وزیر اعظم کی نااہلی کا معاملہ

میاں نواز شریف کی نااہلی سپریم کورٹ کے بنچ کا متفقہ فیصلہ ہے ۔ لیکن اس مسئلہ کو نواز شریف کے حامی، ان کی جماعت، قانونی ماہرین اور سیاسی دانشورمتنازعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ پانامہ مقدمہ کے آغاز سے ہی  یہ کوشش کی گئی تھی کہ اس قانونی مسئلہ کو سیاسی نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف انتقامی مسئلہ سمجھ کررائے عامہ کو ہموار کیا جائے۔ اور یہ بتایا جائے کہ  ان کی نااہلی، کرپشن اور بدعنوانی پر نہیں بلکہ ایک ملکی اور بین الااقوامی سازش کی وجہ سے ہوئی ہے اور  اس کھیل کا ایک مہرہ عمران خان بھی ہیں۔

نواز شریف کی نااہلی عوامی نمائندگی ایکٹ1976کی دفعہ 99اور آرٹیکل 62 کے تحت ہوئی ہے ۔ عدالت کے بقول نواز شریف نے یو اے ای میں قائم کمپنی ایف زیڈ ائی سے قابل وصول تنخواہ کو 2013 کے انتخابات میں  کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرکے قانو ن کی خلاف ورزی کی ہے۔ اور وہ اب عوامی نمائندگی ایکٹ1976کی دفعہ 99کی روشنی میں ایماندار نہیں رہے ۔ اب نواز شریف اور ان کے ساتھی یہ منطق دے رہے ہیں کہ ان کو دبئی میں تنخواہ چھپانے پر نااہل کیا گیا ہے۔ جبکہ ان پر کرپشن اور بدعنوانی کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوسکا۔ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ نواز شریف اور ان کے خاندان سمیت ان کی جماعت کے لوگ یہ کیسے قبول کریں گے کہ ان کی نااہلی، کرپشن اور بدعنوانی کے معاملات کی وجہ سے ہوئی ہے ۔ لیکن قانونی ماہرین اور اہل دانش کا ایک گروہ جس انداز سے عدالتی فیصلہ کی اپنی خواہشات کے مطابق تشریح کررہا ہے وہ قابل توجہ ہے۔ نواز شریف کی حمایت ضرور کی جانی چاہیے ، لیکن حقایق کو تڑور مڑور کر پیش کرکے سچ کو چھپانا مناسب عمل نہیں ۔ یہ کہنا کہ نواز شریف پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ، درست تشریح نہیں ہے ۔ کیونکہ عدالت نے ان کی نااہلی ان کے صادق اور امین  نہ ہونے پر کی ہے۔  جبکہ کرپشن کے معاملات کو ریفرنس کے طور پر نیب کو بھیجا گیا ہے ۔

اصل میں وزیر اعظم کی نااہلی عدالت کے سابقہ فیصلہ کا تسلسل ہے اور اسے سابقہ فیصلہ کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے ۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ سپریم کورٹ کے گزشتہ فیصلہ میں دو فاضل ججوں نے ان کو نااہل قرار دیا تھا کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے اور اس کی کئی وجوہات بھی پیش کی گئی تھیں۔ لیکن سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلہ میں تین ججز کا موقف تھا کہ اگرچہ معاملات سنگین نوعیت کے ہیں  لیکن ان معاملات پر مزید تفتیش کی ضرورت ہے تاکہ ہم بہتر نتیجہ پر پہنچ سکیں ۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کی جانب سے جے آئی ٹی کی تشکیل کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے ۔ اب پانچ رکنی بنچ کا پانامہ کیس میں حتمی فیصلہ آیا ہے۔ یہ   دو حصوں میں تقسیم ہے ۔ اول وزیر اعظم کی نااہلی اور دوئم وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے کرپشن کے معاملات ۔

عدالت کا موقف ہے کہ حالیہ نااہلی کے فیصلہ کو پچھلے فیصلہ کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے۔  یہ یاد رکھا جائے کہ اس فیصلہ میں  دو ججز کی طرف سے جو الزامات لگائے گئے تھے، ان کی تفصیل یہ تھی ۔ اول قومی اسمبلی میں نواز شریف کی بطور وزیر اعظم کی گئی تقریرمیں غلط بیانی ، دوئم منی ٹریل کی فراہمی میں ناکامی، سوئم غلط دستاویزات  جمع کروانا ، چہارم ان کا رہم سہن معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ  تھا۔ ان الزامات کی بنیاد پر جو جے آئی ٹی بنی اس تفتیش میں ان الزامات کے ساتھ ساتھ نئے الزامات بھی شواہد کی بنیاد پر سامنے آئے ۔ جن میں سپریم کورٹ میں غلط دستاویزات جمع کروانا ،  پیش کئے گئے گواہوں کے بیانات میں واضح تضادات، ریکارڈ میں ردوبدل ، شواہد کے برعکس حلف نامے یا بیان حلفی جمع کروانا ،12ملین درہم کی منی ٹریل کی عدم فراہمی اوراس کا بوگس ثابت ہونا۔  قطری شہزادے کا جعلی خط اوراس کا عدالت میں پیش نہ ہونا ، نواز شریف کی طرف سے مسلسل اس بات پر زور دینا کہ وہ اپنے خاندان کے کسی کاروبار میں نہ تو عہدہ رکھتے ہیں اور نہ مالی طور پر اس کا فائدہ لیتے ہیں اور ان کے بچے آزدانہ بنیادوں پر کاروبار کرتے ہیں۔ یہ سب غلط ثابت ہوا۔

جہاں تک کرپشن کا تعلق ہے،  سپریم کورٹ  چونکہ ٹرائل کورٹ نہیں ہے ،  اس لئے  نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلہ کے تحت چھ ہفتے کے اندر اندرجے آئی ٹی ، ایف آئی اے اور نیب کے پاس پہلے سے موجود مواد کی بنیاد پر نواز شریف ، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز، کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ عدالت کے بقول ان سب پر ایون فیلڈ پراپرٹیزکے حوالے سے ریفرنس دائر کیا جائے ۔ اسی طرح  نواز شریف ، حسین نواز اورحسن نواز پر عزیزیہ اسٹیل کمپنی ، ہل میٹل سمیت تفصیلی فیصلہ کے پیراگران 9 میں بتائی گئی دوسری کمپنیوں کے حوالے سے ریفرنس نیب میں بھیجے جائیں۔ یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ نیب نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف عدالتی کاروائی میں شیح سعید، موسی غنی ، جاوید کیانی اور سعید احمد کو بھی شامل تفتیش کرے ۔اسی طرح نیب ان افراد کے خلاف سپلمینٹری ریفرنسز بھی دائر کرسکتا ہے کہ اگر ان کی دولت زرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ اسحاق ڈار کو حدیبیہ پیپرز مل کے حوالے سے ان کے وعدہ معاف گواہ کے بیان سے مخرف ہوجانے کے بعد ان کے پرانے شریک جرم اسٹیٹس کو بحال کردیا گیا ہے اور ان کی آمدنی سے زائد اثاثے اور فنڈ رکھنے پر نیب میں ریفرنس بھیجا جائے گا۔ چیف جسٹس سے درخواست کی گئی ہے کہ اس عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد او رنگرانی کے لیے سپریم کورٹ کے ایک جج کی تقرری کی جائے ۔

عدالت کا موقف ہے کہ جے آئی ٹی سمیت دیگر پیش کی گئی رپورٹس میں ایسے مضبوط شواہد موجود ہیں جس کی بنیاد پر ان پر ٹرائل کورٹ کے تحت مقدمات چلنے چاہئیں۔ اس لیے آنے والے دنوں میں جب یہ معاملات نیب میں مختلف مقدمات کی صورت میں آگے بڑھیں گے تو نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کو ایسے شواہد پیش کرنے ہوں گے جو ان کو بے قصور ثابت کرسکیں ۔ لیکن وہ یہ تمام شواہد ابھی تک نہ تو سپریم کورٹ میں پیش کرسکے اور نہ ہی جے آئی ٹی میں جو ان کو ان تمام الزامات میں بے گناہ ثابت کرسکیں ۔ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے سپریم کورٹ نے مناسب مواقع فراہم نہیں کیے۔ ان کو جو بھی مواقع ملے اس میں وہ شواہد پیش نہیں کرسکے۔ بلکہ ہر دفعہ نئے تضادات اور کہانیوں نے جنم لیا۔

یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کی کرپشن یا بدعنوانی کا معاملہ اب ریفرنسز کی صورت میں نیب کے پاس ہے اور عدالت کے حکم کے مطابق ان تمام مقدمات کو اگلے چھ ماہ میں طے ہونا ہے ۔ مے فیئر فلیٹس میں نواز شریف اور ان کے بچوں کو باقاعدہ ملزم قرار دے کر ان کے خلاف تین مقدمات نیب کو بھیجے گئے ہیں جہاں سزاؤں،  قید اور جرمانہ کے حتمی اعلان سے قبل ان کو اپنے خلاف گواہوں پر جرح کرنے کی اجازت بھی ہوگی ۔ اگر جرم ثابت ہوگیا تو ان کو فوجداری سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے نواز شریف اور ان کے خاندان کا معاملہ محض نواز شریف کی نااہلی تک محدود نہیں۔ یہ ابتدا ہے اور آگے بہت کچھ سامنے آئے گا۔

نواز شریف کی نااہلی کو سیاسی تنہائی میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس کو پانامہ کے پورے مقدمہ ، یعنی تین مراحل اول پانچ رکنی بنچ کا مکمل تفصیلی فیصلہ اور ججوں کے ریمارکس، دوئم جے آئی ٹی کی مکمل تفتیشی رپورٹ جو سپریم کورٹ میں جمع ہوئی اور سوئم پانچ دن تک جاری جے آئی ٹی کی رپورٹ پر فریقین کی بحث ۔۔۔۔ تب ہی بات سمجھی جا سکے گی۔  نواز شریف کی نااہلی پچھلے فیصلہ سے جڑا ہوا حالیہ فیصلہ ہے کہ وہ بہت سے معاملات میں جان بوجھ کر عدالت میں غلط بیانی اور غلط شواہد پر زور دیتے رہے۔ یہی  ان کی نااہلی کا اصل سبب بنا۔