مولانا فضل الرحمان اور پاناما لیکس

جمعیت علمائے اسلام(ف) اور تحریک انصاف کی آپس میں مخالفت کی کوئی حد نہیں۔  مولانا فضل الرحمان کی ایک عرصے سے  خواہش ہے کہ وہ کسی بھی طرح  صوبہ خیبر پختونخواہ میں اپنی حکومت قائم کرلیں تاکہ  اپنے مفادات حاصل کرسکیں۔ جیسے انہوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں  ایم ایم اے کی حکومت کے زریعے  حاصل کیے تھے۔ لیکن 2013  کے انتخابات میں پہلی مرتبہ تحریک انصاف ایک بڑی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی اور  فضل الرحمان کی صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکومت بنانے کی حسرت پوری نہ ہوسکی۔ حالانکہ انہوں نے کوشش کی کہ صوبہ خیبر پختونخواہ  میں جمعیت علمائے اسلام(ف) اور مسلم لیگ (ن) کی مشترکہ حکومت قائم کرلیں لیکن نواز شریف اس کے لیے تیار نہ ہوئے۔

بعد میں وہ نواز شریف کے اتحادی بن گئے اور بھرپور مفادات حاصل کرتے رہے۔ اب پاناما کیس میں نواز شریف کے نااہل ہوجانے  کے فیصلے پرفضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ہمیں عدالت سے انصاف نہیں تحریک انصاف ملی ہے۔  بقول ان کے نوا زشریف کی نااہلی کا فیصلہ دنیا کے کسی بھی ملک کی عدالت میں نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جائے گا بالکل اسی طرح جیسے ذوالفقار علی بھٹو کا کیس تھا۔ ایک کرپٹ شخص کے لئے بھٹو کی مثال دینا شرمناک رویہ ہے۔ بھٹو کے بدترین دشمن بھی تسلیم  کرتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو پرک کرپشن  کا الزام  نہیں تھا۔  جبکہ نواز شریف تو اربوں روپوں کی کرپشن کی کیچڑ میں دھنسے ہوئے ہیں۔

سپریم کورٹ  کے فیصلے کے بعد سے تو مولانا فضل الرحمان اس قدر غمگین ہیں کہ  وہ  شام غریباں منا رہے ہیں حالانکہ شام غریباں وہ مناتے ہیں جو حق پر اور سچے ہوتے ہیں۔ جبکہ فضل الرحمان ایک خود غرض، موقعہ پرست اور انتہائی چالاک سیاستدان ہیں۔ حکومت کسی  کی  بھی ہو  فضل الرحمان کو حکومت سے اپنا حصہ لینا آتا ہے۔ جس طرح مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہتی اسی طرح فضل الرحمان کا بغیر اقتدار گزارا ممکن نہیں۔ حکومت چاہے فوجی ہو یا جمہوری، فضل الرحمان آپ کو حکومت میں ملیں گے۔ مرحوم معین اختر نے کہا تھا کہ’’فضل الرحمان ہر گزشتہ حکومت کی بیوہ، موجودہ حکومت کی منکوحہ اور آنے والی حکومت کی منگیتر ہوتے ہیں‘‘۔

نواز شریف کی نااہلی پر عمران خان کا نام لیے بغیر چالاک فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ وہ موقع ہوتا ہے جب سب فقیر بن جاتے ہیں۔ وہ  کہتے ہیں کہ نواز شریف سے سب سے زیادہ پریشانی  امریکہ اور بھارت کو تھی جو نہیں چاہتے کہ پاکستان چین پر  اقتصادی تعلقات استوار کرے۔ اس بات پر امریکہ اور بھارت ایک ہوگئے اور ان کی چاہت اور بددعائیں یہ ہوں گی کہ کسی طرح پاکستان کی حکومت اللہ کے عتاب میں آجائے اور اس سے ہماری جان چھوٹ جائے۔ میرا خیال ہے کہ  ان دونوں ممالک کو نواز شریف کی حکومت کو بددعائیں دینے کی قطعی ضرورت نہیں تھی۔ نواز شریف کو جن کی بددعائیں لگی ہیں وہ پریشان  حال غریب پاکستانی عوام ہیں۔

مولانا فضل الرحمان  کا کہنا ہے کہ آف شور کمپنی قانونی چیز ہے غیر قانونی نہیں۔ نوا ز شریف کی نااہلی کا فیصلہ آف شور کمپنی یا پاناما لیکس کی وجہ سے نہیں ہوا ہے۔ فیصلے میں تو یہ کہا گیا ہے چونکہ آپ نے دبئی کی کمپنی سے اپنی تنخواہ نہیں لی تو یہ آپ کا اثاثہ تھا جو آپ نے ڈکلیئرنہیں کیا تھا ۔ عدالت نے نوا زشریف کے تنخواہ نہ وصول کرنے کے معاملے پر وکلاء سے کوئی رہنمائی نہیں لی ۔ پاناما کیس کا کرپشن سےکوئی تعلق نہیں بلکہ یہ سیاسی عدم استحکام پھیلانے کی سازش ہے۔ یہ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے استعمال ہورہا ہے ۔ گزشتہ چار سال میں کرپشن کا کوئی اسکینڈل سامنے نہیں آیا۔ نواز شریف کا اقتدار میں ہونا یا نہ ہونا ہمارا مسئلہ نہیں۔ ہمیں قومی مفادات کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل فضل الرحمن نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ڈٹ جائیں اورکسی صورت استعفیٰ نہ دیں۔ فیصلے کوئی اور کررہاہے۔ عدالتی مارشل لاء کی باتیں ہورہی ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کے ان بیانات کے جواب میں تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق کا کہنا ہے کہ فضل الرحمان کی جانب سے قومی مفادات پر سوداگری کی تازہ ترین کوشش نئی نہیں۔ ان کی اصولی سیاست ’رقم‘ اور ’مفاد‘ کے گرد گھومتی ہے۔ نعیم الحق کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان پچھلے دور حکومت میں آصف زرداری سے اور آج نواز شریف سے اپناحصہ وصول کررہے ہیں۔  نواز شریف  کے زوال کا حقیقی وبال فضل الرحمان پر بھی ضرور آئے گا۔ نواز شریف پر کرپشن کے الزامات کا فضل الرحمان نے پورا پورا فائدہ اٹھایا اوراپنے بھائی مولانا ضیاء الرحمان کو نواز شریف  کے زریعے گریڈ  18سے گریڈ 20 میں ترقی دلوائی ۔   2013 کے انتخابات اور نئی حکومت کے قیام کے سات ماہ کے طویل انتظار کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف نے فضل الرحمان کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنایا۔ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین  کی حیثیت میں فضل الرحمان کو ایک  وزیر کے برابر مراعات  ملتی  ہیں۔ فضل الرحمان کی جانب سے کشمیر کے معاملے میں  ہمیشہ عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا گیا اور اب تک صرف تین اجلاس بلائے گئے۔ 2013 سے آج 2017 تک کشمیر کمیٹی سب سے مہنگی کمیٹی ثابت ہو ئی ہے جس کے صرف تین اجلاس پر 18کروڑ روپے کی لاگت آئی  ہے۔ یعنی ایک اجلاس 6 کروڑ روپے کا۔

اگر ہم سابق  وزیراعظم نواز شریف کی کابینہ یا ان کے ساتھ جو لوگ کام کررہے تھے ان پرنظر ڈالیں توان میں پہلے وہ ہیں جو نواز شریف کے رشتہ دار ہیں۔ پھر وہ ہیں جو نواز شریف کے دوستوں میں سے ہیں۔ اور آخر میں وہ  ہیں جو ان کے بدترین مخالف  پرویز مشرف کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔ جمیت علمائے اسلام (ف)  کے سربراہ فضل الرحمان ان میں سے ایک ہیں، جن کے ایک ساتھی اکرم خان درانی جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں  خیبر پختونخوا  کے وزیر اعلی تھے اور اب  نواز شریف کی کابینہ کا حصہ تھے۔ کراچی میں ہونے والی ایک تقریب میں فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ کرپش لوٹ کھسوٹ سے پاک قیادت صرف جمعیت علماء اسلام ہی ملک کو دے سکتی ہے۔ اگر جے یو آئی حکومت میں آئی تو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کرپشن کی لعنت سے قوم اور ملک چھٹکارا حاصل ہوجائے گا۔ جبکہ عام لوگ پوچھتے ہیں کہ فضل الرحمان کا بظاہر کوئی زریعہ معاش نہیں ہے، پھر بھی پجیرو میں گھومتے ہیں، اچھا کھاتے ہیں اور اچھا پہنتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے۔

ان  لوگوں کےلیےجواب یہ ہے کہ فضل الرحمان سیاست میں اپنے مفادات کےلیے  توڑ جوڑ کے ماہر ہیں اور مذہبی چورن بیچنے کے اچھے دوکاندار ہیں۔  آج کل مولانا فضل الرحمان پاناما کیس    میں نااہل ہونے والے نواز شریف کی مظلومیت بیچ رہے ہیں کیونکہ نواز شریف معاوضہ اچھا دیتے ہیں۔