اف یہ تحائف !

  • تحریر
  • جمعہ 28 / جولائی / 2017
  • 4112

پانامہ کا ہنگامہ اس قدر سنسی خیز اور تسلسل سے برپا ہے کہ اس کے ایک ایک پیچ و خم سے اپنی اپنی پسند کے مطابق کسی کو لاگ ہے تو کسی کو لگاؤ ہے۔ میڈیا ہو یا سوشل میڈیا یا روزمرہ کی گفتگو ، پانامہ سے شروع ہو کر پانامہ پر ہی ختم ہوتی ہے۔ دورانِ تفتیش منی ٹریل کے ساتھ ساتھ کچھ تحفے تحائف کا بھی خوب شہرہ رہا۔ ظاہر ہے کہ یہ تحائف کسی ہما شما کے تو نہ تھے کہ چند سو یا ہزار روپوں کے ہوتے، لہٰذا بات اگر پاکستانی کرنسی میں ہوئی تو کروڑوں اربوں کا ذکر ہوا اور اگر فارن کرنسی میں ذکر ہوا تو لاکھوں بلکہ ملین ڈالرز یا پاؤنڈز میں ہوا، حاصل ضرب جس کا سکہ رائج الوقت میں اربوں سے کم نہ تھا۔

تحفے دینے اور لینے والوں کی اس باہمی مؤدت پر دل باغ باغ ہوا کہ ابھی کچھ لوگ ایسے ہیں اس جہاں میں جو اپنوں کا اس قدر خیال رکھتے ہیں۔ وہ تو برا ہو سیاست کا کہ ان کے ا س بھلے چنگے نیک عمل کی بھی یوں چھان بین شروع ہو گئی کہ لفظ تحفے کو بھی اپنے لالے پڑ گئے۔ رواں ہفتے ہی ایف بی آر کی ایک رپورٹ سے اندازہ ہوا کہ تحائف کا یہ رواج صرف چند سیاست دانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ کئی دریا دل اور بھی ہیں۔ گزشتہ  سال کے دولت گوشوارے اور ٹیکس گوشواروں کے تقابل اورچھان پھٹک پر معلوم ہوا کہ صرف 2,785 دولت مند افراد نے گزشتہ سال 102 ارب روپوں سے زائد کی دولت تحائف کی صورت اپنوں کو دی۔ موجودہ قوانین کے مطابق اپنی دولت میں سے عزیزوں کو تحائف دینے پر ٹیکس عائد نہیں ہوتا ۔ اس لئے اکثر امیرالامراء یعنی High Networth Individuals نے اس استثنیٰ کا دل کھول کر فائدہ اٹھایا۔ تفصیلات کے مطابق تین افراد نے ایک ایک ارب سے زائد دولت بطور تحائف یعنی Gift ظاہر کی۔ سب سے بڑی رقم 1.7 ارب روپے ظاہر کی گئی۔

دوسری کیٹیگری میں آٹھ افراد نے پچاس کروڑ سے ایک ارب روپے کے درمیان دولت بطور تحفہ دوسروں کو دینے کا اقرار کیا۔ ان کے بعد ستانوے لوگوں نے بیس سے پچاس کروڑ دولت تحفے میں دینا ریکارڈ کیا۔ تقریباٌ اتنے ہی لوگوں نے دس سے بیس کروڑ روپے کی دولت تحفتاٌ منتقل کی۔ 280 افراد نے پانچ سے دس کروڑ تک کی دولت اور بقیہ 2,348 افراد نے ایک سے پانچ کروڑ تک کی دولت تحفتاٌ منتقل کی۔ گزشتہ سال کی ٹیکس اور دولت گوشواروں کی تفصیلی جانچ پڑتال اور باہمی تقابل میں یہ انکشافات سامنے آئے۔ ان گوشواروں سے یہ بات سامنے آئی کہ آمدن پر بہت قلیل ٹیکس ادا کیا گیا جبکہ ان کے دولت گوشواروں میں ان کی دولت میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہوئی۔ ایف بی آر کے متعلقہ شعبے نے ان افراد کے نام نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کے خلاف گفٹ کی آڑ میں منی لانڈنگ کی تحقیقات کی تیاری شروع کر دی ہے۔

چند سال قبل آمدن اور دولت پر ٹیکس لگایا جاتا تھا لیکن قانون میں موجود سقم اور دولت کی اصل ویلیو کو حد درجہ کم دکھا کر کامیابی سے انتہائی قلیل ٹیکس ادائیگی سے کام چل رہا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دولت پر بظاہر ٹیکس نافذ ہونے کے باوجود حکومت کو دولت ٹیکس کی مد میں معمولی سے محاصل ہو پاتے ۔ ایسے میں کچھ سمجھداروں نے حکومت کو باور کروایا کہ اس قدر کم محاصل کے لئے حکومت خواہ مخواہ اس تردد میں پڑی ہوئی ہے۔ اگر حکومت دولت ٹیکس نہ لگائے تو اس ملک کے قانون پسند شہری اپنی دولت کو ظاہر بھی کریں گے اور اس دولت کو قانونی طریقے سے گردش میں بھی لائیں گے۔  اور یوں دولت پر ٹیکس کا خاتمہ بالخیر ہو گیا۔ ہاں البتہ یہ پابندی رہی کہ ہر ٹیکس گزار اپنی دولت کا سالانہ گوشوارہ ضرور جمع کروائے گا۔ رہی آمدن پر ٹیکس گزاری تو اللہ بھلا کرے ٹیکس قانون میں ہی کئی گنجائیشیں ایسی ہیں کہ آمد ن ٹھیک ٹھاک بھی ہو تو ٹیکس معمولی سا واجب الادا ہو۔

زرعی آمدن پر ٹیکس نہ ہونے کے برابر ہے ۔ غیر ملک سے زرِ مبادلہ اکاؤنٹ میں رقم آنے پر بھی کوئی پوچھ گچھ نہیں۔ پراپرٹی کے بزنس میں جو بلیک اکونومی کا سب سے بڑا ذریعہ اور کرپشن کی کمائی کی پناہ گاہ ہے زیادہ تر دھندا کیش کی صورت میں ہوتا ہے ۔ کیش سودے اور انتہائی کم ویلیو ظاہر کرنے کی وجہ سے آمدن ٹیکس نیٹ میں نظر ہی نہیں آتی ۔ جس انداز میں گزشتہ پندرہ سالوں میں پراپرٹی کے دام بڑھے اور لوگوں نے دو دو چارسالوں میں دولت دوگنی چوگنی کی ، اسے دیکھ کر ہر ہما شما نے پراپرٹی کا رخ کر لیا۔ پراپرٹی کے نرخوں کو پر لگ گئے۔ یہ تو بھلا ہو حکومت کا کہ اس نے دو سال قبل پراپرٹی کی ویلیویشن کو مارکیٹ کے برابر لانے اور اس پر ٹیکس کی وصولی کی جاندار کوشش کی تو یہ ہر آن بڑھتے ہوئے ریٹ ذرا تھمے ورنہ یہ طوفانِ بلا تھمنے والا لگ نہیں رہا تھا۔ اب بھی یہ عالم ہے کہ پاکستان بھر کے ہر چھوٹے بڑے شہر کے آس پاس انڈسٹری تو ڈھونڈے سے بھی مشکل ملے گی لیکن ہاوسنگ کالونیوں کا نہ ختم ہونے والا پھیلاؤ ہے۔ پراپرٹی سے حاصل ہونے والی دولت بلیک اکونومی کا سب سے بڑا سہارا ہے اور دولت گوشواروں میں چھپانے کے باوجود نظر آنے والی دولت میں بھی زیادہ تر حصہ پراپرٹی ہی کا ہے۔

اکونومی میں مینوفیکچرنگ کا خاصا بڑا حصہ دستاویزی نظم میں آ گیا ہے یا حکومت کی مسلسل کوششوں کی وجہ سے تھوڑا بہت حصہ ٹیکس نیٹ میں آ ہی جاتا ہے، ود ہولڈنگ ٹیکس ، سیلز ٹیکس یا انکم ٹیکس کی شکل میں۔ البتہ ٹریڈنگ کے شعبے میں ٹیکس کی پہنچ اور عمل دخل بہت کم ہے۔ زیادہ تر ٹریڈنگ کیش میں ہوتی ہے، لینے اور دینے والے باہمی رضامندی سے بغیر ٹیکس کے لین دین کر لیتے ہیں۔ اگر کہیں بنکوں کی یا کسی حکومتی ادارے کی مجبوری آن پڑے تو ٹرن اوور ٹیکس یا بنک ٹرانزیکشن کے لئے معمولی شرح کا ود ہولڈنگ ٹیکس ہی ایسے ٹریڈرز کی کل مجبوری ہوتی ہے۔ اس بوجھ پر بھی ہمارے تاجر اور کاروباری حضرات اکثر حکومتِ وقت سے نالاں رہتے ہیں۔ ہماری معیشت میں امپورٹ ہمیشہ ایکسپورٹ سے زیادہ رہی ہے۔ برآمدی شعبے کے زیادہ تر ادارے دستاویزی نظم میں ہونے کی وجہ سے ٹیکس نیٹ میں ہیں لیکن امپورٹرز میں سے اکثر صرف امپورٹ کی حد تک دستاویزی نظم میں ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ امپورٹ کے وقت ان پر عائد ڈیوٹیاں اور ٹیکس ہی ان کی حتمی ٹیکس گزاری ہے۔ اکثر امپورٹرز انڈر انوائسنگ کرکے عائد ٹیکس اور ڈیوٹیوں کا بہت سا حصہ ملی بھگت سے بچا لیتے ہیں۔ بعد میں یہی اشیاء مہنگے داموں بیچ کر حاصل ہونے والا منافع ٹیکس سے قانونی طور پر بچا رہتا ہے مگر دولت گوشواروں میں افزائش پاتا رہتا ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے سے اوور ویلیو روپے کی وجہ سے امپورٹ مزید پر کشش ہے۔ اگر ماہرین کی اس بات سے اتفاق کیا جائے کہ روپے کی قدر کم از کم دس فی صد زائد ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ امپورٹر کو اسی تناسب سے فائدہ ہوا اور ان کی دولت میں اسی تناسب سے اضافہ بھی ہوا۔ اللہ بھلا کرے گفٹ کی قانونی کھڑکی کا، جب دولت جمع کرنا اس قدر آسان ہو تو اس دولت میں سے کچھ حصہ اپنے عزیزوں کو گفٹ کرنے کو کس کا جی نہیں چاہے گا۔ سو اس پر کیا چونکنا کہ کروڑوں اربوں کی دولت یوں سینکروں ہزاروں کی تعداد میں منتقل ہو رہی ہے۔

پانامہ لیکس بنیادی طور پر بلیک منی کی ایک شکل کی نشاندہی تھی لیکن اس میں شامل تمام ناموں سے پوچھ گچھ کی بجائے صرف سیاسی بنیادوں پر طوفان اٹھانے کا نقصان یہ ہوا کہ باقیوں کے بارے کوئی سوال ہے نہ تحقیق نہ تفتیش۔ پونے تین ہزار افراد نے جو ایک سو ارب روپے بطور گفٹ منتقل کئے اس کی ڈالرز میں مالیت ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ کہاں یہ کہ پاکستان ماضی میں سال بھر میں ایک ارب ڈالر سے بھی کم براہِ راست سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا لیکن یہاں صرف پونے تین ہزار افراد نے اس سے کہیں زیادہ دولت گفٹ کی صورت عزیزوں کو دان کر دی۔

کسی دل جلے نے شاید ٹھیک ہی کہا کہ ہمارے ہاں حکومت غریب اور افراد امیر ہیں۔ ماہرین کو معیشت کے اس پہلو سے یوں تشویش ہے کہ ایسی صورت میں دستاویزی نظام رائج ہو پائے گا نہ ٹیکس جی ڈی پی کا تناسب بہتر ہو گا  اور نہ بلیک اکونومی کے حجم میں کوئی کمی ممکن ہوگی۔ منی ٹریل کی ڈھنڈیا اسی کے لئے ہے جو شکنجے میں آ گیا ورنہ ہر چہ بادا باد۔