گو نواز گو
پچھلے کئی مہینے سے پوری دنیا میں ایک نعرہ ضرور سنا گیا۔ Go Nawaz Go گو نواز گو۔ اور یہ نعرہ سوشل میڈیا پر کافی مقبول ہوا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نعرے کو مختلف ممالک کے الگ الگ لوگوں کے ذریعہ فلمایا گیا تھا۔ جس سے دیکھنے والوں میں دلچسپی اور بھی بڑھ جاتی تھی۔ افریقی، عربی اور یورپین لوگوں کے ذریعہ ’گو نواز گو ‘ کا نعرہ سوشل میڈیا پر دکھا جاتا جس سے دیکھنے والوں کو کافی مزہ آتا اور وہ اس کے ذریعہ ’گو نواز گو‘ کے مقصد سے بھی لوگ آگاہ ہوتے تھے۔
دراصل ’گو نواز گو ‘ کا مطلب پاکستان کے متنازعہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کو ہٹانا تھا۔ میاں نواز شریف جب سے پاکستان کے وزیراعظم بنے تھے اپوزیشن نے ان کو مسلسل ہٹانے کی مہم چلا رکھی تھی۔ خاص کر سابق کرکٹر اور پی ٹی آئی کے لیڈر عمران خان جنہوں نے میاں نواز شریف کے خلاف مورچہ کھول رکھا تھا۔
جمعہ 28 جولائی کو دنیا کی نگاہ پاکستان کے سپریم کورٹ کی طرف لگی ہوئی تھی۔ کیونکہ اُس دن سپریم کورٹ کو پاکستانی وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف لگے الزامات پر فیصلہ سنانا تھا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ کو وزیر اعظم نواز شریف کے ناجائز دولت پر تحقیقات کے بعد رپورٹ پیش کر دی گئی تھی۔ جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ میاں نواز شریف کو اس معاملے میں جیل ہو جائے گی۔ لیکن وہیں بہت سارے لوگ یہ بھی سمجھ رہے تھے کہ ممکن ہے سپریم کورٹ نواز شریف کو باعزت بری کر دے۔
جمعہ کو پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں پولیس اور فوج کو بھاری مقدار میں تعینات کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ پورے پاکستان میں حفاظت کا سخت انتظام کیا گیا تھا۔ زیادہ تر لوگ ٹیلی ویژن پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو سننے کے لئے بیٹھے ہوئے تھے۔ تاہم سوشل میڈیا معمول کے مطابق لوگوں کے بیچ اپنے چٹکلے انداز میں لوگوں کے تفریح کا سامان بنا ہوا تھا۔ جب سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے کا نا اہل قرار دیا تو پوری دنیا میں پاکستانیوں نے خوب جشن منایا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ اصل میں پاکستانی عید آج منا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر طرح طرح کے رنگ برنگے پیغامات آرہے تھے۔ کہیں میاں نواز شریف کو قصور وار دکھا کر عجیب و غریب حالات میں دکھا یا جا رہا تھا تو کہیں عمران خان کو ایک فاتح کے روپ میں دکھایا جا رہا تھا۔ ایسا ماحول بنا ہو اتھا جس میں ہر پاکستانی خوشی سے جھومتا نظر آرہا تھا۔
لندن کے زیادہ تر علاقوں میں پاکستانیوں نے خوب جشن منایا۔ لوگوں میں مٹھائیاں تقسیم کی گئی تو کہیں پارٹیوں کا اہتمام کیا گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آج پاکستان کو دوبارہ آزادی ملی ہے۔ ہر کسی کے چہرے پر خوشی صاف دِکھ رہی تھی اور لوگ میاں نواز شریف کے خلاف بولنے سے ہچکچا نہیں رہے تھے۔
سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے اپنے فیصلے میں میاں نواز شریف کے بارے میں کہا کہ ’ میاں نواز شریف نے 2013کے عام چناؤ میں اپنی دبئی کی کمپنی سے تنخواہ کے حوالے سے جو اطلاع الیکشن کمیشن کو دی تھی وہ غلط تھیں‘۔ سپریم کورٹ کے بینچ نے قرار دیا کہ ’ میاں نواز شریف پارلیمنٹ کے ایک ایماندار ممبر ہونے کے نا اہل ہیں‘۔ پاکستان کی سیاست میں اتار چڑھاؤ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو کبھی کبھی یہ سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ آخر کون سا نظام اصل ہے اور کون ملک کو چلا رہا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کو پاکستان کی ملٹری پر کافی بھروسہ ہوتا ہے کیونکہ انہیں ملٹری کا طریقہ کار اچھا لگتا ہے۔ یوں بھی پاکستان میں ملٹری نے کئی بار حکومت کو الٹ کر ملک کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ دوسری طرف ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور کرپشن نے لوگوں کے بیچ ایک الجھن پیدا کررکھی ہے۔
بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ میاں نواز شریف پاکستان کے تین بار وزیر اعظم منتخب ہوچکے ہیں۔ لیکن تینوں بار انہیں اپنی مدّت پورے ہونے کے قبل ہی ہٹنا پڑا۔ 1990میں میاں نواز شریف پہلی بار پاکستان کے وزیر اعظم بنے اور انہیں 1993بر طرف کردیا گیا۔ اس کے بعد 1997میں وزیر اعظم بنے لیکن دو سال بعد ہی پرویز مشرف کی فوجی بغاوت کی وجہ سے انہیں برخاست کر دیا گیا۔ پھر 2017 میں سپریم کورٹ نے انہیں وزیر اعظم سے نا اہل قرار دے دیا ہے۔ میاں نواز شریف کی پیدائش لاہور کے ایک ممتاز صنعت کار کے گھر ہوئی تھی۔ دولت تو شاید میاں نواز شریف کو وراثت میں ملی ہے لیکن کہتے ہیں کہ دولت کو مزید بڑھاوا انہیں سیاست میں شامل ہونے کے بعد ملا۔ لیکن میاں نواز شریف کی دولت انہیں نہ تو سپریم کورٹ کے فیصلے سے بچا سکی اور نہ ہی وہ عا م آدمی کی آواز کو دبا سکے۔
میاں نواز شریف جب بھی وزیر اعظم بنے ان پر بد عنوانی کے الزامات لگتے رہے۔ ہر بار وہ وزیر اعظم کی معیاد کو پورا کئے بغیر ہی کسی نہ کسی وجوہات سے کرسی چھوڑ جاتے تھے۔ لیکن اس بار سپریم کورٹ کے فیصلے سے انہیں نہ صرف وزیر اعظم کی کُرسی چھوڑنی پڑی بلکہ اب ان کا سیاسی کیرئیر بھی ختم ہوتا نظر آرہا ہے۔ اس فیصلے میں ان کی بیٹی مریم کے علاوہ ان کے خاندان کے دیگر افراد کا بھی نام آرہا ہے۔ پچھلے سال میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کا نام 2016کے پاناما پیپر کے منظرِ عام پر آنے سے ان کے خلاف کرپشن کی تحریک نے زور پکڑا تھا۔ تاہم اس دوران فن لینڈ کے وزیر اعظم نے سب سے پہلے اپنا نام ملوث ہونے پر استعفیٰ دے دیا۔ اس کے علاوہ اسپین میں بھی ایک وزیر کو بھی گرفتار کیا گیا ۔ کئی ممالک کے رہنما نے پناما پیپر میں اپنا نام ہونے کے باوجود وہ اپنے عہدے سے ٹس سے مس نہ ہوئے۔
ہندوستان کے بھی کئی نامور سیاستدان، صنعت کار اور فلمی اداکاروں کے نام پاناما پیپر میں شامل پائے گئے ہیں۔ لیکن ہندوستانی حکومت نے ان لوگوں پر کارروائی نہ کرکے اپنی نااہلی اور اور ان سے ہمدردی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ تاہم میاں نواز شریف کے استعفیٰ سے شاید ہندوستان اخلاقی اور ایمانداری کا مظاہرہ کرکے پاناما پیپر میں ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی کرے جو موجودہ حکومت سے ناممکن لگ رہا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نا اہلی سے دنیا کو یہ پیغام ملاہے کہ اگر کوئی سیاست دان کسی بھی طریقے سے پارلیمنٹ پہنچ جاتا ہے تو وہ اپنی من مانی اور ٹیکس دینے والوں کی رقم سے خزانہ جمع نہیں کرسکتا ہے۔ کیونکہ سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک عدالت بھی ہوتی ہے۔
البتہ ایک سوال اب بھی سب کے ذہن میں گھوم رہا ہے کہ کیا ایک میاں نواز شریف کو ہٹانے سے کرپشن کا خاتمہ ہوجائے گا۔