قصور آخر بھٹو کا نکلا ۔۔۔
- تحریر سید شاہد عباس
- جمعرات 03 / اگست / 2017
- 4989
یہ کہنا چاہئے کہ نہ ذولفقار علی بھٹو صنعتوں کو قومیانے کی پالیسی متعارف کرواتے(72سے 77) نہ میاں محمد شریف کی سٹیل مل قومی تحویل میں لی جاتی۔ نہ وہ ضیاء الحق کے ہم خیال بنتے (اپنا کاروبار بچانے کے لیے) اور نہ ہی انہیں میاں محمد نواز شریف صاحب کو سیاست میں متعارف کروانا پڑتا (1976میں مسلم لیگ کا حصہ)۔ پھر نہ ہی غلام جیلانی نئے سیاسی راہنماؤں کی تلاش میں نکلتے اور نہ ہی ان کی نظر انتخاب میاں نواز شریف پر پڑتی (1980) اور نہ ہی انہیں پنجاب مشاورتی کونسل کا ممبر چنا جاتا(1981)۔ جس کے بعد انہوں نے مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا اور آج وہ تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کی کرسی سے اتر چکے ہیں۔
صوبائی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی شاباشی نے ان کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا کہ یہ کہنا واقعی درست ہے کہ آج جتنا نقصان وہ خود کو خود پہنچا سکتے ہیں کوئی اور نہیں پہنچا سکتا۔ یہ بھی مکافات عمل ہے کہ گزرے کل میں نواز شریف نے کسی حد تک مضبوط ہوتے منتخب وزیر اعظم کی حکومت کا تختہ الٹنے میں اس وقت کے ڈکٹیٹر کی حمایت کی (جونیجو حکومت)۔ اور آج وہ اپنی حکومت جانے کا واویلا کر رہے ہیں۔ انہیں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے ایک طویل سماعت کے بعد نااہل قرار دیا ہے۔ اگر جونیجو اس وقت کے فوجی حکمران کے خلاف اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے مضبوط ہو جاتے تو آج جمہوریت کی شکل بالکل مختلف اور خوبصورت ہوتی ۔ مگر میاں صاحب نے ایک ڈکٹیٹر کی حمایت کرکے پاکستانی جمہوریت کے روشن مستقبل (جونیجو حکومت) کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا ۔
پاکستان کی جمہوری تاریخ میں سے اگر اسلامی جمہوری اتحاد سامنے نہ آتا تو بھی آج یقیناً پاکستانی جمہوریت مضبوط بنیادوں پہ استوار ہوتی ۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے کم و بیش 80 فیصد امیدوار میاں صاحب کی پارٹی سے تھے ۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ یہ اتحاد کتنا اسلامی تھا اور کتنا جمہوری جو صرف پاکستان پیپلز پارٹی کا راستہ روکنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ آج ایک قانونی فیصلے کی بنیاد پہ تنقید کے نشتر برساتے میاں صاحب نہ جانے کیوں اس وقت ایک منتخب حکومت کو ختم کرنے کی حمایت کو اپنا کھرا سچ سمجھتے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی نمائندہ باربرا کروسیٹ نے انتخابی مہم کے دوران ایک رپورٹ تیار کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ نگران حکومت کیوں کہ بی بی کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں کر پائی لہذا وہ انتخابی مہم میں کامیابی حاصل کر رہی ہیں (90ء)۔ مگر باربرا جانتی نہیں تھی کہ اسلامی جمہوری اتحاد میں پیسہ ہے اور پیسہ جہاں بولتا ہے وہی پلڑا بھاری ہوتا ہے۔ اس اتحاد کا جس کا کچا چھٹا اصغر خان کیس میں کافی حد تک واضح ہو چکا ہے۔
مجھے حیرانی ہوتی ہے جب ضیاء دور کی نوازشات، اسلامی جمہوری اتحاد کا غیر جمہوری وجود، صوبائی پارٹی صدر ہو کر مرکزی پارٹی صدر(جونیجو) کی مخالفت، غیر جمہوری اتحاد کے سربراہ کے طور پہ 90 میں عنان اقتدار سنبھالنا، آرمی چیف سے گلف وار میں اختلافات، بینظیر کی حکومت گرانا ، 97 میں حکومت عدلیہ محاذ آرائی کے دوران فاروق لغاری کی برطرفی، اعلیٰ عدلیہ پر حملہ، 98 میں آرمی چیف کی برطرفی، 99 میں آرمی سے پرانی ڈگر پر اختلافات برقرار رکھنا اور اپنی مرضی سے معاہدہ کرکے سعودی عرب چلے جانا ۔۔۔ اگر یہ تمام واقعات جمہوریت کے خلاف کسی طرح کی سازش میں شمار نہیں ہوتے اور سول ڈکٹیٹر شپ کا عملی نمونہ نہیں ہیں تو یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پھر حالیہ اعلیٰ عدالتی فیصلہ کس طرح جمہوریت کے خلاف سازش ہو سکتا ہے۔
اگر اعلیٰ عدالت کے فیصلے کو تختہء مشق بنانا جمہوریت ہے تو اس قول کا کیا کیا جائے کہ عدالتوں کے فیصلے ماننا ہی جمہوریت کا اصل حسن ہے۔ تو کیا یہ مان لیا جائے کہ سارا قصور بھٹو کا تھا۔ نہ وہ صنعتوں کو قومیانے کی پالیسی متعارف کرواتے اور نہ ہی۔۔۔ ۔