پاناما کیس میں نواز شریف کی ناقص حکمت عملی
- تحریر سلمان عابد
- منگل 01 / اگست / 2017
- 4563
یہ مزاج ہر سطح پر غالب ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے اس کا ملبہ دوسروں پر ڈال کر خود کو بری الزمہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ منطق یہ دی جاتی ہے کہ ہم قصور وار نہیں بلکہ ہمارے خلاف سازش ہوئی ہے ۔ یہی کچھ صورتحال ہمیں سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد دیکھنے کو ملی ہے ۔
نواز شریف اب وزیر اعظم نہیں رہے۔ وہ اس فیصلہ میں نااہل ہوئے ہیں ۔ لیکن ان کا خاندان، جماعت، سیاسی ورکروں اور ان کے حامی دانشوروں کا موقف ہے کہ وہ ایک بڑی ملکی اور بین الاقوامی سازش کا شکار ہوئے ہیں ۔ اسی منطق کی بنا پر ابتدا ہی سے حکمران طبقہ اور اس کے حامی دانشوروں نے یہ مقدمہ لڑا۔ اب سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد بھی اسی نقط پر زور دے کر خود کو اور اپنے حامیوں کو مطمن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اس کا بھی تجزیہ کیا جانا چاہیے کہ اس بیانیہ نے ان کو فائدہ ہؤا یا نقصان ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جب سے پانامہ کے مقدمہ کا آغاز ہواتب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف ، ان کے سیاسی اور قانونی ماہرین ، میڈیا کے محاذ پر کام کرنے والی ٹیم سب نے اس مسئلہ کا مناسب تجزیہ نہیں کیا ۔ حکومت کا خیال تھا کہ ماضی میں اسی طرح کے واقعات کو بنیاد بنا کر کئی بار محاذ کھولے گئے لیکن ریاستی وحکومتی طاقت اور اداروں پر اپنی بالادستی کے نتیجے میں کوئی ایسا کام نہیں ہوسکے گا جو ان کے ذاتی یا حکومتی مفاد کو نقصان پہنچائے گا ۔ خود خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں وزیراعظم کی موجودگی میں کہا کہ ’’ میاں صاحب پانامہ کچھ نہیں۔ یہ قوم دو تین ہفتوں میں اس سارے مقدمہ کو بھول جائے گی ، فکر نہ کی جائے ۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس مقدمہ کو کس سنجیدگی سے لڑا گیا۔
اگر ابتدا سے سپریم کورٹ کے فیصلہ تک کی صورتحال کا تجزیہ کریں تو اس میں آپ کو موثر قانونی اور سیاسی حکمت عملی کا فقدان نظر آتا ہے ۔ وکلا ٹیم میں بار بار کی تبدیلی ظاہرکرتی تھی کہ قانونی محاذ پر بھی کوئی زیادہ سوچ بچار نہیں کی گئی۔ محض ہونے والے واقعات کی بنیاد پر حکمت عملی اور ٹیم میں تبدیلی سے مسئلہ کو نمٹا گیا ۔ کئی وکلا نے اپنے پچھلے وکلا کے موقف کے برعکس اپنا مقدمہ پیش کیا، اس کی نشاندہی کئی ججز نے بھی کی۔ جس سیاسی اور قانونی ماہر نے نواز شریف کو قطری خط پیش کرنے کا مشورہ دیا وہ عملی طور پر ان کا دوست کم اور دشمن زیادہ تھا ۔نواز شریف اور ان کے ساتھی یہ سمجھنے میں ہی ناکام رہے کہ قطری خط ان کے لیے کس طرح کی بڑی مشکل پیدا کرسکتا ہے ۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کا جب جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ آیا تو اس پر حکمران طبقہ مٹھایاں بانٹتا نظر آیا، حالانکہ تمام پانچ ججز کا تفصیلی فیصلہ تحریری طور پر ان کے خلاف تھا۔
نواز شریف ایک منجھے ہوئے تجربہ کا رسیاست دان ہیں لیکن پانامہ کے مسئلہ میں وہ کافی الجھے ہوئے نظر آئے ۔ ان کی اور خاندان کی اصل پریشانی جے آئی ٹی بن۔، اس کا ابتدا میں حکومتی سطح پر خیر مقدم کیا گیا ، لیکن جیسے جیسے جے آئی ٹی کا معاملہ آگے بڑھا شریف خاندان کی مشکلات بھی بڑھتی گئیں ۔ اس کی ایک حکمت عملی حکومتی سطح پر جے آئی ٹی کو متنازعہ بنانے پر رہی ۔ اس جے آئی ٹی کو چیلنج بھی کیا گیا، لیکن ان کی شنوائی عدالتی سطح پر نہ ہوسکی ۔ جے آئی ٹی کے بارے میں جو لب ولہجہ میڈیا میں حکومتی ٹیم بشمول وزیر اعظم نے اختیار کیا وہ بھی کوئی مناسب حکمت عملی نہیں تھی ۔ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے حکم پر بنی اور اس پر جتنی تنقید ہوتی یا ان کے ارکان کو ہراساں کیا جاتا اس کا نتیجہ عدالت پر دباؤ بڑھانے کے مترادف تھا ۔ نہال ہاشمی ، خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال، خواجہ آصف، طلال چوہدری ، دانیال عزیز، مریم اورنگ زیب، کیپٹن صفدر، مریم نوازسب کے لب ولہجہ نے حکومت کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچایا۔ اس لب و لہجہ کو قانونی اور ریاستی اداروں نے اپنے خلاف تنقید سمجھا۔
اسی طرح یہ مقدمہ بنیادی طور پر نواز شریف اور ان کے خاندان پر تھا، حکومت او رمسلم لیگ (ن) سے اس کا کوئی براہ راست تعلق نہیں بنتا تھا ۔ جوابدہی شریف خاندان سے ہو رہی تھی ۔ لیکن اس خاندانی مقدمہ کو جس حکومتی طاقت سے لڑا گیا اسے بھی بہت سے حلقوں میں سخت ناپسند کیا گیا۔ اس سارے کھیل میں میڈیا کی براہ راست حکمت عملی مریم نواز نے بنائی تھی ۔ ان کی حکمت عملیوں نے شریف خاندان سمیت حکومت کو مشکل میں ڈالا۔ یہ کہنا کہ عدالت نے ان کا موقف نہیں سنا، غلط ہے ۔ تین مراحل میں شریف خاندان کو صفائی کا موقع دیا گیا ، اول پہلے پانچ رکنی بنچ کے سامنے ، دوئم جے آئی ٹی کے سامنے اور سوئم پھر جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ پر سپریم کورٹ میں پانچ دن تک جاری بحث ہر موقع پر ان سے شواہد اور دستاویزات کا مطالبہ، لیکن ٹھوس شواہد سامنے نہ آسکے ۔
بڑی سیاسی قیادت کابحران یہ ہوتاہے کہ وہ مشکل حالات میں خوشامدی یا شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں میں پھنس جاتا ہے ۔ یہ چاپلوس لوگ اپنی قیادت کو ان کے مضبوط ہونے ، مخالفین کو کمزور کرنے اور سب اچھا کی رپورٹ دے کر اپنی ہی قیادت اور جماعت کو ایک بند گلی میں داخل کرتے ہیں ۔ اصل میں قیادت جو کچھ خود سوچتی ہے ، وہی نیچے والوں سے بھی توقع رکھتی ہے ۔ جو لوگ قیادت کو ان کی غلطیوں کا احساس دلاتے ہیں ، وہ پیچھے چلے جاتے ہیں ۔ چوہدری نثار جو مسلم لیگ میں نواز شریف کی آنکھ کا تارہ سمجھے جاتے ہیں لیکن ان کے بقول سابق وزیر اعظم نواز شریف نے دو ماہ سے ان کو اہم مشاورتوں سے جان بوجھ کر دور کھا مجو ظاہر کرتا ہے کہ پرانے ساتھی کو کس طرح مشاورت سے باہر رکھا گیا ۔
نواز شریف اور ان کے حامیوں کا یہ کہنا کہ ان کے خلاف جو کچھ ہوا ہے وہ ملکی اور غیر ملکی اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت سے ہوا ہے ، اصولی طور پر حقائق سے پردہ ڈالنے کی کوشش ہے ۔ جب بھی سیاسی قیادتیں اپنی غلطیوں کو چھپا کر آگے بڑھتی ہیں تو ان کی نئی بننے والی حکمت عملیاں بھی سابقہ طریقہ کی طرح سے ناکام ہوتی ہیں ۔ یہ مسئلہ محض حکومتی جماعت تک محدود نہیں بلکہ دیگر جماعتوں کی کہانی بھی اس کہانی سے مختلف نہیں ۔ یہ جو بات چوہدری نثار نے وزیر اعظم کو مشورہ کے طور پر دی تھی کہ اگر فیصلہ خلاف آئے تو اداروں سے خودمحاذ آرائی کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے مفاہمت اور تدبر کے ساتھ آگے بڑھا جائے، کیا ایسا ممکن ہوسکے گا ۔ کیونکہ جو لوگ نواز شریف کا مزاج جانتے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ اپنی اس نااہلی کو آسانی سے قبول نہیں کریں گے۔ اگر وہ سیاسی میدان میں نکل کراپنی نااہلی کو بنیاد بنا کر اس فیصلہ کو چیلنج کرتے ہیں تو اس سے ان کے اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ پیدا ہوگا۔
پانامہ مقدمہ میں وزیر اعظم کی نااہلی ان کی سیاسی اور قانونی حکمت عملیوں کی ناکامی ہے۔ وہ ٹھوس بنیادوں پر موثر حکمت عملی وضع نہیں کرسکے ۔ محض ردعمل کے طور پر بننے والی پالیسی ہمیشہ ناکامی سے دوچار کرتی ہے ۔ وہ اس مسئلہ کو سمجھنے میں ناکام رہے کہ پانامہ کا مقدمہ آہستہ آہستہ ان کے لیے کیسے ایک بڑے سیاسی دلدل میں تبدیل ہورہا ۔ اس وقت تو آپ کو وزیر اعظم کی نااہلی نظر آرہی ہے لیکن کھیل یہاں ختم نہیں ہوا۔ کیونکہ ابھی تو اس مقدمہ کی اصل پارٹی نیب ریفرنسز کے طور پر شروع ہوئی ہے جہاں ان کی مشکلات میں اور اضافہ ہوگا اور اگر وہاں وہ بچ نہ سکے تو سزا ان کا مقدر ہوگی ۔ اسی طرح سے اپنی نااہلی کے بعد وہ خود پارٹی امور میں کس حد تک موثر ثابت ہوں گے۔ یہ بڑا سوال ہے ۔