ادارہ سازی کا بحران
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 27 / جولائی / 2017
- 4934
اگرچہ پاکستان میں ادارہ سازی کے بحران کے حوالے سے کافی حد تک اتفاق پایا جاتا تھا ، لیکن یہ بحث میڈیا اور فکری مجالس میں ہی سنی جاتی رہی ہیں ۔ لیکن پانامہ کے مقدمہ میں اداروں کے بحران کا سوال عدالت میں بھی اٹھائے گئے ہیں۔ پانامہ مقدمہ میں ریاستی اداروں کی خود مختاری ، شفافیت اور ان کی آزادی پر بنیادی نوعیت کے سوالات اٹھائے گئے ہیں ۔ اگر ہمارے ریاستی ادارے اسی انداز میں کام کررہے ہیں تو ہم اس ملک میں اپنے قومی اداروں کو کیسے شفاف اور فعال بناسکتے ہیں ۔ پانامہ مقدمہ سے قبل بھی کئی بار چیف جسٹس اور دیگر جج اداروں کی بربادی کا ماتم کرتے رہےہیں ۔ پانامہ کا فیصلہ کسی کے حق اور مخالفت میں آئے ، اہم معاملہ یہ ہے کہ اس سے کیا قومی اداروں میں شفافیت کی طرف پیش قدمی ہو سکے گی۔
ایسا نہیں کہ ہمارے ریاستی یا قومی اداروں میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ شفافیت اور فعالیت کے ساتھ کام کر سکتے ۔ پانامہ کے مقدمہ میں ہم نے دیکھا کہ اگر ریاستی اداروں کو خومختاری اور بغیر کسی مداخلت کے کام کرنے دیا جائے تو یہ ادارے اور افراد ہمیں بہتر نتائج دے سکتے ہیں ۔ پانامہ کا مقدمہ شروع ہوا تو لوگوں کو یہ یقین نہیں تھا کہ عدالتیں بھی نظریہ ضرورت کے عمل سے باہر نکل کر طاقت ور لوگوں کا احتساب کے عمل کو آگے بڑھا سکتی ہیں ۔ یہ رویہ جے آئی ٹی کی تشکیل پر بھی تھا کہ جو ادارے شفاف نہیں تھے ، وہ طاقت ور حکمرانوں کی مخالفت میں کیسے رپورٹ دے سکتے ہیں ۔ تاہم یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ اگر ہمارے بڑے ریاستی ادارے اور معاشرے میں رائے عامہ بنانے والی قوتیں ان اداروں کی حمایت کریں تو نتائج مختلف ہوسکتے ہیں ۔
ریاستی اداروں کو اگر ہم نے قانون، آئین اور شفافیت کے انداز میں نہیں چلانا تو پھر یہ ادارے قانون کی حکمرانی کی بجائے افراد یا طاقت ور افراد کی حکمرانی کے تابع ہوجاتے ہیں ۔ نیب، ایف آئی اے ، ایس ائی سی پی ، سی بی آر، احتساب کمیشن کو جس طرح ہمارے حکمران ٹولہ اور طاقت ور افراد نے سیاسی و انتظامی مداخلت سے کرپشن اور بدعنوانی کو تحفظ دینے کے لیے استعمال کیا وہ واقعی قابل شرم ہے ۔ اداروں کے سربراہ اوران کے ماتحت افسران حکمرانوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں ۔ حکمرانی کے نظام نے پوری بیوروکریسی کو تباہ کردیا۔ سیاسی مداخلت اور اپنی مرضی کی تقرریاں اور تبادلوں کی بنیاد پر ان کی حقیقی شکل ہی بگاڑ دی ، جو ریاستی نظام کو کمزور کرنے کا سبب بنا۔ پانامہ کے مقدمہ میں یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ ہمارا حکمران ٹولہ احتساب کے عمل میں قوانین کو منظم کرنے اور اداروں کو موثر و مضبوط بنانے کا کوئی ایجنڈا نہیں رکھتا ۔ اگر حکمرانوں کا یہ ایجنڈا ہوتا تو آج ہمیں اداروں کی بربادی اور بداعمالی کا سامنا نہ ہوتا۔ حکمران دعوے کرتے ہیں ، کہ وہ اصلاحات کے حامی ہیں اور اداروں کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں مگر ان کا اصل ایجنڈا اصلاحات کو اپنی ذات تک محدود رکھنا ہوتا ہے ۔ بنیادی طور پر جب سیاسی جماعتیں اپنے اندر نظام استوار نہ کرسکیں تو وہ معاشرے یا ریاست میں کیسے ادارہ سازی کر سکتی ہیں۔
حکمران پانامہ معاملہ میں سازش کا نام لے کر سیاسی واویلا مچارہے ہیں۔ وہ یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ کرپشن اور بدعنوانی واقعی ایک بڑا مسئلہ ہے اور وہ خود بھی اس کھیل میں شریک کار رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکمران طبقہ کی نااہلی کو چھپانے کے لیے رائے عامہ بنانے والے ادارے اور افراد بھی ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ان کے لیے بطور ہتھیار استعمال ہوکر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ رائے عامہ بنانے والے افراد یا ادارے اس حکمران طبقہ سے یہ پوچھنے کے لیے تیار نہیں کہ کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ اداروں کو بنانے کی بجائے بگاڑتے کیوں ہیں ۔ اس لیے پاکستان میں شفافیت پر مبنی نظام اور اداروں کی خود مختاری ایک بڑا چیلنج ہے ۔ یہ چیلنج اسی صورت میں کوئی قیادت قبول کرسکتی ہے جو خود مضبوط سیاسی کمٹمنٹ ، اداروں کی بالادستی ، جوابدہی ، احتساب اور شفافیت کے نظام پر یقین رکھتی ہو۔ ہماری سیاسی سطح پر موجود قیادت اور بالخصوص بڑی سیاسی جماعتیں جو اقتدار کی سیاست میں شریک رہی ہیں ، ان کا ٹریک ریکارڈ کافی خراب ہے ۔ یہ دلیل جو سیاسی قیادت دیتی ہے کہ ہمیں اسٹیبلیشمنٹ کی وجہ سے کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا اور احتساب بھی محض سیاست دانوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے ، مکمل سچ نہیں ۔ اسٹیبلیشمنٹ کی مداخلت پہلے بھی تھی اور آج بھی ہے۔ سیاسی قیادت کو مشکل حالات میں ہی بہتری کا راستہ تلاش کرنا ہوتا ہے ۔ لیکن یہاں سیاسی قیادت اسٹیبلیشمنٹ کو ڈھال بنا کر خود اپنے مجرمانہ معاملات پر پردہ ڈال کر لوگوں میں تقسیم پیدا کرکے خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
یہ سمجھنا کہ پاکستان میں نواز شریف کی تبدیلی یا ان کی نااہلی سے ملک میں اداروں کی بالادستی کا مسئلہ حل ہوجائے گا ایک معصومانہ تجزیہ ہے ۔ ہمارے یہاں معاملات کو دیکھنے میں جذباتی رنگ نمایاں ہوتا ہے ۔ ہم فوری طور پر ہونے والے واقعات سے بڑی توقعات وابستہ کرکے بہت سے لوگوں میں بلاوجہ کی توقعات بڑھاتے ہیں ۔ یہ بات درست ہے کہ بعض واقعات جیسے پانامہ کا معاملہ ہے وہ ریاست کے سامنے آگے بڑھنے کے لیے مواقع فراہم کرتا ہے ۔ اب یہ ریاست، حکومت پر منحصر ہے کہ وہ ان مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا اپنی کمزوریوں یا ذاتی مفادات کی وجہ سے انہیں نظر انداز کرکے قومی مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ بنیادی طور پر ادارہ سازی کا عمل ایک لمبی مدت کا منصوبہ ہے۔ اس کے لیے ریاست، حکومت کے سامنے ایک عملی ہوم ورک ہوتا ہے۔ جس کا فقدان ہمیں ریاستی امور میں غالب نظر آتا ہے ۔
اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے ریاستی امور سے تعلق رکھنے والے فریقین ہوش کے ناخن لیں اور سمجھیں کہ ہمارا بحران سنگین ہے۔ ہمیں کسی قسم کے فکری مغالطوں میں الجھنے کی بجائے ذمینی حقائق کو قبول کرنا چاہیے۔ اس کام میں کوئی شارٹ کٹ نہیں بلکہ یہ ایک لمبی جنگ ہے ۔ اس کے لیے ہمیں ریاستی وحکومتی سطح پر ایک طویل منصوبہ بندی درکار ہے ۔ لیکن یہ کام آسانی سے نہیں ہوگا ۔ اس کے لیے ہمیں تمام فریقین کو جھنجھوڑنا ہوگا کہ وہ ماضی کی تاریکیوں سے نکل کر آج کی حقیقت کو قبول کرکے خود بھی آگے بڑھیں اور دوسروں کو بھی اس عمل کا حصہ بنائیں ۔ لوگوں کو سمجھنا ہوگا کہ دنیا میں ممالک شفافیت کی بنیاد پر ہی ترقی کرتے ہیں۔ ہمیں افراد کو اداروں کے تابع کرکے احتسابی عمل کو فروغ دینا ہوگا۔
پاکستان میں وہ طبقہ جو واقعی حقیقی تبدیلی کا خواہش مند ہے اسے پانامہ کے نتائج سے بہت زیادہ خوشی فہمی کی بجائے اس ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہوگا۔ پانامہ کا نتیجہ کچھ بھی ہو یہ بارش کا پہلا قطرہوگا مگر جو ہمارے اداروں میں کمزوریاں اور مسائل ہیں اس کی ایک لمبی فہرست ہے ۔ اصل مسئلہ لوگوں اور اداروں کے درمیان اعتماد سازی کے بحران کا ہے ۔ کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ادارے ہمیں انصاف نہیں دے سکتے۔ جب کہ ملکوں کی ترقی کی بنیادی کنجی ریاستی اداروں اور لوگوں کے درمیان اعتماد سے جڑی ہوتی ہے ۔ اس لیے اداروں کو مضبوط بنانا اس وقت ریاست، حکومت اور قوم سب کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔