سیاست، عدالت اور عوامی رویے
- تحریر اختر چوہدری
- سوموار 31 / جولائی / 2017
- 4512
اکثر معاشروں میں یہ تاثر عام ہے کہ جب عدالت سیاسی معاملات یا سیاست سے منسلک افراد کے بارے میں فیصلہ کرتی ہے تو یہ عدالتوں اور اجتماعی معاشرہ کی فتح ہے۔ میری رائے میں حقیقت اس کے برعکس ہے۔ عدالت پرو ایکٹو ادارہ نہیں، یہ ری ایکٹیو ادارہ ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ عدالت پروایکٹو فیصلے نہیں کر سکتی یا عدالتی فیصلے مستقبل پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ بہت سے عدالتی فیصلے مستقبل کے لیے اصول کے طور پر کام کرتے ہیں۔
لیکن اصول یہ ہے کہ عدالت ماضی میں ہونے والے اعمال پر پارلیمان کے طے کردہ قوانین کے تحت غور کر کے فیصلہ سناتی ہے۔ حتیٰ کہ آئینی عدالتیں constitutional courts بھی (ماضی میں) پارلیمان کے منظور کردہ آئین اور قانون کی تاویل و تشریح کرتی ہیں۔ یہ تشریح البتہ مستقبل میں ہونےوالی قانون سازی اور قانون کو سمجھنے کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
ہر ملک کا اپنا جمہوری، سیاسی اور عدالتی کلچر ہوتا ہے۔ کہیں عدالت کو سیاسی معاملات کے فیصلوں میں استعمال کیا جاتا ہے اور کہیں اس سے اجتناب برتا جاتا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں آئین 230 سال پہلے منظور ہوا۔ اس آئین کی منظوری سے پہلے اور اس کے بعد تقریباً تین صدیوں میں امریکی جمہوری اور سیاسی روایت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے لیکن امریکہ میں آج بھی عدالتی نظام، بالخصوص سپریم کورٹ کو، سیاسی رسّہ کشی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے ججز کی تقرّری کسی بھی ایڈمنسٹریسشن کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ حالیہ سیاسی اور عدالتی رسہ کشی کی مثالوں میں اوبامہ کیئر اور صدر ٹرمپ کے امیگریشن بین کو عدالت میں چیلنج کرنا شامل ہیں۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ عام آدمی کی صحت کے بارے میں فیصلہ عدالت سے مانگا جا رہا ہے۔ یہ سیاست اور سیاستدانوں کی ناکامی کا بیّن ثبوت ہے۔
یورپ میں اس سلسلہ میں اپنی روایات ہیں۔ مغربی یورپ، بالخصوص شمالی یورپ میں، سیاسی معاملات کو عدالت سے دور رکھا جاتا ہے۔ نارویجن آئین 1814 میں منظور ہوا اور اس امر کی بہت کم مثال ملتی ہے کہ آئین کو عدالت میں تشریح کے لیے پیش کیا جائے یا حکومت یا پارلیمان کو آئین شکنی لیے عدالت میں چیلنج کیا جائے۔ 2۰16 میں گرین پیس نے نارویجن حکومت کو آئین کی دفعہ 112 کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھراتے ہوئے لوئر عدالت کو درخواست کی ہے کہ آئین کی تشریح کرے۔ حکومتی وکیل نے اس مقدمہ کو غیر موزوں قرار دیا ہے۔ اس کا موقف ہے کہ یہ سیاسی معاملات کو عدالتی رنگ دینے کےمترادف ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ حکومتی فیصلے پارلیمان کی نگرانی اور حمایت سے کئے جاتے ہیں۔ اس لیے ان کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ بھی پارلیمان کے پاس ہے۔ ایک نارویجن سابقہ وزیرِ اعظم کا یہ قول اکثر دہرایا جاتا ہے کہ "تمام طاقت اس کمرہ (پارلیمنٹ) میں"۔
دیگر شمالی یورپین ممالک بھی اسی روایت پر قائم ہیں۔ میرے رائے یہ ہے کہ شمالی یورپی ممالک میں سیاسی استحکام، اخلاقی اقدار اور فلاحی معاشرہ کی ترقی اور نشان نمائی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سیاستدانوں نے سیاسی فیصلوں کو پارلیمانی اداروں میں طے کیا ہے اور سیاسی معاملات کو عدالت کے سپرد کرکے سیاسی abdiction اختیار نہیں کی۔ مشرقی یورپ، اور یورپ کے وہ حصے جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد سوویٹ بلاک کا حصہ رہے ہیں، وہاں اب بھی عدالتی نظام کو سیاسی معاملات پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پولینڈ اس کی تازہ مثال ہے جہاں عدالتی نظام میں موجودہ حکومت کی جانب سے کی گئی تبدیلیوں کو یورپی یونین نے یورپی عدالتی روایات کے خلاف قرار دیا ہے۔
ہندوستان میں آئین اور سیاسی نظام کی نسبتاً مستحکم ہونے کے باوجود عدالت نے از خود اپنے آپ کو سیاسی نظام کا حصہ بنایا ہے۔ 1973 میں عدالت نے "Basic Structure Doctrine" متعارف کروا کر اس وقت کی گاندھی حکومت کی authoritarian سیاست کو بیلنس کرنے کی کوشش کی۔ یورپ میں اس ڈاکٹرائن پر آج بھی بحث ہو رہی ہے اور اس کے کمزور پہلوؤں پر گفتکو کی جا رہی ہے۔ ناردرن یورپ کے تجربے کی رو سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مضبوط سیاسی اور جمہوری روایات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے لازم ہے کہ سیاسی ادارے سیاسی معاملات کو سیاست کے دائرہ ہی میں طے کریں۔ پارلیمان کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے کسی بھی فیصلہ (قانون) کو ایک نئے فیصلہ (قانون) سے کسی بھی وقت تبدیل کر دے۔ پارلیمان کواس میکنزم کو ہر ممکن حد تک استعمال کرنا چاہئے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ سیاسی ادارے اور جمہوری رویے اعلیٰ سطح پر مضبوط ہوتے ہیں بلکہ اس سے جمہوری رویے نچلی سطح پر بھی مستحکم ہوتے ہیں۔ اور نچلی سطح پر جمہوری رویوں کا استحکام، جمہوریت پر اعتماد اور ان رویوں کی مضبوطی کسی بھی معاشرہ میں اخلاقی اقدار اور قانون کی بالا دستی کے لیے لازم و ملزوم ہوتی ہے۔
یاد رکھیے کہ ہر معاملہ عدالت میں نہیں لایا جاسکتا۔ کیونکہ (1) اگر ہر چھوٹے بڑے معاملہ کو عدالت میں طے کرنے کی روایت پڑ جائے تو اس سے افراد اپنی اخلاقی ذمہ داری سے برأیت پا جاتے ہیں۔ جس سے معاشرہ میں اخلاقی انار کی پھیل جاتی ہے۔ (2) عدالت سے فیصلہ حاصل کرنا صرف اہلِ ثروت کی پریولج ہوتا ہے۔ غریب آدمی صرف اس لیے انصاف سے محروم ہو جاتا ہے کہ اس کے پاس عدالتی اخراجات اٹھانے کی سکت نہیں ہوتی۔ اس سے طبقاتی نظام فروغ پاتا ہے اور عام آدمی کا قانون اور عدالت سے ایمان اٹھ جاتا ہے۔ (3) عدالت کو کتنے وسائل بھی دیے جائیں، وہ کم ہوں گے اور اس طرح بھی انصاف میں تاخیر ہوگی۔ وہ روایت یاد رہے کہ "justice delayed is justice denied".
پاکستان میں اس وقت پاکستان سپریم کورٹ کے اس فیصلہ پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے جس میں میاں نواز شریف کو پارلیمان کی رکنیت اور وزارتِ عظمیٰ کے لیے نااہل قرار دیا گیا ہے۔ بہت سے لوگ اس فیصلہ کو عدالتی نظام کی مضبوطی بھی تصور کر رہے ہیں۔ میری رائے میں یہ فیصلہ سیاسی نظام اور پاکستان میں جمہوری رویوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔
کسی پاکستانی کی سیاسی عہدہ کے لیے اہلیت کا فیصلہ اس کا انتخابی حلقہ کرتا ہے۔ اس فیصلہ کو عدالت میں لانا سیاسی نظام کی شدید ناکامی ہوگی۔
(اختر چوہدری نارویجئین پارلیمنٹ کے سابق ڈپٹی اسپیکر ہیں)