کیا کوئی نااہلیت کی تلوار سے بچ سکے گا
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعرات 03 / اگست / 2017
- 3737
پاکستان کی اعلی ترین عدلیہ کے پانچ رکنی بینچ نے متفقہ طور پر میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیا ہے۔ لیکن میاں صاحب اس بات پربضد ہیں کہ ان کو بتایا جائے کہ ان کا قصور کیا ہے۔ وہ یہ تو بارہا پوچھ چکے ہیں کہ مجھے میرا قصور بتایا جائے مگر انہوں نے ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ میرے بچوں کا کیا قصور ہے انہیں کیوں اس معاملے میں گھسیٹا گیا ۔
مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے بارہا میاں صاحب کے بچوں اور دیگررشتہ داروں کو بلایا کہ وہ یہ بات واضح کردیں کے آمدنی کے ذرائع کیا تھے اور جو پیسہ ملک سے باہر گیا وہ کیسے گیا۔ مگر یہ بات ثابت کرنے کیلئے پیش کی جانے والی دستاویزات ناکافی ثابت ہوئیں۔ جو لوگ تفصیلی فیصلے کی ورق گردانی کر چکے ہیں وہ یہ بتا سکتے ہیں کہ پیش کی جانے والی دستاویزات ٹھیک نہیں تھیں۔ ہمارے ملک میں کسی بھی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کوئی باقاعدہ حکمتِ عملی تیار نہیں کی جاتی ۔ پانامہ لیکس کے بعد سے پاکستان کے سیاسی ماحول میں ایک ایسی گرما گرمی ہے جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ اس سیاسی دباؤ میں نواز لیگ میں اگر کوئی علیحدہ گروپ بن گیا ہے اور پارٹی میں توڑ پھوڑ شروع ہو گئی تو اس پارٹی کا سیاسی مستقبل تاریک ہو جائے گا۔
آخر احتساب ایسی کون سی بلا ہے جس سے سب ہی بوکھلائے ہوئے ہیں اور خوفزدہ دکھائی دیتے ہیں ۔ احتساب کرنے والے بھی ہماری طرح کے انسان ہیں اور سب سے بڑھ کر پاکستانی بھی ہیں تو پھر بوکھلاہٹ اور خوف کس بات کا ہے ۔ اگر واقعی انصاف چاہتے ہیں تو پھر اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کردیں۔ ہمیں کوئی احتساب کا پیمانہ بنانا پڑے گا۔ اور اس کے لئے ایک دستاویز مرتب کرنی پڑے گی۔ جیسے 2007 میں قومی مفاہمتی فرمان (NRO) جاری ہؤا تھا۔ جس کے تحت سارے کرپٹ لوگوں کو معاف کردیا گیا تھا۔ کیا ہم ایسا ہی کوئی فیصلہ ابپھر سے کرنا چاہتے ہیں۔ اگر نہیں تو احتساب کے عمل کو آگے بڑھانا ہوگا۔
کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کرتے ہوئے گزشتہ چار سالوں کا جائزہ لیں تو دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان مسلسل سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ جبکہ عوام دہشت گردی سے بری طرح اثر انداز ہوئے ہیں۔ عوامی مسائل اپنی جگہ جوں کے توں موجود رہے ۔ پاکستان میں انتخابات کو پیچیدہ گورکھ دھندہ بنا دیا گیا ہے۔ انتخاب کے انعقاد پر قیمتی قومی وسائل صرف ہوتے ہیں۔ لیکن منتخب ہوکر آنے والے لوگوں میں بہت سے کرپٹ نکلتے ہیں اور ان کی تحقیقات پر علیحدہ کثیر وسائل صرف ہوتے ہیں۔ ملک کے عوام اور دانشوروں کو اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے کام کرنا ہوگا۔
پاکستان کی سلامتی اور بقا کیلئے شفاف احتساب کی ابتدا ہو چکی ہے۔ اب اس عمل کو آگے لے کر جانا ہے۔ قوم کو یہ جنگ بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی طرح ہی جیتنی ہے۔ اس مقصد کے لئے سب کو سیاسی نظریات سے قطع نظر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔