متبادل قائد کے طور پر شہباز شریف کی مقبولیت

عوامی سروے کی دنیا بھر میں ایک خاص اہمیت ہے۔ یہ بھی عوامی رائے جاننے کا ایک طریقہ ہے۔ یہ درست ہے کہ جس طرح پاکستان میں جمہوریت مستحکم نہیں ہے۔ اسی طرح یہاں عوامی رائے جاننے کے طریقہ کار بھی مستحکم نہیں ہیں۔ جیسے ملک میں جمہوریت اور سیاست کے خلاف پراپیگنڈہ جاری رہتا ہے۔ ایسے ہی عوامی رائے جاننے کے طریقہ کار کی ساکھ پر بھی ابہام رہتا ہے۔ اسی ابہام کی وجہ سے عوامی سروے کی ابھی تک پاکستان میں وہ اہمیت نہیں ہے جو دیگر جمہوری ممالک کو حاصل ہے۔

ایسا بھی ہوتا ہے کہ عوامی سروے جس کے حق میں آجائے یہ الزام لگا یا جاتا ہے کہ یہ سروے اس نے اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لئے کروایا ہے۔ جس کے خلاف آجائے وہ سروے کے نتیجے میں آنے والی عوامی رائے کا احترام کرنے کی بجائے اس کی ساکھ پر سوالیہ نشان اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مختلف موضوعات پر عوامی سروے کرنے والی کمپنیاں بھی ابھی تک اس قدر عوامی اعتماد حاصل نہیں کر سکی ہیں جو ان کو حاصل ہونا چاہئے۔ لیکن یہ معاملہ تو سب کے ساتھ ہے۔ وہ تنہا نہیں ہیں۔ بہر حال عوامی سروے ایک جمہوری نظام میں عوامی رائے جاننے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اور اس کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی سے جمہوریت مضبوط ہوگی۔

گیلپ پاکستان نے موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں ایک دلچسپ سروے کیا ہے۔ جس میں عوا م سے تین اہم سوال پوچھے گئے ہیں۔ موجودہ ملکی تناظر میں تینوں سوال اہم ہیں۔ اور ان کے جواب بھی حیران کن ہیں۔ پانامہ کے حوالہ سے یہ سوال اہم رہا ہے کہ کیا پانامہ کے سامنے آنے کے بعد میاں نواز شریف کو استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ لیکن اس سوال سے زیادہ ہ اہمیت جے آئی ٹی کی رپورٹ نے حا صل کر لی ہے۔ اس سروے میں 73 فیصد لوگوں نے کہا ہے کہ وہ پانامہ پر جے آئی ٹی کی رپورٹ کو جانتے ہیں۔ انہوں نے اس بارے میں سنا ہے۔ ایک عوامی سروے میں یہ بہت بڑے شرح ہے۔ اگر 73 فیصد پاکستانی جے آئی ٹی کی رپورٹ کو جانتے ہیں۔ یقینا ان لوگوں کی جے آئی ٹی کی رپورٹ پر ایک رائے بھی بن گئی ہوگی۔ جو پاکستان کے جمہوری مستقبل میں بہت اہم ہوگی۔

جہاں تک نواز شریف کے استعفیٰ کا تعلق ہے۔51 فیصد پاکستانیوں کی رائے ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کو استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ جبکہ 49 فیصد پاکستانیوں کی رائے ہے کہ میاں نواز شریف کو جے آئی ٹی کی رپورٹ کا مقابلہ کرنا چاہئے اور استعفیٰ نہیں دینا چاہئے۔ اگر اس سروے کے مندرجات کو درست مان لیا جائے تو فرق بہت کم ہے۔ اس طرح تو میاں نواز شریف نے استعفیٰ نہ دے کر کوئی خاص گھاٹے کا سودا نہیں کیا۔ بلکہ مزاحمت بھی ایک آپشن تھا جس کو عوامی قبولیت حا صل ہے۔ لیکن یہ سب اب ماضی کا حصہ ہے ۔ استعفیٰ مانگنے والے اب استعفیٰ نہیں مانگ رہے۔ استعفیٰ دینے اور مانگنے کا مرحلہ گزر گیا ہے۔ اب تو فیصلے کا وقت ہے جو بھی ہونا ہے فیصلے کی روشنی میں ہی ہونا ہے۔ سب ہی فیصلے کے انتظار میں ہیں۔ فیصلے پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ اور ان قیاس آرائیوں کی روشنی میں ملک کے سیاسی مستقبل پر تجزیہ بھی جاری ہے۔ سیاست ناممکن کو ممکن بنانے کا کھیل ہے۔ یہ جہاں عوام کی نبض کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر اپنی منزل حاصل کرنے کا کھیل ہے وہاں عوام کے پیچھے لگنے کی بجائے عوام کو اپنے پیچھے لگانے کا بھی کھیل ہے ۔عوامی رائے کے سمندر میں بہنے کی بجائے عوامی رائے کا دھارا اپنے حق میں موڑنے کا بھی نام سیاست ہے۔ جو لیڈر عوامی رائے کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہوں وہی ایک کامیاب لیڈر ہے۔ 

میں تو پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ پانامہ کیس جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد مسلم لیگ (ن) میں متبادل قیادت کے لئے ایک ہی نام شہباز شریف کا ہے۔ اگر میاں نواز شریف  نا اہل ہوتے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کو کسی اور کو آگے لانا ہے توشہباز شریف واحد نام ہے جو یہ خلا پر کر سکتا ہے۔ اس ضمن میں ان کا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں۔ ان کے مقابلے میں سامنے آنے والے نام ان کے مقابلے میں سیاسی قد میں چھوٹے ہیں۔ اور مسلم لیگ (ن) میں ان کی قبولیت پر بھی سوالیہ نشان موجود ہیں۔  گیلپ کے اس سروے کے مطابق 59 فیصد لوگوں کو شہباز شریف بطور متبادل قیادت اگلے وزیر اعظم قبول ہیں۔ جہاں صرف 51 فیصد نواز شریف کے استعفیٰ کے حق میں ہیں۔ وہاں  انہی لوگوں میں سے اتنی بڑی تعداد کا شہباز شریف کو اگلے وزیر اعظم کے طور پر قبول کرنا ایک واضح اعلان ہے کہ شہباز شریف ہی آگے آئیں گے۔

میرے خیال میں شہباز شریف کو فوری وزیر عظم بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے بلکہ فی الحال انہیں وزیر اعلیٰ کے طور پر کام جاری رکھنا چاہئے۔  ابھی جو بھی  وزیر اعظم بنے گا،  وہ شہباز شریف کے لئے کوئی چیلنج نہیں۔ ایک تو نئے وزیر اعظم کے پاس وقت بہت کم ہوگا۔ سیاسی بحران شدید ہوگا۔ اس کی ساکھ  اور گروپ بندی کے حوالہ سے بھی تنازعات ہوں گے۔ یہ سب شہباز شریف کی مقبولیت میں اضافہ کریں گے۔ اور ہر گزرتا دن یہ باور کروائے گا کہ شہباز شریف مسلم لیگ (ن) کی ضرورت ہے۔  ویسے بھی پنجاب مسلم لیگ (ن) کا سب سے اہم مورچہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی سیاست کا دارومدار پنجاب پر ہی ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) پنجاب میں اپنے سیاسی قدم مستحکم رکھنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے اقتدار کو خطرہ نہیں ہوگا۔ ایسے میں اگر شہباز شریف بطور وزیر اعلیٰ پنجاب  مسلم لیگ (ن) کے سیاسی قلعہ کے سپہ سالار رہتے ہیں تو یہ نہ صرف ان کے لئے بہتر ہے بلکہ مسلم لیگ (ن) کے لئے بھی بہتر ہوگا۔

اس موقع پر کسی ضمنی انتخاب میں شہباز شریف کو میدان میں اتارنا  درست سیاسی حکمت عملی نہیں ہوگی۔ بلکہ یہ شہباز شریف کو ضائع کرنے والی بات ہے۔ اس کے دو نقصان ہوں گے۔ پہلا یہ کہ پنجاب غیر مستحکم ہو جائے گا۔ پنجاب اسمبلی میں کوئی ایسی قد آور شخصیت اس وقت موجود نہیں ہے جو اگلے انتخابات سے قبل اس قلعہ کی حفاظت کرے۔ اس طرح مسلم لیگ (ن) خود اپنے قلعہ کو دشمنوں کے لئے کھول دے گی۔ پنجاب میں رانا ثناء اللہ موجود ہیں۔ فوری طور پر انہی کانام سامنے آتا ہے۔ لیکن وہ بھی کافی متنازعہ ہیں۔ یہ درست ہے کہ راجہ اشفاق سرور بھی موجود ہیں لیکن وہ ایسی شخصیت نہیں ہیں جو اس قلعہ کی حفاطت کرسکیں۔ اب کیا مرکز سے کسی کو ضمنی انتخاب لڑوا کر پنجاب اسمبلی میں لایا جائے۔ یہ تو سیاسی حماقت ہی ہوگی کہ پہلے شہباز شریف کو قومی اسمبلی کا انتخاب لڑوایا جائے ۔ پھر مرکز سے کسی کو پنجاب اسمبلی کا انتخاب لڑوا یا جائے۔ یہ سیاسی خود کشی  ہو سکتی ہے، کوئی سیاسی حکمت عملی نہیں ہو سکتی۔

جہاں تک شہباز شریف کو متبادل قیادت کے طور پر قبول کرنے کا تعلق ہے تو یہ شرح بلا شبہ ابھی 59 فیصد ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ اس میں اضافہ ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد شہباز شریف کی قیادت مزید کھل کر سامنے آئے گی۔ جہاں تک شہباز شریف کے مخالفین کا تعلق ہے تو ان کے لئے گیلپ سروے خطرہ کی گھنٹی ہے۔