باکمال عدلیہ لاجواب لوگ
آج میں بہت خوش ہوں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ میاں نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا گیا ہے، بل کہ یوں خوش ہوں کہ میرے دوستوں کا کہنا تھا، نواز شریف کے نا اہل ہوتے ہی ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہوجائے گا۔ ایک لبرلز کے سوا کون ہے جو کرپشن کا خاتمہ نہیں چاہتا! دن سوا دو بجے جب میں سو کے اٹھا تو ملک میں انقلاب آ چکا تھا۔ آپ خود سوچیے ایک شخص ساری عمر سوتا رہے، جب آنکھ کھلے تو انقلاب اس کا منتظر ہو، یہ کتنی خوشی کی بات ہے۔
مکرمی رٹائیرڈ جنرل پرویز مشرف سابق آئنی سربراہ مملکت ہی میری اس خوشی کو بھانپ سکتے ہیں۔ وہی سمجھ سکتے ہیں کہ انقلاب کے کیا معنی ہیں۔ آج قانون کا بول بالا ہو کے رہا۔ جناب مشرف نے چاہا تھا کہ افتخار چودھری بھی قانون کے دائرے میں رہیں لیکن جب چودھری صاحب نے قانون سے انحراف کیا تو ان کو بالوں سے پکڑ کے ان کی ناک سے لکیریں تک نکلوا دی گئیں، یہی یوسف رضا گیلانی، یہی نواز شریف تھے جنھوں نے افتخار چودھری کو بحال کرنے میں دن رات ایک کر دیے، جس کا نتیجہ ظاہر ہو کے رہا۔ آج کون ہے جو کہے گا، پرویز مشرف کا فیصلہ غلط تھا۔ پرویز مشرف تاریخ کی اس سمت کھڑے ہیں، جہاں ساری کی ساری سچائی ہے، باقی سب جھوٹ ہے۔
میں نے اٹھ کے ناشتا کرتے ہی بازار کا رخ کیا، جہاں کرپشن سے پاک مملکت خداداد میرا انتظار کر رہی تھی۔ میرے سیل فون کی اسکرین ٹوٹ گئی تھی، اور میں چاہتا تھا، سوشل میڈیا پر مبارک باد کے اسٹیٹس اپ لوڈ کروں۔ مجھے حیرت ہوئی کہ موبایل مارکیٹ میں الو بول رہے تھے، اور میں ان کی بولی سمجھ سکتا تھا۔ ایک دکان دار سے پوچھا کہ آج گاہک کیوں نہیں ہیں، تو وہ جز بز ہو کے منمنایا، ملک کرپشن سے پاک ہو گیا ہے، ایمان داروں کے پاس اتنی رقم ہی نہیں رہی کہ کھانے کے علاوہ کوئی عیاشی کر سکیں۔ کچھ دکان دار جو یقینا پٹواری تھے، یہ کہتے پائے گئے کہ آج دھندا نہ ہونے کے برابر ہے۔ میں غصے سے لال پیلا ہوا کہ بھلا دھندا کرنا شریفوں کا کام ہے!
موبایل شاپ کی ٹیلے ویژن اسکرین پر خوشی کے مناظر دیکھے جا سکتے تھے، کہ لوگ باگ سکون کا سانس لے رہے ہیں۔ ادھر کچھ ٹیلے ویژن چینل منفی پروپگنڈا کرتے دکھائی دیے کہ اسٹاک ایکسینج کا بھٹا بیٹھ گیا ہے، جب کہ اسٹاک ایکسینج کا بھٹا ہی نہیں ہوتا؛ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ لوگ جھوٹ کیوں بولتے ہیں۔
جیسا کہ اوپر عرض کر چکا، ایک لبرل ہیں جو کرپشن کا خاتمہ نہیں چاہتے، اسلامسٹ تو اس فیصلے پر شادیانے بجا رہے ہیں۔ لالہ سراج الحق کا خیال ہے کہ اب یہاں اسلامی نظام آ کے رہے گا، ایسا اسلامی نظام جس میں بغیر نکاح کے بچے پیدا کرنے پر سزا دی جا سکے گی۔ اس اسلامی نظام کو لانے میں عمران خان ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
آخر میں ملک کے وسیع تر مفاد میں یہ مشورہ دوں گا، کہ منتخب وزیر اعظم نواز شریف کو انجام تک پہنچا دیا گیا ہے، اب ملک کرپشن سے پاک ہو چکا ہے، تو ماضی کے قصوں کو چھیڑنے کی ضرورت نہیں۔ پاناما میں جو بقیہ نام ہیں ان پر بحث کر کے ملک کا قیمتی سرمایہ اور وقت برباد نہ کیا جائے۔ نیز اصغر خان کیس کی باتیں کرنے والے احمقوں کی بات پر کان دھرنے کی کوئی ضرورت نہیں، کہ ملک چاروں طرف سے خطرات میں گھرا ہوا ہے، ایسے میں سب کو ایک ہو کر نیا پاکستان بنانا چاہیے۔ سب کو آگے بڑھ جانا چاہیے۔ اتنا آگے کہ واپسی کا راستہ بھول جائیں۔
(بشکریہ: ہم سب ۔ لاہور)