سابق وزیراعظم نا اہل کیوں ہوئے
- تحریر منور علی شاہد
- بدھ 02 / اگست / 2017
- 4527
3اپریل2016 کو جب پہلی بار پاناما کی لاء فرم موزیک فونیسیکا کی دستاویزات کی پہلی قسط جاری کی گئی تو اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ ایک سال اور تین ماہ بعد یہ پیپرز پاکستان کی سیاست کا نقشہ ہی بدل ڈالیں گے۔ اور تیسری بار پاکستان کے وزیراعظم بننے کا منفرد اعزاز رکھنے والے وزیراعظم ذلت و رسوائی سمیٹتے ہوئے سپریم کورٹ کی طرف سے متفقہ طور پر تاحیات نااہل قرار ہو جائیں گے۔
پاناما پیپرز کیس کا پاکستان میں اس انجام کو پہنچا ہے جس کا کسی کو تصور بھی نہ تھا۔ پاکستان میں اپنی طرز کا یہ ایک انتہائی منفرد، فلمی طرز کا سنسنی خیز اور خبروں سے بھرپور کیس تھا۔ اس کی کارروائی کے دوران انتہائی ڈرامائی موڑ بھی آئے اورمالی بدعنوانی کے ناقابل یقین طریقے اور قصے سننے کو ملے ۔ وزیر اعظم کا منصب کسی بھی ملک کے وقار کی علامت ہوتا ہے۔ اس کیس نے پاکستان کے پہلے سے مجروح وقار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ملکی سیاسی منظر پر چھائے جانے والے پاناما کیس کے فیصلے کے بعد پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سابق وزیراعظم نے سب سے بار باریہ پوچھا کہ میرا قصور کیا ہے۔ ان کو کون بتائے کہ جناب آپ کے قصور کی داستاں اس قدر طویل ، سیاہ اور شرمناک ہے کہ شاید مؤرخ بھی لکھتے ہوئے شرمائے۔ بیس اپریل کے فیصلے میں وزیراعظم بال بال بچے تھے لیکن اٹھائیس جولائی کے فیصلے کے بعد ان کے پاس کچھ باقی نہ رہا۔ نہ وزارت عظمی اور نہ اہلیت ، نہ عزت اور نہ وقار۔1980 سے لے کر اٹھائیس جولائی 2017 تک کی سیاسی زندگی پر نگاہ ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ کتنے بے قصور ہیں، کتنے معصوم ہیں اور کتنے صادق و آمین ہیں۔
ان کی سیاسی اہلیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تین بار منتخب ہونے کے باوجود ہر بار اپنی آئینی مدت پوری کرنے میں ناکام رہے ۔ ہر بار کون ان کی راہ میں روڑے اٹکاتا رہا۔ کیوں وہ آئینی مدت پوری نہیں کرتے رہے اس سوال کا سیدھا سادھا جواب یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم کو آئین و قانون کی پاسداری سے نفرت تھی ۔ اپنے سیاسی استاد ضیاء الحق کی طرح اپنی ہر بات کو قانون سمجھتے تھے جس کی تعمیل لازمی ہوتی تھی۔ سب اداروں کو آئین و قانوں کی مرضی کی بجائے اپنی ذاتی منشاء کے مطابق چلانا چاہتے تھے اورچلایا بھی۔ کرپٹ عناصر کی خاموش حمایت جاری رکھی۔ اہم ترین اداروں میں من پسند اور بدعنوان افسروں کی تعیناتی ان کا محبوب سیاسی مشغلہ تھا۔ سپریم کورٹ پر حملہ انہی کے دور کا سیاہ کارنامہ ہے۔ جنگ گروپ کے خلاف بغاوت کے الزامات واپس لئے گئے۔ ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد کم کرنے کی کوشش کی گئی اور من پسند ججوں کو آگے لانے کی کوشش بھی کی جاتی رہی۔
سب سے زیادہ آئینی ترامیم انہی کے تین ادوار میں کی گئیں۔ تیرھویں اور چودھویں ترامیم کے ذریعے ملکی تاریخ کے سب سے طاقتور وزیراعظم بنے لیکن اس کے باوجود کوئی بھی دور مکمل نہ کر سکے ۔ اپنے ادوار میں دیگر سیاسی پارٹیوں کا ساتھ دینے کی بجائے مذہبی جماعتوں کو اپنے قریب زیادہ رکھا۔ انہی میں ایک جماعت نے ان کو نااہل کروانے میں بنیادی کردار بھی ادا کیا۔ اٹھارویں ترمیم کے موقع پر پیپلز پارٹی کے بار بار کہنے کے باوجود باسٹھ، تریسٹھ آرٹیکلز کوختم نہ کیا کہ جماعت اسلامی اور مولانا فضل الرحمان کی ناراضگی کا خطرہ تھا۔ آج اسی ایک سیاسی غلطی کا خمیازہ بھگتا۔ یہی وہ آمرانہ سوچ تھی جس نے ان کو ہر بار ذلت و رسوائی سے دوچار کیا۔ ایمانداری اور بغیر تعصب کے اگر ان کے دور سیاست اور حکمرانی پر نظر ڈالی جائے تو یہی واحد وجہ سامنے آتی ہے کہ اداروں اور اہم ترین شخصیات کے ساتھ بار بار تصادم ان کی غیر جمہوری سوچ اور انفرادی فیصلوں، غیر قانونی اقدامات ، آئین اور اپنے حلف سے انحراف کی وجہ سے، وہ اس انجام کوپہنچے۔ اداروں کے اندر سیاسی مداخلت کی سب سے بڑی قیمت خود وزیراعظم کو ادا کرنی پڑی ہے۔
پاکستان میں سابق وزیر اعظم کی سیاست کا دور1980 میں اس وقت کے ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے دور سے شروع ہوا تھا۔ گورنر غلام جیلانی نے انہیں پنجاب کا وزیر خزانہ بنایا۔ اس کے بعد وہ وزارت عظمی تک پہنچنے سے پہلے دو بار وزیر اعلی پنجاب بھی رہے۔ ان دونوں ادوار کے بارے میں اس وقت کی آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق قومی خزانے کو 35 ارب کا نقصان پہنچایا گیا۔ نواز شریف کے نومبر1990 میں پہلی بار وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد1992 میں کوآپریٹیوسوسائٹی کے نام سے ایک بڑا مالیاتی سکینڈل سامنے آیا۔ اس میں سات لاکھ سفید پوش اور غریب طبقے کی زندگی بھر کی کمائی لوٹ لی گئی تھی ۔ خبروں کے مطابق اس وقت سترہ ارب روپے لوٹے گئے تھے۔ سب سوسائٹیز کو دیوالیہ قرار دے دیا گیا تھا۔ قرض اتارو ملک سنوارو کے نام سے سب سے بڑے مالی فراڈ کو کون بھول سکتا ہے۔ اس وقت کے اخبارات کے مطابق اربوں روپے وزیراعظم فنڈ میں جمع ہوئے جن کا آج تک پتہ نہ چل سکا کہ وہ رقم کہاں گئی۔ 1994میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے حدیبیہ پیپرز ملز اور حدیبیہ انجینئرنگ کمپنی کے خلاف خصوصی عدالت میں چالان جمع کرایا جس میں نواز شریف پر دھوکہ دہی اور رقم خوردبرد کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ لیکن تین سال بعد بطور وزیراعظم جون1997میں اپنے سیاسی اثر ورسوخ کے باعث لاہور ہائی کورٹ میں درخواستیں دے کر دونوں چالان کو خارج کرایا۔ اس ریفرنس کی بازگشت ایک بار پھر پاناما کیس میں سنی گئی۔ اسی طرح رمضان شوگر ملز میں بھی بڑی رقم خورد برد کا کیس نیب میں بیس سال تک موجود رہا اور کبھی بھی کھلنے نہیں دیا گیا تھا کہانی یہیں تک ختم نہیں ہوتی۔
بدقسمتی سے عوام نے ہر بار ان کی بدعنوانیوں کو نظر انداز کیا۔ قومی احتساب بیورو جو کہ نیب کے نام سے مشہور ہے میں 1999-2000 کے دوران سابق وزیراعظم کے خلاف درج کئے گئے مقدمات میں سترہ برس گزر جانے کے بعد آج بھی9 ریفرینسز باقی ہیں جن کی تفتیش جاری ہے۔ ان میں چار انتہائی اہم نوعیت کے تھے۔ ان میں ایک ہیلی کاپٹر کے نام سے مشہور ریفرنس ہے جس میں جج فرخ لطیف نواز نے1993 میں خریدے گئے چھ لاکھ پاؤنڈ مالیت کے ہیلی کاپٹر پر ٹیکس ادا نہ کرنے اور اثاثے ظاہر نہ کرنے کی پاداش میں چودہ سال قید اور دو کروڑ روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ تاہم اس کیس میں صرف چھ ماہ قید میں گزارنے کے بعد لبنان کے وزیراعظم رفیق حریری اور سعودی عرب کی مداخلت سے ایک معاہدہ کے بعد بیرون ملک چلے گئے تھے۔ یہ مقدمہ اٹک جیل میں سنا جاتا رہا تھا۔ رائے ونڈ سٹیٹ کیس کے نام سے ایک ریفرنس نیب2000 میں بھجوایا گیا تھا جس کے مطابق رائے ونڈ میں ان کی ذاتی رہائش گاہ جاتی عمرا میں چار سو ایک کنال زمیں پر رہائشی تعمیرات کے حوالے سے جو رقم خرچ اور ادا کی گئی تھی، وہ ان کے بیان کردہ اثاثوں سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ یہ ریفرنس بھی تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کے بعد مارچ 2014 میں لاہور ہائی کورٹ سے ختم کرائے گئے اور نیب کوسپریم کورٹ میں اپیل نہ کرنے دی گئی۔
پانا ما کیس کے دوران سپریم کورٹ نے نیب اور اس کے چئیرمین کے بارے میں جو کچھ کہا اس سے اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ سابق وزیراعظم کے دور میں نیب کو کس طرح سیاسی دباؤ کے تحت ذاتی مفاد کے لئے استعمال کیا گیا۔ اتفاق فاؤنڈری قرضہ کیس کے قصے پرانے قومی اخبارات میں موجود ہیں۔ پاناما کیس میں جے آئی ٹی کی تحقیق کے دوران ہی یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ 1970تک شریف فیملی کے اثاثوں کی ملکیت دس لاکھ تھی اوربھٹو دور میں کوئی کمی نہ ہوئی تھی۔ 90۔1980 کی دہائی میں اثاثوں میں اضافہ ہونا شروع ہوا تھا اور انیس سو بانوے اور چورانوے کے دوران اثاثے چار گنا ہو چکے تھے۔1980میں پنجاب کے وزیر خزانہ بننے کے بعدہی دولت گھر میں تیار ہونے لگی تھی جس کا سلسلہ نا اہلی تک جاری تھا۔