شاہد خاقان عباسی کون ہیں
شاہد خاقان عباسی مری سے رکن اسمبلی ہیں۔ وہ 1988 میں پہلی دفعہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس سے قبل ان کے والد خاقان عباسی مرحوم 1985 کے انتخابات میں جنرل ضیاء الحق کی کابینہ کے وزیر اطلاعات تھے۔ وہ راجہ ظفر الحق کو شکست دے کر رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ خاقان عباسی مری کے گاؤں دیول سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ائیر فورس میں بھرتی ہوئے۔ اور ائیر کموڈور کے عہدے تک پہنچے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد سعودی عرب میں جنرل ٹائرز کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہوئے۔ اس دوران انہوں نے گاڑیوں کا کاروبار شروع کیا۔ کاروبار میں وسعت کے بعد وہ پاکستان واپس لوٹ آئے۔ 1985 کے انتخابات میں برادری کے اصرار پر الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ مری کے اس حلقے کے ووٹرز برادری وابستگی کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ یہ حلقہ مری اور کہوٹہ پر مشتمل ہے۔ راجہ ظفر الحق کہوٹہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کہوٹہ کوٹلی ستیاں کے ووٹر برادری سطح پر عباسی برادری کو ووٹ نہیں دیتے۔ دوسری جانب عباسی برادری اپنی برادری سے ہٹ کر ووٹ دینا پسند نہیں کرتی۔ پیپلز پارٹی کے بائیکاٹ کے بعد پارٹی کے ووٹرز نے جنرل ضیاء الحق کے وزیر اطلاعات کے مقابلے میں خاقان عباسی کی حمایت کی۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔
1986 میں راولپنڈی میں اوجڑی کیمپ کا سانحہ ہوا۔ افغان جنگ میں امریکی اسلحہ کے ڈپو میں دھماکہ کے نتیجے ہزاروں لوگ زخمی اور کئی سو افراد شہید ہوئے۔ خاقان عباسی اس سانحہ میں شہید ہو گئے اور ان کے ایک بیٹے شدید زخمی ہوئے۔ شاہد خاقان عباسی امریکہ انجیرنگ کی اعلیٰ تعلیم مکمل کرکے واپس آئے اور انہوں نے اپنے والد کا کاروبار اور سیاست کو سنبھال لیا۔ بعد ازاں انہیں بار بار اسی حلقے سے کامیابی حاصل ہوئی۔ سوائے 2002 کے انتخابات میں جب وہ پیپلز پارٹی کے امیدوار غلام مرتضی ستی سے شکست کھا گئے۔ شاہد خاقان عباسی پائلٹ بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے انہیں پی آئی اے کا چیئرمین مقرر کیا۔ بارہ اکتوبر 99 کو جب ایک فوجی آمریت کے ذریعے مسلم لیگ کی حکومت ختم کی گئی تو طیارہ سازش کیس میں شاہد خاقان عباسی کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ان پر شدید دباؤ ڈالا گیا کہ وہ نواز شریف کے خلاف گواہی دیں۔ لیکن انہوں نے اس سے انکار کردیا۔ ان کی یہی ادا ان کے قائد نواز شریف کا دل جیت گئی۔
جنرل (ر) پرویز مشرف دور میں ان کے قریبی رشتے دار جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ ان کے ذریعے بھی ان پر مسلم لیگ چھوڑ نے کا دباؤ ڈالا گیا۔ لیکن انہوں نے مسلم لیگ سے اپنی وابستگی ختم نہ کی۔ والد کے کاروبار کو توسیع دینے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی نجی ائیرلائن ائیر بلیو قائم کی۔ اور اپنے حلقے کے بہت سے نوجوانوں کو روزگار دیا۔ وہ نواز شریف کے قابلِ اعتماد ساتھی شمار کئے جاتے ہیں۔ شہباز شریف ان کے حلقے کے رکن صوبائی اسمبلی اور صوبائی وزیر راجہ اشفاق سرور پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی کی ہمشیرہ سعدیہ عباسی پی ٹی آئی سے تعلق رکھتی ہیں اور وکالت کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ راولپنڈی اور مری روائتی طور پر (ن) لیگ کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے انتخابات میں شاہد خاقان عباسی کی بطور وزیراعظم نامزدگی انتخابی سیاست میں کیا اثرات مرتب کرتی ہے۔