لندن میں کنواری سے ملاقات

بقول اماں کے زما نہ خاک ترقی کر گیا ہے، بس زمانے کو بے حیائی کی ہوا لگ گئی ہے۔ بس یہی وجہ ہوگی، اسی لیے تو اور سب چھوڑ چھاڑ ٹرینوں کا بھی نام ایسا رکھا ہے کہ بندہ بڑے بوڑھوں کے سامنے نام لیتے ہوئے بھی ہچکچائے۔ جب میں نے یہ نام پہلی دفعہ سنا توکانوں کو زور زور سے جھٹکایا کہ شاید غلط سن لیا ہے۔ پھر لغت نکال کر دیکھا کہ شاید اس کا مطلب وہ نہ ہو جسے سمجھ کر ہم شرما رہے ہیں۔ مگر بے سود۔۔۔

اے نوج۔ ممانی سن لیتیں تو ناک پر انگلی رکھ کر بولتیں۔ پر اب کیا کیا جائے۔ اس کا برق رفتار ٹرین کے اس نام سے کیا لینا دینا ہے۔ یہ تو صرف اس دیو ہیکل کنسرن کے کرتا دھرتا ہی بتا سکتے ہیں۔ یہ جو ہوائی جہاز اور  برق رفتار ٹرینیں چلا رہے ہیں۔ مگر نام ۔۔۔۔۔ نام کنواری Virgin آخر کیوں رکھا ہے سمجھ سے باہر ہے۔ پھر ہم نے انٹرنیٹ پر بکنگ بھی کرا لی۔ مگر اس کنواری نے ای میل تو بھیجا ای ٹکٹ ندارد۔ حتی کہ ہم پلیٹ فارم پر کھڑے جھگڑتے ہی رہے۔ کاغذ پر چھپے بل کی کاپی دکھاتے رہے۔ اس پر سوار ہونے کی حسرت سے اسے گزرتے دیکھتے رہے۔ کافی تگ و دو کے بعد دوسری ٹرین کا دوبارہ ٹکٹ خریدا تو ورجن ٹرین کے نام کا مطلب سمجھ آگیا۔ خون کے آنسو بہاتی میڈونا کا بھی ۔۔۔ کنواری سمندر کی شہزادی کا بھی۔ آخر کنسرن چلانا معمولی بات تو نہیں۔ کنوارہ پن ختم ہوا۔ اور ورجن ٹرین ہمیں لے کر اڑنا شروع ہوئی۔

اس سے قبل شام کے کھانے پر فہیم  اور ان کی بیگم نے نہایت پر تکلف دعوت کر رکھی تھی۔  فہیم بہت اچھے کہانی کار اور کالم نگار ہیں۔ خوبصورتی سے سجے آشیانے میں ہم سب مدعو تھے۔ میں نے بچوں کو دکھا یا،  دیکھو انکل ملکہ برطانیہ کے حضور میں۔ میں اور نغمہ تو خیر کھانے پینے کے چور ہیں ہی۔ مگر ریشمہ کے بچے ماشاء اللہ بڑے بچے بھی تکلف کرتے رہے۔ یوں بھی کھانا بے شمار اقسام اور بے حد زیادہ تھا۔ یہ ان دونوں کی محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ 

کوثر خان بہت اچھی شاعری کرتی ہیں۔ ان کی محبت و خلوص سے بھری طبعیت اور اس سے بھی زیادہ ان کی خوبصورت شاعری کے قائل ہم دونوں میاں بیوی برسلز میں ہی ہو چکے تھے۔ بدقسمتی سے ان کی دعوت ہم لوگ قبول نہ کر سکے۔  مانچسٹر اسٹیشن پر امتیاز بھا ئی اور نغمانہ بہن موجود تھیں۔ مانچسٹر کی فضا میں وہاں پہنچتے ہی رچی بسی محبت و خلوص کی خوشبو ایک دم طبعیت کو سرور دے گئی۔ (و پر پیش کے ساتھ پڑھیئے)۔  شام کو ہی مشاعرہ تھا۔ میرے اعزاز میں۔ نغمانہ بہن نے بہت شاندار اہتمام کر رکھا تھا۔

شام کے پروگرام میں لوگ آتے گئے۔ محفل سجتی گئی۔ ریڈیو والوں نے انٹرویو بھی لیا۔ سید احمد نظامی  سے بات چیت رہی۔ تفصیلات و تصاویر فیس بک پر موجود ہیں۔  نغمانہ بہن اور امتیاز بھائی کا کنبہ ان کے دونوں بیٹوں اور بہوؤں، ان کی لڑکی اور پوتے پوتیوں پر مشتمل نہایت ہرا بھرا گھرانہ ہے۔ ان دونوں نے بچوں کی تعلیم و تربیت پر بہت کچھ صرف کیا ہے۔ جب ہی ان کے سب بچے بڑے بھی اور چھوٹے بھی نہایت مخلص اور مغرب و مشرق دنوں تہذیبوں کے اداب سے مرصع ہیں۔

ہم نے کچھ عید مانچیسٹر اور کچھ لندن میں منائی۔ سو  پہلی بار عید منانے کے کئی فوائد سے آگاہ ہوئے۔  برطانیہ میں عید ویسے ہی منائی جاتی ہے جیسے کراچی و لاہور میں۔ ہم برلن کے باسی تو ایسی دیسی لوازمات سے بالکل ہی محروم رہے ہیں۔