بھارتی درندگی انسانیت کی توہین ہے

دنیا کہ جن ملکوں نے ترقی کی ہے اور جو کر رہے ہیں ان ممالک نے تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دی ۔ پھر کچھ یوں ہوا کہ تعلیم اور تہذیب جدا جدا ہوگئے۔ تعلیم کی ترقی جاری ہے مگر تہذیب جیسے آخری سانسیں لے رہی ہے۔ صرف تعلیم کی ترقی نے انسان میں  جدید ترین  ہتھیاروں کی دوڑشروع کروا دی اور آج دنیا کا ہر ملک اس دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی انتھک تگ و دو میں مصروف ہے۔ یہ وہ ہتھیار ہیں جن سے صرف انسانوں کا ہی نہیں بلکہ انسانیت کا قتلِ عام ہو رہا ہے۔ معاشرتی نظام تباہ ہوتے جا رہے ہیں۔ انسان انسا ن سے خوفزدہ ہے۔ اس خوف نے انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنادیا ہے ۔

اس تصادم میں سب سے زیادہ پسنے والے مسلمان ہیں۔ بوسینیا ہو یا کشمیر اور فلسطین۔ غاصبوں کی بربریت نے ایک تاریخ رقم کی ہے ۔  دنیا میں امن قائم کروانے والے ٹھیکے دار آج تک اس پر دھیان دینے سے قاصر رہے ہیں۔ دنیا ترقی کرتی جا رہی ہے۔ ایک سے بڑھ ایک سہولیات  ایجاد ہو رہی ہیں۔ مگر فلسطین کا بچہ بچہ آج بھی آزادی کی جنگ پتھروں سے ہی لڑرہے ہیں۔ کشمیر میں ہونے والے مظالم کی ایک طویل داستان ہے۔ کشمیر میں بھارت نے ریاستی دہشت گردی کی بد ترین مثال قائم کی ہے ۔ بھارتی قانون نافذ کرنے والے ادارے باقاعدہ سرکاری وردیوں میں ملبوس  خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔

بھارت کی درندگی اب اس کے شہریوں میں بھی سرائیت کرتی جا رہی ہے۔ جس کا منہ بولتا ثبوت سماجی میڈیا پر موجود انگنت ایسی وڈیوز ہیں جن میں بھارتی ہندو مسلمانوں کو بیہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھائے گئے ہیں۔ یہ تشدد ڈنڈوں ، لوہے کی راڈوں اور تیز دھار آلات سے کیا جارہا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے سماجی میڈیا پر بھارتی ہندؤں کی درندگی کی نئی نئی وڈیوز دیکھنے میں آرہی ہیں اس تشدد اور سفاکی کی حد یہ ہے کہ مرجانے کے باوجود ان لاشوں کی بے حرمتی بھی  کی جاتی ہے۔ کچھ ایسی وڈیوز بھی ہیں جن میں گائے کی وجہ سے لوگوں کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔  نہتے مسلمان بھائیوں پر بہیمانہ تشدد دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ معلوم نہیں یہ سلسلہ کب سے چل رہا ہے مگر اب سماجی میڈیا نے یہ مکروہ حرکات  دنیا میں عام کرنا شروع کردئیے ہیں۔

ایک بار پھر بھارت کی انتہا پسند ی کھل کر دنیا کے سامنے آگئی ہے۔ مگر دنیا نے اس سے پہلے کچھ کیا ہے جو اب کرے گی۔ ایک طرف تو تعلیم ایسا شعور اجاگر کرتی ہے کہ ایک دوسرے کے مذہب کا احترام  کیا جاتا ہے۔ ایک دوسرے کی تہذیب کی پاسداری کی جاتی ہے۔ یوں سمجھ لیجئے تعلیم انسان کے دل اور دماغ کی نہ صرف گرہیں کھولتی ہے بلکہ انہیں روشن بھی کردیتی ہے ۔ اس روشنی کی بدولت انسان دوسرے انسان کے احساسات اور جذبات کی قدر کرنے لگتا ہے ۔ بھارت میں ہندو انتہا پسند انسانیت کی تذلیل کررہے ہیں۔  کیا بھارت میں دی جانے والی تعلیم بھارت کو تنزلی کی جانب لے جارہی ہے۔ اپنے آپ کو لبرل کہنے والا ملک ایسی انتہاپسندی کا کیا جواب دے گا ۔

دنیا کہ مہذب ممالک اس ساری صورتحال پر آخر کیوں خاموش بیٹھے ہیں۔ آخر کب تک  بے حسی کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ پاکستان اور دنیا میں ہونے والے  خود کش حملے کہیں اسی بے حسی کا نتیجہ تو نہیں ہیں۔ دنیا کے منصفو بھارتی دہشت گردی اب کہانیوں سے نکل کر چلتی پھرتی ڈراؤنی حقیقت بن چکی ہے۔