مجرم پنچایت اور حوا کی بیٹیاں
- تحریر محمد ارشد قریشی
- اتوار 30 / جولائی / 2017
- 4496
ہمارے معاشرے کا یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ جب بھی کوئی درد ناک واقع رونما ہوتا ہے تو ہر طرف بہت احتجاج نظر آتا ہے لیکن آہستہ آہستہ یا تو ہم اسے یکسر بھول جاتے ہیں یا پھر کوئی نیا رونما ہونے والا واقعہ گزرے واقعے کا اثر زائل کر دیتا ہے۔ جرگے پنچایت، محلہ کمیٹیاں قارئین کے لئے یہ کوئی نئے نام نہیں اور قارئین یہ بھی اچھے طرح جانتے ہیں کہ ان پنچائیت میں کون لوگ شامل ہوتے ہیں اور پنچائیت کا سر پنچ کسے مقرر کیا جاتا ہے۔
میں اپنے اصل موضوع کی جانب آنے سے پہلے قارئین کی توجہ اس جانب مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ آخر جرگوں، پنچائیتوں یا پھر محلہ کمیٹیوں کے قیام کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی ہے۔ اس کی کئی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ قانون اور انصاف کی کمی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تھانوں اور عدالتوں کی موجودگی میں لوگ اپنے فیصلے پنچایت میں لے جاتے ہیں۔ اگر انصاف کا عمل تیز تر اور قانون کی گرفت مضبوط تر ہو تو پھر نہ ہی کسی جرگے، کمیٹی یا پنچائیت کی ضرورت ہو اور نہ ہی کوئی ریاستی اداروں کو چلینج کرنے کی جرات کرے۔
پنچایت کمیٹی جہاں بھی قائم کی جاتی ہیں تو اس کا سرپنچ علاقے کی نہایت معزز شخصیت کو مقرر کیا جاتا ہے اور پنچایت کے اراکین بھی علاقے کے معزز لوگ ہوتے ہیں، جن پر علاقے کے لوگوں کا اعتماد ہوتا ہے۔ اور جو علاقے کے لوگوں کی عزت و آبرو کا امان کرنے والے ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ کئی علاقوں میں بننے والی نام نہاد پنچائیتوں میں ایسے لوگ شامل ہوتے ہیں جو ایسے فیصلے دیتے ہیں جو نہ صرف دین اسلام سے متضاد ہوتے ہیں بلکہ دور جاہلیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ اور عالمی سطح پر مادر وطن کی بدنامی کا باعث بھی بنتے ہیں۔ اب یہ حکومت وقت کا کام ہے کہ وطن عزیز کے جن علاقوں میں ایسی پنچایت کمیٹیاں قائم کی جائیں ان میں شامل لوگوں کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل کرے کہ آیا ان میں کسی بھی فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی ہے کہ نہیں۔ اور ان کی علاقے میں ساکھ کیا ہے۔
بہرحال میرا یہ موضوع نہیں۔ میرا موضوع گزشتہ دنوں ملتان کے نواحی علاقے میں ہونے والا افسوس ناک واقعہ ہے جس میں ایک 12 سالہ لڑکی کو اغوا کرکے اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ خاندان نے علاقے میں موجود ویمن پولیس اسٹیشن ہونے کے باوجود اپنی شکایت پنچایت میں پہنچائی۔ جس کے نتیجے میں اس نام نہاد پنچایت نے متاثرہ لڑکی کے بھائی کو ملزم کی بہن سے زیادتی کا حکم دیا۔ یہ کس طرح کا فیصلہ تھا جس نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ۔ ایک حوا کی بیٹی کی عزت تار تار کردی گئی۔ بجائے اس کے کہ اس معصوم کی عصمت دری کرنے والے کو قانون کے حوالے کیا جاتا، ایک اور حوا کی بیٹی کی آبرو ریزی کا حکم دے دیا گیا۔ یہ کس طرح کی جہالت ہے کہ ایک لڑکی جو پہلے ہی برباد کی جاچکی اس کو انصاف دینے کے لیئے دوسری لڑکی کو برباد کردیا جائے۔ ایک جرم کی سزا دوسرا جرم۔
یہاں یہ بات بھی نہایت افسوسناک ہے کہ پہلا واقعہ 16 جولائی کو پیش آیا اس کے بعد پنچایت کا فیصلہ 18 جولائی کو دیا گیا جس کے نتیجے میں ایک اور جرم ہوا۔ ان تین دنوں میں قانون کہاں تھا۔ علاقے میں ہونے والے اس گھناؤنے جرم سے قانون کیونکر بے خبر رہا جب کہ پنچایت کے فیصلے سے متاثر لڑکی کی والدہ نے علاقے کے ویمن پولیس اسٹیشن میں درخواست جمع کرائی کہ اس کی بیٹی کو زبردستی اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ پنچایت کے فیصلے سے اگر علاقہ مکین مطمئن ہوتے تو وہ کسی صورت پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج نہ کراتے۔ اس سے اس بات کا قوی امکان ہے کہ پنچایت کے فیصلے کو متاثرہ خاندان نے یکسر مسترد کردیا تھا اور دوسرا درد ناک واقعہ اسی پنچایت کے حکم سے رونما ہوا۔ میں یہاں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ایسی پنچایت مجرمان کی سرپرست اور سہولت کار ہیں۔
جب یہ واقعہ میرے علم میں آیا تو میرے ذہن میں گزشتہ سال نومبر میں گجرات کے علاقے جلال پور جٹاں میں ہونے والا واقعہ گھومنے لگا جو اس واقعہ جیسا ہی تھا۔ تب بھی ایسی ہی نام نہاد پنچایت نے ایک معصوم حوا کی بیٹی کی عصمت دری کرنے والے کے ساتھ یہ انصاف کیا کہ حوا کی ایک اور بیٹی کے ساتھ جنسی ذیادتی کرنے کا حکم دیا۔ اس واقعہ میں بھی جرم آدم کے بیٹوں نے کیا جب کہ سزا حوا کی بیٹیوں کو دی گئی۔ اگر جلال پور جٹاں والے واقعہ کے بعد مجرمان کو سخت سزا دی جاتی اور ایسی نام نہاد پنچایت کمیٹیوں کے لئے موثر قانون سازی کرلی جاتی تو ملتان کا واقعہ رونما نہ ہوتا۔
سوشل میڈیا کا جسے اب گٹر کہا جارہا ہے، کم از کم یہ گٹر معاشرے میں موجود غلاظت کو تواگل رہا ہے۔ اور کچھ پارساؤں کو اس غلاظت سے اٹھنے والا تعفن کسی طور برداشت نہیں ہورہا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا یہ گٹر جو معاشرتی غلاظت اگل رہا ہے اسے کوئی صاف کرے گا یا پھر اب بھی انتظار کیا جائےگا کہ اس غلاظت سے اٹھنے والا تعفن اس معاشرے کو مکمل طور سے مفلوج کردے۔