکستان کی سیاست پر تفیصل سے بات ہوتی رہی۔

میں نے کہا آپ نے پانامہ کے بحران سے ملک میں جمہوریت کو کمزور کیا۔ کیا آپ بھی ان قوتوں کے ساتھ ہیں جو جمہوریت کے خلاف سازشیں کر ہے ہیں۔ وہ کہنے لگے میں نے گزشتہ چار سال میں جمہوریت کی مضبوطی کیلئے حکومت یا آپ کہہ سکتے ہیں نواز شریف کا بھر پور ساتھ دیا ہے۔ آپ دیکھیں کہ جماعت اسلامی کا یہ بھی موقف تھا کہ گزشتہ انتخابات شفاف نہیں تھے۔ دھاندلی ہوئی تھی ۔ لیکن جب عمران خان نے دھاندلی کے خلاف دھرنا دیا تو میں نے جمہوریت کی بقاء کیلئے عمران خان کا ساتھ نہیں دیا۔ آپ کو اندازہ نہیں کہ مجھ پر تحریک انصاف سے کتنا دباؤتھا ۔ ایک ملاقات میں جب پوری تحرک انصاف کی قیادت ہمیں دھرنے میں شریک ہونے پر قائل کر رہی تھی تو میں نے عمران خان سے بھی کہا تھا کہ مجھے ڈرہے کہ تمہارے اس دھرنے کے نتیجے میں جمہوریت چلی جائے گی ۔ ہم اس کمزور اور دھاندلی والی جمہوریت سے بھی ہاتھ دھوبیٹھیں گے۔ مجھے یہ دھاندلی والی جمہوریت آمریت سے بہتر لگتی ہے۔ آپ دیکھیں کہ ہم نے حکومت اور تحریک انصاف میں ڈیڈلاک ختم کیا۔ آج جب ن لیگ مجھے پانامہ کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ وہ یہ بھول جاتی ہے کہ دھرنے کے دنوں میں یہ وہی سراج الحق ہیں جس کی وہ ہر وقت تلاش کرتے تھے ۔ میں کراچی تھا اور چودھری نثار علی خان مجھے کہہ رہے تھے کی آپ فوراً اسلام آباد آ جائیں۔ کوئی فلائٹ نہیں تھی ۔ حکومت جہاز بھیج رہی تھی ۔ نہ تب حکومت کا دوست تھا اور نہ اب حکومت کا دوست ہوں۔ میں تب بھی جمہوریت کا دوست تھا ۔ آج بھی جمہوریت کا دوست ہوں۔

وہ کہنے لگے جب پانامہ کا معاملہ آیا ہم نے کرپشن فری پاکستان تحریک شروع کر رکھی تھی ۔ جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ جمہوریت اور کرپشن اکٹھے نہیں چل سکتے ۔ خواجہ سعد رفیق میرے پا س منصورہ آئے اور انہوں نے کہا کہ بس جنرل راحیل شریف کو ریٹائر ہولینے دیں۔ آپ کی تحریک سے جمہوریت کو خطرہ ہو گا۔ ہمیں بھی خطرہ لگا کہ کہیں جنرل راحیل ان کی چھٹی نہ کر دیں ۔ ہم نے تحریک کو ٹھنڈا کیا۔ لیکن اب تو جنرل راحیل بھی چلے گئے ہیں۔ اب جمہوریت کو کیا خاطرہ ہے۔ ایک فرد جمہوریت نہیں ہو سکتا ۔ نواز شریف جمہوریت نہیں ہے۔ جمہوریت ایک نظام کا نا م ہے ۔ ایک نظام حکومت ہے۔ یہ بادشاہ یا فردواحد کا غلام نہیں۔ یہ عوام کی خدمت کا نا م ہے۔ آپ مجھے بتائیں کہ ہم نے کب کہا ہے کہ ن لیگ کا اقتدارختم کر دیں۔ نیا وزیراعظم لانا کو ئی جمہورت کو خطرہ نہیں ۔ جمہور ی ممالک میں سیاسی جماعتیں اپنے وزرائے اعظم دوران اقتدار بدلتی رہتی ہیں۔ چاہے اس کی مثال مغرب سے لے لیں۔ چاہے اس کی مثال مشرق سے لے لی جائے ۔ جس کو جگہ پسند ہے وہا ں سے مثال لے ۔ اگر لندن فلیٹ پسند ہیں تو وہاں کی مثال لے لیں۔ کیا وہاں وزیراعظم تبدیل نہیں ہوتا۔ لیکن جمہوریت بھی چلتی ہے۔اور اقتداربھی چلتا ہے۔

میں نے کہا اب کیا ہو گا۔ وہ مسکرائے کہنے لگے میری خواہش ہے کہ کچھ نہ ہو ۔ سب سکون رہے۔ قانون کی حکمرانی رہے۔ میں نے کہا کہ اگر عدلیہ نے عمران خان کو بھی نااہل کر دیا۔ انہوں نے کہا عدلیہ کا ہر فیصلہ سب کو قبول کرنا چاہئے ۔ عدلیہ کے فیصلوں کی پابند یسے ہی ملک میں قانون کی حکمرانی ہو گی۔ اگر ہم نواز شریف کو کہہ رہے ہیں کہ عدلیہ کا فیصلہ قبول کریں تو عمران خان کو بھی کہیں گے کہ عدلیہ کا فیصلہ قبول  کریں۔ اگر کل عدلیہ میرے بارے میں بھی کوئی فیصلہ کرتی ہے تو وہ بھی قبول ہوگا ۔ اسی کو جمہوریت کہتے ہیں۔ عدلیہ سے بغاوت کو تو جمہوریت نہیں کہاجا سکتا۔ گفتگو میں کوئی سنسنی نہیں تھی ۔ خبر بھی نہیں تھی۔ وہ محتاط بھی تھے اور شاید حالات کی سنگینی کا انداذہ بھی تھا۔ وہ اب مزید نواز شریف کو برا بھلابھی نہیں کہنا چاہتے تھے ۔ کہنے لگے جب میں عمران خان کو دھرنا ختم کرنے کا کہتا تھا تو اچھاتھا ۔اور جب پانامہ کے آنے کے بعد انہیں استعفی دینے کاکہتا ہوں تو براہوں ۔آپ دیکھیں ہم سے دونوں ہی ناراض ہیں ۔ لیکن ہم اصول کے ساتھ ہیں۔ جمہوریت کے ساتھ ہیں۔ میں نے کہا اب دونوں میں آپ کسی کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ نہیں کریں گے۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے کہ کیا پچھلے انتخابات میں انہوں نے کی تھی ۔ یہ ایڈجسٹمنٹ کی کہانی بھی ختم ہونی چاہئے ۔ میں اس کے خلاف ہوں ۔ اچھا ہے اب جماعت اسلامی کو پتہ ہے کہ دونوں نے ایڈجسٹمنٹ نہیں کرنی۔ خود کرنی ہے۔

میں نے کہا اب کیاکرنا ہے ۔ وہ کہنے لگے اب تو سفر شروع ہوا ہے ۔ پانامہ منزل تو نہیں پہلاسٹاپ ہے۔ آپ ہمارے اور دوسروں کے موقف میں فرق ہی نہیں سمجھتے ۔ وہ صرف پانامہ اورنوازشریف کے احتساب کی بات کر رہے تھے منزل انہیں ملی ہوگی ۔ ہم سب کے احتساب کی بات کر رہے تھے۔ جماعت اسلامی کی پہلی پیٹیشن میں پانامہ میں شامل ساڑھے چار سو افراد کے نام تھے۔ ہم وہیں کھڑے ہیں احتساب ہو گا۔ پانامہ میں صرف نواز شریف کا احتساب تو نوازشریف کے ساتھ زیادتی ہو جائے گی ۔ ہم یہ جانتے تھے کہ پہلے حکمران کا احتساب ہو گا ۔ لیکن باقی کو معافی نہیں مل سکتی ۔ یہ فیصلہ آلینے دیں ۔ اس کے بعد پانامہ کے باقی مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کی جنگ لڑنی ہے۔ میں نے کہا اس میں تو آپ کے دوستوں اور حلیفوں کے بھی نام ہیں ۔ وہ کہنے لگے کیا فرق پڑتا ہے۔ کیا جماعت اسلامی سے کسی کا نا م ہے تو بتاؤ۔ اس کو پہلے نکال دیتے ہیں ۔ باقی احتساب سب کا ۔ دوستوں اور دشمن میں کوئی فرق نہیں ۔ اپنے اور پرائے میں کوئی فرق نہیں۔ اگر نواز شریف کے لئے پانامہ ناجائز ہے دوستوں کا پانامہ کیسے جائز ہو سکتاہے ۔آپ بے فکررہیں ۔ سب کی باری آرہی ہے ۔ ہم نے اس پر پہرہ دینا ہے۔ یہی تو جماعت اسلامی کا اصل امتحان ہے۔