دنیا میں پندرہ لاکھ امریکی تعینات ہیں
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 01 / اگست / 2017
- 4499
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ سال گزشتہ میں ساری دنیا میں فوجی مصارف کی مجموعی لاگت میں سے صرف ایک ملک (ملکوں کا مالک) امریکہ کا حصہ 48 فیصد ہے۔ اگر مزید واضح الفاظ میں ضابطہ تحریر میں لایا جائے تو آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ صرف ایک سال کے عرصہ میں ساری دنیا نے فوج پر 1.34 ٹریلین امریکی ڈالرز یعنی ایک لاکھ 34 ہزار کروڑ ڈالرز صرف کئے جس میں امریکہ بہادر نے 25.55 لاکھ کروڑ خرچ کئے۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹی ٹیوٹ (سپری) کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ و چین نے فی کس 5 فیصد رقم خرچ کی ہے۔ فرانس اور جاپان نے فی کس 4 فیصد، جرمنی، اٹلی اور سعودی عرب نے فی کس 3 فیصد، جنوبی کوریا اور بھارت نے 2 فیصد خرچ کیا۔ اگر ان تمام ممالک کے فوجی مصارف کو یکجا کیا جائے تب بھی ان ممالک کا مجموعی صرف کردہ مالیہ امریکہ سے کم یعنی 34 فیصد ہوتا ہے۔
امریکی کانگریس کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اور افغانستان جنگ کے باعث اپنی سلامتی کے بارے میں فکرمند ہمسایہ ممالک نے 2012سے 2013 کے دوران امریکہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ خریدا۔ ادھر اسرائیل سے خوفزدہ عرب ممالک بھی اسلحہ کے ڈھیر لگا رہے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے صرف عراق کو 12 ارب 25 کروڑ ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا۔ اس ڈیل میں میامی ابرامز نامی ٹینکوں کی فروخت بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں 3 ارب ڈالرز مالیت کے لائٹ آرمرڈ وہیکلز اور متعلقہ آلات بھی دیئے گئے ہیں۔ جب سے امریکہ نے عراق پر حملہ کیا ہے سمجھا جاتا ہے کہ تب سے اب تک یہ بغداد کے ساتھ بڑی ڈیل ہے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 2015 کے دوران دنیا بھر میں اسلحہ کی خریداری میں 13 فیصد کمی آئی تھی جس سے فرانس اور اسلحہ برآمد کرنے والے دیگر یورپی ممالک کی برآمدات میں کمی آئی۔ اسی طرح 2016 کے دوران امریکہ نے دنیا بھر کے ممالک کو 19 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا جو دنیا بھر میں فروخت ہونے والے اسلحہ کا 42.9 فیصد تھا۔
یہاں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ فوجی امور پر امریکہ کے مصارف میں اضافہ کسی ایک سال کا نہیں ہے بلکہ گزشتہ دو دہائی سے امریکہ کے مصارف میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مختلف ممالک میں تناؤ اور تنازعات پیدا کرنا، جنگ مسلط کرنا، اور پھر کسی ایک فریق یا دونوں فریقوں کو ہتھیار اور ہیوی اسلحہ فروخت کرنے کے کام امریکن شروع سے کرتے آئے ہیں۔ مثلاً امریکہ ایک جانب اسرائیل کو تو دوسری طرف مختلف مغربی ایشیائی ممالک کو عرصہ دراز سے ہتھیار فروخت کر رہا ہے۔ برصغیر پر نظر ڈالئے امریکہ کا اصل روپ ظاہر ہو جائے گا اور ماننا پڑے گا کہ ’’امن کے سفیر‘‘ کی حیثیت سے مبارکباد کی اہلیت امریکہ کے علاوہ کسی دوسرے ملک کو حاصل نہیں۔ ویت نام، کوریا، عراق اور افغانستان و دیگر ممالک تک ’’امن‘‘ قائم کرنے کیلئے انکل سام جو کوششیں کر رہا ہے اس سے ہم سبھی واقف ہیں۔
امن قائم کرنے میں کوریا کی جنگ میں امریکہ نے 54246 فوجی موت کے منہ میں ڈال دیئے، 13 سال کے بعد ویت نام میں 58259 سپاہی گنوا بیٹھا، کوریا کی جنگ میں اس نے 410 ارب ڈالرز ضائع کئے جبکہ ویت نام میں 585 ارب ڈالر ’’جمہوریت‘‘ قائم کرنے میں خرچ کئے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں مختلف حملوں میں امریکہ کے اب تک 14 لاکھ 75 ہزار فوجی لقمہ اجل بن چکے ہیں یا اپنے ملک کیلئے ’’شہید‘‘ ہو چکے ہیں۔ یہ ’’سلسلہ جمہوریت‘‘ اس پر بھی ختم نہیں ہو پا رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق آج دنیا بھر میں لگ بھگ 15 لاکھ امریکی فوجی مختلف ملکوں میں برسرپیکار ہیں۔ اس وقت صرف یورپ میں امریکی بحری، بری، فضائیہ اور دیگر مسلح افواج کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ یورپ کی کل آبادی 850 ملین ہے۔ ماہرین معاشیات نے انکشاف کیا ہے کہ 2018 تک جنگی اخراجات کا تخمینہ 30 کھرب ڈالر تک جا پہنچے گا۔
امریکہ کی تاریخ قانون شکنی کی تاریخ ہے اس نے دوسروں کو تباہ کن اسلحے کی تیاری کے خلاف من مانے انداز میں سزا دی ہے اور اب بھی دے رہا ہے لیکن خود مہلک اسلحہ کا سب سے بڑا تیار کنندہ اور فروخت کنندہ ہے۔ جیو اور جینے دو کے اصول کا تقاضہ یہ ہے کہ جو قانون سب کیلئے بنے، امریکہ بھی اس کی پاسداری کرے۔ یہی بات مختلف ملکوں کے سوچنے کی ہے کہ وہ امریکہ سے ڈرنے کی بجائے متحد ہوں اور بیک زبان نہ صرف امریکی دھاندلیوں کے خلاف آواز اٹھائیں بلکہ عملی اقدام بھی اٹھائیں اور جب تک یہ نہیں ہوگا امریکہ مختلف ملکوں میں ’’جمہوریت‘‘ نافذ کرتا رہے گا۔ ایک دن وہ ممالک بھی اس کے ظلم کے شکار ہو جائیں گے جو اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہوئے کوئی احتجاج نہیں کر رہے یا نہیں کرنا چاہتے۔
آج امریکہ کے 130 ملکوں میں چھ ہزار سے زائد فوجی اڈے ہیں۔ کرہ ارض پر اس کے 15 لاکھ سپاہی بکھرے ہوئے ہیں جن کی واحد ذمہ داری اپنے ملک کے مفادات کی حفاظت کرنا ہے۔ یہ امریکہ ہی ہے کہ وہ ایک کی پیٹھ تھپتھپا کر دوسرے کو دھمکاتا ہے تیسرے سے ہاتھ ملاتا ہے اور چوتھے کو بالواسطہ قریب آنے کی دعوت دیتا ہے۔ امریکہ اپنے مفادات کے علاوہ کسی کا دوست نہیں۔ جس دن مفادات کی راہ مسدود ہو جائے گی تعلقات کی نوعیت بھی بدل جائے گی اور وہ ملک جو آج دوست ہے کل دشمن تصور کیا جانے لگے گا۔ یہ امریکہ کا طریق کار رہا ہے۔ کرہ ارض کا ہر شخص جانتا ہے کہ کل تک اسے طالبان عزیز تھے (شاید آنے والے دنوں میں پھر ایسا ہو جائے) بعد میں طالبان کو دشمن قرار دے دیا گیا۔ کل تک اسامہ بن لادن سے تجارتی روابط اور وائٹ ہاؤ س کا دوست تھا آج اسے دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد کہہ کر ہلاک کر دیا جاتا ہے آخر میں یا میرے جیسے دوسرے کیا سمجھیں۔ کل تک کی دوستی صحیح تھی یا آج کی دشمنی صحیح ہے۔
میں بین الاقوامی گلوبلائزیشن کے خلاف ہوں، میں امریکہ کا حامی ہوں نہ اسامہ کا دوست۔ ان دونوں کی لڑائی سے میری لڑائی ہی نہیں ہے ان دونوں کے برعکس میرا نقطہ نظر ہے کہ جنگ عظیم دوم کے دوران برطانیہ اور سوویت یونین دونوں ہی جرمنی کے ہٹلر سے نفرت کرتے تھے تو کیا اس سے یہ سمجھ لیا جائے کہ چرچل کمیونسٹ تھا۔