مکران میں کھجور کے بے یار و مددگار کاشتکار
- تحریر غلام یاسین بزنجو
- جمعرات 03 / اگست / 2017
- 10909
بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا آدھا حصہ ہے۔ اس صوبے کو قدرت نےنہ صرف خوبصورت ساحلی پٹی دی ہے بلکہ قدرتی وسائل اور معدنیات سے بھی نوازا ہے ۔ بلوچستان کے ساحل کا جغرافیہ ملکی دفاع کے لئے ناگزیر ہے ۔ اقتصادی لحاظ سے بھی یہ ساحلی علاقہ اہم ہے۔ اسی ساحل سے اعلیٰ کوالٹی کی مچھلی اور جھینگے مختلف ممالک کو برآمد کرکے کثیر زرمبادلہ حاصل کیا جاتا ہے۔
دوسری طرف بلوچستان کا مکران ڈویژن جو تین اضلاع پر مشتمل ہے ، جن میں ضلع کیچ ، ضلع پنجگور اور ضلع گوادر شامل ہیں ۔ مکران پاکستان کا واحد ڈویژن ہے جو کہ سالانہ ایک سو ستائیس میٹرک ٹن کھجور برآمد کرتا ہے ۔ یہاں ایک سو بیس کے قریب مختلف اقسام کی کھجور پائی جاتی ہے۔ مکران میں اعلیٰ درجہ کے کھجور پیدا ہوتی ہے ۔ جس میں موضاتی ، بیگم جنگی ، آب دندان ، کوزن باد ، جدگالی ، شکری ، سبزو ، ہلینی ، گوگ نا ، کنگو ، اور دیگر اقسام شامل ہیں ۔ مکران میں پیدا ہونے والی کھجور ملک اور بیرون ملک میں شوق سے کھائی جاتی ہے ۔ یہ کھجور ایران ، عرب امارات ، امان اور دیگر خلیجی ممالک میں تحفے کے طورپر بھی جاتی ہے ۔
بلوچستان سے منتخب ارکان اسمبلی پنجاب ، خیبر پختونخواہ ، سندھ ، اور آزاد کشمیر کے سیاسی دوستوں کے لئے مکران کی کھجور تحفہ کے طورپر لے جاتے ہیں جسے بےحد پسند کیا جاتا ہے ۔ ماضی میں بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے لوگ کھجور کی سیزن ( ہامین ) میں آتے تھے ۔ ہامین جو کہ بلوچی زبان کا لفظ ہے، کھجور کے سیزن کیلئے استمال کیا جاتا ہے۔ سیزن ختم ہونے پر لوگ کھجور ساتھ لے کر واپس اپنے علاقوں میں چلے جاتے تھے ۔ ماضی میں لوگ غربت اور بیروزگاری کی وجہ سے کھجور کے سیزن (ہامین ) کا باقاعدہ انتظار کرتے تھے ۔ مکران واحد علاقہ ہے جہاں لوگ باقی بلوچستان سے آنے والے اپنے بھائیوں، بہنوں کو کھجور کے پوری سیزن ( ہامین ) میں اپنے پاس رہائش دیتے تھے ۔ مکران میں کھجور ضلع کیچ اور پنجگور میں بڑی تعداد میں پیدا ہوتی ہے ۔ جبکہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں یہ پیداوار نہیں ہوتی ، جس کی وجہ زمین میں نمکیات اور سمندر کا قریب واقع ہونا بتائی جاتی ہے ۔
یہ کوئی نہیں جانتا کہ مکران میں کب سے کھجور پیدا ہورہی ہے ۔ کچھ تاریخی دستاویزات میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ سکندر اعظم نے جب بلوچستان کے مکران کے علاقوں میں کچھ عرصہ قیام کیا تھا تو ان کا گزر بسر مکران کی تازہ کھجور پر ہوتا تھا ۔ لیکن بدقسمتی سے آج کے جدید ترین ٹیکنالوجی کے دور میں بھی بلوچستان خصوصاً مکران کے کاشتکار انتہائی مشکلات و مصائب کا شکار ہیں ۔ نہ کوئی جدید طریقہ کار موجود ہے اور نہ ہی ان کاشتکاروں کی کوئی ٹرینگ ہے۔ وہی پرانے روایتی طریقے اپنائے ہوئے ہیں ۔ سیزن سے تھوڑے عرصہ پہلے کھجور کے درختوں پر چڑھ کر کھجور کے گھنچوں کو ٹوکریوں ( سوندھ ) میں ڈالتے ہیں تاکہ محفوظ رہیں اور زمین پر بھی نہ گریں ۔
حکومتی سطح پر مقامی کسانوں کی مدد نہ ہونے کا برابر ہے ۔ جس کے باعث سالانہ کئی ٹن کھجور کی برآمدات ضائع ہو جاتی ہیں ۔ اگر حکومت کی طرف سے مقامی کسانوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کو مطلوبہ ساز و سامان اور آسان اقساط پر قرض دیئے جاتے تو آج مکران بلوچستان سے کھجوروں کی فصل کے ذریعے ملکی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا فائدہ پہنچا رہا ہوتا۔ چند سال قبل ایک غیر سرکاری ادارے کی سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا کھجور پیدا کرنے والا ملک ہے ۔ جبکہ بلوچستان کے مکران ڈویژن میں سالانہ ستر فیصد کھجور پیدا ہوتی ہے۔ کھجور جو کہ دوا بھی ہے اور غذا بھی ۔ مگر صحیح معنوں میں تربیت اور دیگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی سے مکران کے کسان سخت نالاں ہیں ۔
حکومت کھجور کی پیداوار کی دیکھ بھال اور کسانوں کو ضروری سہولیات اور امداد فراہم کرکے نہ صرف انکی زندگی بہتر بنا سکتی ہے بلکہ اس علاقے میں روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔