سر سید، حالی اور حسرت موہانی نااہل قرار پائے
- تحریر ڈاکٹر ساجد علی
- منگل 01 / اگست / 2017
- 8186
ایک ہے ملک خداداد لیکن خداداد ہونے کے باوجود خستہ حال ہے۔ حکمران اس ملک کے حد درجہ نااہل اور خائن رہے ہیں۔ باشندگان ملک عجب بے تمیز واقع ہوئے ہیں۔ سامنے والا سیدھا راستہ چھوڑ کر ہمیشہ ٹیڑھا اور لمبا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ لیکن دعائیں بہت مانگتے ہیں کہ کسی طرح ان کے حالات سدھر جائیں اور وہ امن چین کی زندگی بسر کر سکیَں۔
باشندگان ملک خداداد کی دعائیں قبول ہوئیں اور منصف اعلیٰ کو قوم کی زبوں حالی پر رحم آیا تو اس نے سوموٹو اختیار کے تحت فرمان جاری کیا کہ عدالت نے باصفا اور متقی حضرات پر مشتمل ایک کمیشن برائے احتساب عقائد، صداقت و امانت مقرر کیا ہے۔ الیکشن میں حصہ لینے کے خواہش مند تمام افراد کو اس کمیشن کے روبرو پیش ہو کر اپنے صادق اور امین ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔ انتخابات کے انعقاد پر چونکہ بہت پیسہ خرچ ہوتا ہے اور بعد از انتخاب اس کی جانچ پڑتال میں بہت وقت ضائع ہوجاتا ہے۔ چنانچہ انصاف کا تقاضا ہے کہ یہ کام الیکشن سے پہلے مکمل کیا جائے تاکہ مصدقہ صادق اور امین ہی امیدوار بن سکیں۔
یہ اعلان سنتے ہی سیاست کے بازار کی تمام گلیان ویران اور سنجیاں ہو گئیں۔ الیکشن لڑنے کے جس بھی خواہش مند نے جب اپنے آپ کو تولا توخود کو بہت ہلکا پایا۔ برسر عام بے عزت ہونے سے یہی بہتر خیال کیا کہ اس راہ دشوار پر سفر کا ارادہ فی الوقت موقوف کر دیا جائے۔
کچھ کارکنان قضا و قدر کو ملک خداداد کے بازار سیاست کی یہ مندی دیکھ کر رحم آیا اور اس دنیا سے گئے ہوئے کچھ لوگوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ ان شرائط پر پورا اترتے ہوئے اس قوم کی ڈولتی نیا کے کھیون ہار ثابت ہوں۔ رات ٹی وی سکرینوں پر یہ بریکنگ نیوز چلنےلگی کہ کل احتساب کمیشن کے سامنے ایسے افراد پیش ہوں گے جو یقیناً ان اسلامی شرائط پر پورا اترتے ہیں۔
چنانچہ ان متقی اور پارسا افراد کی زیارت کرنے ہم بھی کمرہ عدالت میں پہنچ گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک گورے چٹے بزرگ تشریف لا رہے ہیں، سفید موسلادھار ریش مبارک سے چہرہ بقعہ نور بنا ہوا ہے۔ سر پر پرانی وضع کی ترکی ٹوپی اور شیروانی میں ملبوس ہیں۔ نام پوچھا گیا تو سید احمد خان بتایا۔ بورڈ نے استفسار کیا کہ آپ کو کس بنا پر الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے۔ اس کےجواب میں انہوں نے اپنی قومی اسلامی خدمات گنوانا شروع کیں۔ وہ اس قدر زیادہ تھیں کہ بورڈ کی قوت سماعت جواب دے گئی اور بورڈ نے کہا بس اتنا کافی ہے۔ پھر بورڈ نے پوچھا کہ کسی کو ان صاحب پر کوئی اعتراض ہے۔ ایک مذہبی جماعت کے چھدری داڑھی والے رکن کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ شخص نہ صادق ہے اور نہ امین۔ بورڈ نے پوچھا کہ یہ آپ کس بنا پر کہہ رہے ہیں۔ معترض نے کہا کہ اس شخص کا صادق نہ ہونا تو ابھی ثابت ہو گیا ہے کہ اس نے اپنا نام بھی پورا نہیں بتایا۔ اس کا نام سر سید احمد خان ہے اور یہ خان بہادر بھی تھا۔ می لارڈ یہ شخص انگریزوں کا ایجنٹ تھا اور مسلمانوں میں فتنہ فساد پھیلانے کے لیے انگریزوں نے اس کی سرپرستی کی تھی۔ اس نے اہل ایمان کو جہاد سے برگشتہ کرکے نصاریٰ کی حکومت کی اطاعت کا درس دیا۔ دینی مدارس کے مقابلے پر انگریزی تعلیم کے ادارے کھولے جہاں ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کو کفرو الحاد کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اس کے نتیجے میں وہ دین سے برگشتہ ہو جاتے تھے۔ اس شخص کے عقائد میں بھی بے پناہ فساد تھا۔ یہ نیچری تھا اور معجزات کا انکار کرتا تھا۔ اس نے تفسیر قرآن بھی لکھی تھی جو علمائے حق کے نزدیک سراسر گمراہی اور ضلالت پر مبنی تھی۔
می لارڈ! اس شخص نے ایک اور بہت گھٹیا اور خلاف شریعت کام کیا تھا۔ اس نے جو جدید تعلیم کا مدرسہ قائم کیا تھا اس کے لیے چندہ مانگنے طوائفوں کے پاس بھی چلا گیا تھا اور ان کی حرام کی کمائی کو اس مدرسہ کی تعمیر میں استعمال کیا تھا۔ اب خود ہی سوچئے جس مدرسے کی تعمیر میں طوائفوں کی کمائی بھی شامل ہو وہاں سے کوئی خیر کس طرح برآمد ہو سکتا ہے۔ یہ بات سن کر کمیشن کے تمام ارکان کانوں کو ہاتھ لگانے لگے اور استغفار کا ورد شروع کر دیا۔
وہاں موجود مذہبی جماعتوں کے کارکنان نے نامنظور نامنظور کے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ کمیشن نے سر سید کی تفسیر کا جائزہ لینے کے بعد اور طوائفوں سے چندہ لینے کی بنا پر فیصلہ کیا کہ یہ شخص نہ صرف صادق اور امین نہیں بلکہ بدعقیدہ اور گمراہ بھی ہے۔ اس لیے اس کے کاغذات نامزدگی نامنظور کیے جاتے ہیں۔
اس کے بعد ایک اور صاحب نمودار ہوئے۔ سر پر ٹوپی، سفید ریش، گلے میں مفلر۔ نام پوچھا گیا تو الطاف حسین حالی بتایا۔ کمیشن نے پوچھا آپ کن خدمات اور صفات کی بنا پر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔ حالی نے بتایا کہ وہ شاعر ہیں اور اپنی شاعری سے ملت اسلامیہ کی بہت خدمت کی ہے۔ ان کی نظم مسدس مد و جزر اسلام نے مسلمانوں میں قومی بیداری پیدا کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ شاعر ہونے کے باوجود ساری زندگی کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا، کبیرہ و صغیرہ ہر قسم کے گناہوں سے دور رہا۔ مجھے توبڑے نک چڑھے نقادوں نے بھی بھلامانس قرار دیا ہے۔
کمیشن کے ممبران میں سے ایک دو نے مسدس حالی پڑھ رکھی تھی اور وہ بجا طور پر متاثر نظر آتے تھے۔ جب پوچھا گیا کہ الطاف حسین حالی پر کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں تو ایک وکیل صاحب نے اٹھ کر کہا کہ یہ شخص اوپر سے جتنا بھلامانس نظر آتا ہے، حقیقت میں اتنا ہے نہیں۔ اس پر سب سےبڑا اعتراض تو یہ ہے سرسید جیسے نیچری کا پیروکار تھا۔ اس کی تعریف و توصیف میں کتاب بھی لکھی ہے۔ سرسید کے گمراہ ہونے پر امت مسلمہ کا اجماع ہے لیکن اس نے ایک گمراہ شخص کی مدلل مداحی کی گئی ہے۔ اس کا دوسرا جرم یہ ہے کہ مرزا غالب جیسے رند مشرب، آزاد خیال، بدعقیدہ شاعر کا شاگرد ہے اور اس پر بھی کتاب لکھ کر اس کی تعریف و توصیف کرتا ہے۔ اس کے علاوہ خود اپنی شاعری میں شعائر اسلامی کی توہین کا مرتکب ہوا ہے۔ اس کا یہ شعر ہر کسی کی زبان پر ہے:
وہ امید کیا جس کی ہو انتہا
وہ وعدہ نہیں جو وفا ہو گیا
یہ بات ایک بچے کو بھی معلوم ہے کہ شریعت میں ایفائے عہد پر بہت زور دیا گیا ہے لیکن یہ لوگوں کو وعدہ خلافی کرنے پر اکسا رہا ہے۔ اب کسی سے اگر پوچھا جائے کہ اس نے وعدہ خلافی کیوں کی ہے تو اس شعر کا دوسرا مصرع پڑھ کر بری الذمہ ہو جاتا ہے۔ ہمارے قوم میں عہد شکنی کا جو رجحان ہے وہ سب اس شعر کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اس شعر سے پیدا ہونےوالی خرابیوں کی بنا پر یہ شخص کاغذات نام زدگی کی استرداد کا مستحق ہے۔
احتساب کمیشن کے ارکان نے چند لمحے غور و خوض کرنے کے بعد یہ فیصلہ سنایا کہ اگرچہ حالی کی مسدس نے مسلمانوں کی بہت خدمت کی ہے لیکن یہ شخص عقائد کے باب میں راسخ نہیں لگتا، دوسرے شعرا کی طرح دروغ گوئی کے نشانات بھی اس کی شاعری میں وافر پائے جاتے ہیں اس لیے اسے نااہل قرار دیا جاتا ہے۔
اس کے بعد ایک اور صاحب سامنے آئے۔ بہت سادہ میلا کچیلا لباس، شیروانی کےبٹن ٹوٹے ہوئے، سر پر میلی کچٹ ٹوپی، چہرے پر شرعی داڑھی۔ نام پوچھا تو حسرت موہانی بتایا۔ اٹارنی جنرل کہا کہ ان کا تعارف وہ خود کروائیں گے۔ ان کی ملی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ انگریزوں کے خلاف آزادی کی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔ قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، جیل میں چکی بھی پیستے رہے، لیکن حق گوئی کا شعار کبھی ترک نہ کیا۔ ہمیشہ فقیرانہ گزر بسر کی۔ یہ وہ شخص ہے جس نے انگریزوں سے مکمل آزادی کا سب سے پہلے نعرہ مطالبہ تھا جس کو سن کر مہاتما گاندھی بھی پریشان ہو گئے تھے۔ تحریک پاکستان کے قائدین میں ان کا شمار ہوتا ہے، مسلم لیگ کے لیے ان کی خدمات بہت زیادہ ہیں۔
مسلم لیگ کا نام سن کر ایک رکن کمیشن چونکے اور سخت لہجے میں اٹارنی جنرل کو کہا آپ یہاں ریاست کی نمائندگی کر رہے نہ کہ ایک جماعت کی۔ جس جماعت کو ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے نااہل قرار دیا گیا ہے، آپ اس کے نمائندے کی تعریف کر رہے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا می لارڈ میں مسلم لیگ نواز کا نہیں بلکہ قائد اعظم کی مسلم لیگ کا ذکر کر رہا ہوں۔ اور فیصلے میں جماعت نہیں بلکہ اس کے لیڈر نواز شریف کو نا اہل قرار دیا گیا ہے۔ اس پر رکن کمشن اور خفا ہو کر کہنے لگے، سبھی مسلم لیگیں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ جناح صاحب کی لیگ کے متعلق بھی علمائے حق نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے جن خدشات کا ذکر کیا تھا بعد میں سب درست ثابت ہوئے۔ علمائے حق جو کہتے ہیں درست کہتے ہیں۔ جس جماعت کا لیڈر صادق اور امین نہ ہو، باقی جماعت کیسے معیار پر پورا اتر سکتی ہے۔ کیا آپ نے قانون کا وہ مشہور اصول نہیں سنا کہ مچھلی ہمیشہ سر سے خراب ہوتی ہے۔
اس سرزنش کے بعد اٹارنی جنرل خاموش ہو گئے۔ اب کمیشن نے اعتراضات پیش کرنے کی دعوت دی۔ ایک شرعی حلیے والے وکیل صاحب، جو وکالت سے پہلے اردو ادب کے استاد رہے تھے، کھڑے ہوئے اور کمیشن کے معزز ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ شخص جو معصوم صورت بنائے سامنے کھڑا ہے اس پر وہ محاورہ صادق آتا ہے کہ شکل مومناں کرتوت کافراں۔ اس پر کچھ شور بلند ہوا تو کمشین کے چئیرمین نے آرڈر آرڈر کہہ کر میز پر زور سےہتھوڑا مارنا شروع کیا۔ جب خاموشی چھا گئی تو کمیشن نے معترض سے پوچھا کہ آپ کے پاس کیا دلیل ہے۔ اس پر وکیل صاحب نے کہا کہ سرکاری وکیل حقائق چھپانے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بتایا ہی نہیں کہ یہ صاحب فساد عقائد کا شکار تھے اور خود کو اشتراکی مسلم قرار دیتے تھے۔ اب آپ خود سوچیے جو اشتراکیت جیسے ملحدانہ نظریات کی حمایت کرتا ہو، وہ ایک اچھا مسلمان کس طرح ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری وکیل نے یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ صاحب شاعری بھی فرماتےتھے اور اپنی شاعری کو فخریہ طور پرخود ہی فاسقانہ قرار دیتے تھے۔ بطور ثبوت ان کا یہ شعر ملاحظہ ہو:
حائل رہی جو ہم میں رضائی تمام رات
اس ڈر سے ہم کو نیند نہ آئی تمام رات
شعر سن کر کمیشن کے ارکان نے بلند آواز سے لاحول پڑھی۔ وکیل صاحب نے کہا مسلمان بہو بیٹیاں اگر اس قسم کے اشعار پڑھیں گی تو کیا ان کے اخلاق درست رہنے کی کسی طرح گارنٹی دی جا سکتی ہے۔ اب اس شخص سے پوچھا جائے کہ اگر آپ لاعلمی کی وجہ سے کسی غیر عورت کی رضائی میں گھس ہی گئے تھے تو رات بھر وہاں ٹکے رہنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس کا واضح مطلب کہ اس کی نیت میں فتور تھا۔
می لارڈ اس کی ایک رسوائے زمانہ غزل تو آپ کے علم میں بھی ہوگی جس کا مطلع ہے:
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے
می لارڈ یہ غزل مسلسل ہے اور غزل کیا ہے کھلم کھلا بےحیائی اور فسق و فجور کا اشتہار ہے۔ اس کو ایک گویے غلام علی نے گا کر بہت شہرت د ے دی ہے۔ ظلم کی انتہا ہے کہ پرائی بچیوں کو دوپہر کے وقت چھت پر ننگے پاؤں بلاتا ہے اور یہ بھی نہیں سوچتا کہ گرمیوں کی دوپہر میں ان کے نازک نازک پاؤں جل جائیں گے۔ پوری غزل میں حد درجہ رکیک اور فاسقانہ جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔ حیا مانع آتی ہے اس لیے میں پوری غزل نہیں سنا سکتا۔ اس لیے میں درخواست کرتا ہوں کہ آپ وہ غزل خود ہی سن لیں۔
احتساب کمیشن کے متقی ارکان چونکہ موسیقی سے پرہیز کرتے تھے اس لیے غلام علی کی گائی ہوئی غزل سے واقف نہیں تھے۔ انہوں نے حکم دیا کہ یہ غزل کمیشن میں سنائی جائے۔ اگرچہ موسیقی سننا ان کے نزدیک حرام ہے، لیکن جرم کی تفتیش کے لیے اس کار ممنوع کو گوارا کر لیا جائے گا۔ جب غزل کی سی ڈی ٹی وی سکرین پر پلے کی گئی تو کمشن کے ارکان کے چہرے فق ہو گئے اور پیشانیاں، جن پرنشان ہائے عبادت نمایاں تھے، عرق ندامت سے تر ہو گئیں۔ غزل ختم ہوئی تو سب نے بلند آواز میں ایک بار پھر لاحول کا ورد کیا۔
اس کے بعد وکیل نے کہا کہ یہ شخص اپنے اثاثوں کا چھپانےکے سنگین جرم کا بھی مرتکب بھی ہوا ہے۔ پروفیسر رشید احمد صدیقی کے تحریر کردہ خاکے سے یہ ثبوت پیش کیا۔ ایک دفعہ جب حسرت علی گڑھ میں ایک مقالے کا زبانی امتحان لینے گئے تو انہوں نے ٹی اے ڈی اے وصول کرنے سے انکار کر دیا جو یہ وصول کرنے کا قانونی حق رکھتے تھے۔ اپنے اثاثہ جات میں انہوں نے اس غیر موصول شدہ رقم کا اندراج نہیں کیا، جب کہ اس پر واضح عدالتی نظائر موجود ہیں کہ غیر موصول شدہ رقم کا شمار اثاثوں میں ہوتا ہے۔
ان واضح اور مسکت دلائل کے بعد کمیشن نے فیصلہ سنایا کہ یہ شخص دفعہ باسٹھ تریسٹھ پر پورا نہ اترنے کی بنا پر نااہل قرار دیا جاتا ہے۔ مزید براں اپنی فاسقانہ شاعری کی بنا پر قذف کی شرعی سزا، جو اسی کوڑے ہوتی ہے، کا بھی مستحق ہے۔ لیکن صد افسوس، کمیشن کو اس سزا کے نفاذ کا اختیار نہیں دیا گیا، اس لیے اس کا معاملہ منصف اعلی کو بھجوایا جاتا ہے تاکہ وہ اس پر لارجر بنچ تشکیل دے کر فیصلہ صارد فرمائیں۔
مزید براں کمیشن یہ سفارش بھی کرتا ہے کہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے یہ بھی لازم قرار دیا جائے کہ تجویز کنندہ اور تائید کنندہ بھی باسٹھ تریسٹھ کی اسلامی دفعات پر پورا اترتے ہوں۔ عدالت کل تک برخواست کی جاتی ہے۔
حسرت موہانی عدالت سے باہر آتے ہوئے بآواز بلند غالب کا یہ شعر پڑھ رہے تھے:
کون ہوتا ہے حریف مئے مرد افگن عشق
ہے مکرر لب ساقی پہ صلا میرے بعد