پاکستان کے سیاسی 'لیموں نچوڑ'
بچپن میں پڑھی گئی کہانیوں میں آپ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں ضرور پڑھا ہوگا جو جیب میں لیموں ڈال کر کھانے کے وقت کہیں نہ کہیں پہنچ جاتا اور پھر کھانا کھانے والوں کو اس میں لیموں نچوڑنے سے حاصل ہونے والے ذائقے اور خصوصیات کا ذکر کرکے اپنا گرویدہ کر لیتا تھا۔ جیسے ہی لوگ اس کی باتوں کے قائل ہوتے نظر آتے، یہ بن بلایا مہمان جھٹ پٹ جیب سے لیموں نکال کر کھانے پر نچوڑتا اور خود بھی کھانے میں شریک ہو جاتا۔ یوں زبانی جمع خرچ سے وہ مفت میں کھانا بھی کھا لیتا اور کسی کا احسان مند بھی نہ ہوتا۔
اب یہ ہنر ترقی کرتے کرتے ملکی سیاست میں سکہ رائج الوقت کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ مسلم لیگ ہو، پیپلز پارٹی یا پھر تحریک انصاف سب ہی ایسے سیاسی لیموں نچوڑوں کے نرغے میں نظر آتے ہیں۔ ان نگینوں میں سب سے بلند مرتبہ شیخ رشید کو حاصل ہے جو اسی کی دہائی میں قومی سیاست کے افق پر نمودار ہوئے اور سات مرتبہ رکن قومی اسمبلی بننے کے علاوہ چار مرتبہ وفاقی وزیر رہ چکے ہیں۔ 2008 کے عام انتخابات میں فوجی آمر پرویز مشرف اور (ق) لیگ کا سورج غروب ہونے کے بعد انہوں نے آزاد حیثیت میں اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کی کوشش کی۔ تاہم جاوید ہاشمی کے بعد شکیل اعوان جیسے ورکر کے ہاتھوں عبرتناک شکست نے انہیں بنی گالہ میں عمران خان کے سیاسی لنگر کو اپنی منزل بنانے پر مجبور کر دیا۔
ماضی میں دونوں رہنماؤں کی ایک دوسرے کے بارے میں رائے کے حوالے سے ویڈیوز آج بھی عوامی تفریح کا ذریعہ ہیں۔ تاہم اب وہ تحریک انصاف کے کندھے پر سوار ہو کر نہ صرف قومی اسمبلی کے رکن بن چکے ہیں بلکہ انہی کے سیاسی کوٹے پر عوامی اجتماعات میں اپنا جوش خطابات دکھانے کا شوق بھی پورا کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے انہیں وزیر اعظم کا امیدوار بھی نامزد کیا گیا۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ضیاالحق، نواز شریف، پرویز مشرف اور عمران خان سمیت کسی کو بھی اپنی صلاحیتوں کا قائل کر سکتے ہیں۔
پرویز مشرف کے دور اقتدار میں سیاسی زندگی کا آغاز کرنے والے فواد چوہدری جہلم کے مشہور سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ پرویز مشرف کی صدارت اور یوسف رضا گیلانی کی وزارت اعظمیٰ کے دوران یہ ان کے ترجمان کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد آج کل 'قانونی امور' پر عمران خان کے ترجمان ہیں۔ فواد کا ماضی اور حال ان کی ہمہ جہت شخصیت کا آئینہ دار ہے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ بغیر کسی شرمندگی اور شرمساری کے ایک ہی فقرے میں اپنے حال اور ماضی کو 'جسٹفائی' کر لیتے ہیں۔
بابر اعوان اس میدان کے نئے شہسوار ہیں جو اسلامی جمعیت طلبا سے ہوتے ہوئے مسلم لیگ اور پھر پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو کے قانونی مشیر رہنے کے عوض 2008 میں سینٹ کے رکن اور وفاقی وزیر قانون بھی رہ چکے ہیں۔ تاہم سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی 'خصوصی شفقت' کے باعث پہلے بطور وکیل ان کا لائسنس منسوخ ہوا اور پھر یہ پی پی پی کی قیادت کا اعتبار بھی کھو بیٹھے۔ وینٹی لیٹر پر پڑی اپنی سیاست کو آکسیجن کی فراہمی کے لئے، یہ بھی حال ہی میں تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں اور چند ہی دنوں میں یہاں بھی اپنے لئے پیپلز پارٹی جیسے حالات پیدا کر چکے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک عدد اصلی یا نقلی پی ایچ ڈی ڈگری کے مالک ہیں۔ اس میدان میں مراد سعید ان سے مزید رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔
نارروال سے تعلق رکھنے والے دانیال عزیز نے سیاست کا آغاز 1997 میں بطور آزاد امیدوار کیا تھا جس کے بعد وہ مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور پرویز مشرف کے مارشل لا میں قومی ادارہ برائے تعمیر نو کے سربراہ کے طور پر نواز شریف کے سخت ترین ناقد رہے۔ تاہم پھر وقت بدلا اور انہوں نے اپنی رائے سے رجوع کر کے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرلی۔ وہ آج کل اس دھڑلے سے اپنے سابق 'ممدوح' کا دفاع کرتے پائے جاتے ہیں کہ خود مسلم لیگ والے انگشت بادنداں ہوتے ہیں۔ جبکہ عمران خان اور ان کے ہمنوا بھی انہیں اپنے لئے ایک بڑا چیلنج سمجھتے ہوئے خصوصی طور پر ہدف تنقید بناتے ہیں۔
اس فہرست میں کئی اور نمونے بھی شامل کئے جا سکتے ہیں تاہم یہ بات سب ہی تسلیم کریں گے کہ اب تک کے سپر سٹارز یہی ہیں۔ موجودہ حالات سے حاصل ہونے والا واحد سبق یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں جب تک اس طرز کے لوگوں کی پذیرائی ہوتی رہے گی، اس وقت تک پاکستان کا سیاسی نظام یونہی دگرگوں رہے گا۔