اب کیا ہو گا

  • تحریر
  • جمعہ 04 / اگست / 2017
  • 4093

ہونی ہو چکی۔ نواز شریف سابق ہو چکے۔ خاقان عباسی نئے وزیر اعظم بن چکے۔ اندازوں اور امکانات کو بالآخر قرار آ گیا۔ موجودہ وزیراعظم عبوری وقت کے لئے چنے گئے۔ سیاست اور بدلتے موسموں میں چند ہفتے ہی بہت ہوتے ہیں۔ آنے والے دنوں کے تیور بتائیں گے کہ یہ عبوری فیصلہ عبوری ہی رہے گا ، یا  یہ مستقل قرار پائے گا۔ نیب کے ڈائریکٹرز نے عدالت کے حکم کے مطابق ریفرنسز کی تیاری شروع کردی ہے۔ ان ریفرنسز کی زد میں سابق وزیرخزانہ بھی آئیں گے جو حکومت کی معاشی ٹیم کے سرخیل ہیں۔ حدیبیہ پیپر ملز کا کیس دوبارہ اوپن ہونے کا امکان اگر حقیقت بنا تو تحقیقات کا دائرہ مزید پھیل سکتا ہے ۔ نیب کیسز پر فیصلوں کے بطن سے نئے سیاسی عدم استحکام کا اندیشہ بھی خارج از امکان نہیں۔

نئے وزیر اعظم نے ایوان سے نامزدگی کی توثیق حاصل کرکے وقتی طور پر ایک سیاسی عدم تسلسل کو تسلسل دے دیا ہے۔ چند ہفتے قبل ایک ہی دن میں کرنسی مارکیٹ میں روپے ڈالر کی شرح تبادلہ میں تین فی صد سے زائد کمی نے بہت سے اندیشوں کو زبان دی لیکن بعد ازاں حکومت کے مضوط عزم اور گورنر اسٹیٹ بنک کی مستقل تعیناتی کے بعد کرنسی مارکیٹ میں استحکام رہا، انٹر بنک مارکیٹ میں بھی اور اوپن مارکیٹ میں بھی۔ بلکہ حیرت انگیز طور پر سابق وزیر اعظم کی نااہلی کے دن بھی کرنسی مارکیٹ میں کوئی غیر معمولی اتار چڑھاؤ نہ ہوا۔ اسٹاک ایکسچینج میں بھی اس فیصلے سے قبل کمی آئی لیکن بعد میں اسی روز مارکیٹ نے تیرہ سو پوائنٹ کا نقصان پورا کرکے تقریبا برابر لیول پر اختتام کیا۔ بلکہ رواں ہفتے میں اسٹاک ایکسچینج نے دوبارہ تیزی کی کچھ سیڑھیاں پھلانگ لیں۔ کیا مالیاتی اور حصص مارکیٹ میں سرگرمیاں معمول پر رہنے کا مطلب یہ لیا جائے کہ سیاسی عدم استحکام کا معیشت پر منفی اثر نہیں پڑا۔  قومی اسمبلی میں نئے وزیراعظم نے اپنی پارٹی حکومت کی پالیسیوں کے تسلسل کا اعادہ کیا۔ کابینہ میں بھی پرانے چہروں کی موجودگی اس تسلسل کو ممکن بنائے گی لیکن اس کے بعد بھی کیا اکونومی پر سیاسی عدم استحکام کے سائے چھائے رہیں گے۔ کیا Business as usual ممکن ہو سکے گا۔

دنیا کی مشہور ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے اس سوال پر اپنا رد عمل یوں ظاہر کیا ہے کہ سیاسی عدم استحکام سے جنم لینے والا عدم تسلسل ملک کے رسک پروفائل میں اضافہ کرے گا۔ یہ تبصرہ قابل غور ہے۔ سیاست اور تحقیقات کی اپنی حرکیات ہوتی ہیں ۔ آنے والے دنوں میں اپوزیشن کا نیا نیا اعتماد اور الیکشن کا سال سر پر ہونے کی اپنی حرکیات ہوں گی۔ ایک سیاسی گروہ کا استحکام دوسرے کے لئے عدم استحکام اور دوسرے فریق کا عدم استحکام پہلے کے لئے استحکام کا باعث ہوگا۔ ایسے میں سیاسی درجہ حرارت میں عمودی تیزی کا امکان زیادہ ہے۔ اس ماحول میں اپنے اپنے سیاسی مفادات ہی پہلی ترجیح ہوں گے۔ نوے کی دہائی کے مناظر ابھی تک بہتوں کے حافظے میں تازہ ہیں جب سیاسی اکھاڑ پچھاڑ ہی اصل ترجیح رہی۔ معیشت کسی کی بھی ترجیح تھی نہ اس کی ضرورت تھی۔ ہر دو اڑھائی سال کے بعد ہر آنے والی حکومت کے پاس الزامات کی ایک طویل فہرست پیشروؤں کی بابت تیار رہتی کہ انہیں ورثے میں تباہ حال معیشت ملی لہذٰا ان سے معجزوں کی توقع نہ کی جائے۔ معزول ہونے والی حکومت کی بھی دلیل یہی ہوتی کہ انہیں حکومت کرنے دی گئی اور نہ کام۔ اگر انہیں مہلت ملتی تو د و چار چاند ستارے تو اکونومی کی مانگ میں بھر ہی دیتے۔

نوے کی دہائی میں امریکہ کی جانب سے پریسلر ترمیمی قانون نے پاکستان کی مالی امداد کے سوتے بھی خشک کئے اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کو بھی واضح پیغام دیا جو بالواسطہ امریکہ کے زیر اثر تھے۔ اس دِہائی میں ملک کی معاشی نمو بہت کم رہی، بیرونی سرمایہ کاری میں بھی جمود طاری رہا۔ اسی لیے نوے کی دِہائی کو ماہرین معیشت کاLost Decade یعنی زیاں کار دِہائی کہتے ہیں۔ حالیہ سیاسی بحران میں معاملہ اگر نا اہلی پر ہی منتج ہو جاتا تو شاید سیاسی استحکام اور تسلسل کی توقع کی جا سکتی تھی لیکن اس فیصلے کے بعد احتساب عدالت میں نیب کیسز اور بعد ازاں ان کے فیصلوں پر سپریم کورٹ میں اپیلوں کا مرحلہ بھی درپیش ہو سکتا ہے۔  اس دوران انتخابی مہم بھی زروں پر چل رہی ہوگی۔ ایسے میں کئی ماہرین کو اندیشہ ہے کہ سیاسی عدم برداشت اور سیاسی مخالفت ایک بار پھر ملک کو نوے کی دِہائی کی طرف نہ دھکیل دے۔

اب تک کی معیشت کی سرگرمیاں اور تسلسل اس امکان کو تقویت دے رہی ہیں کہ بقیہ دور میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی ہر ممکنہ کوشش ہوگی کہ اس کی معاشی و انتظامی پالیسیوں کا تسلسل جاری ہے۔ جن منصوبوں پر زور شور سے کام جاری کیا گیا انہیں ہر صورت انتخابات سے قبل مکمل کیا جائے۔ ان میں سے کچھ منصوبے حکومت کی سیاسی دھاک بٹھانے کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ لاہور میں اورنج ٹرین کے منصوبے سمیت سی پیک کے تحت انرجی، ٹرانسپورٹ اور ریلوے، سی پیک روٹ کی تکمیل اور گوادر پورٹ کے منصوبوں کو حکومت ہر ممکن طریقے سے معینہ مدت میں مکمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ اگر حکومت سیاسی جوار بھاٹے کے باوجود یہ سب کرنے میں کامیاب ہوگئی تو پھر پانچ فی صد معاشی نمو کا حصول بھی ممکن ہو گا جو ملکی معیشت کے لئے از ضروری بھی ہوگا اور حوصلہ افزاء بھی۔ اگر ایسا ہو سکا تو مسلم لیگ (ن) بجا طور پر انتخابات میں اپنی اس کامیابی کو کیش کرانے کی بھی پوزیشن میں ہوگی۔ نا اہلی کے اگر چند اور فیصلے ان ریفرنسوں کے نتیجے میں سامنے آ گئے تو معاشی میدان میں یہ ممکنہ کامیابی پارٹی کا سیاسی محاذ پر بہت بڑا افتخار ہوگی۔ اگر ایسا نہ ہو سکا تو پارٹی کے ہاتھ توسیاسی مظلومیت کا کارڈ آ ہی آ جائے گا لیکن اس دوران معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔

اس سیاسی عدم استحکام اور افراتفری میں سی پیک کے منصوبوں پر کیا اثرات ہو گے۔ بہت سے ماہرین کے اس خیال سے ہم بھی متفق ہیں کہ سی پیک بنیادی طور پر دو حکومتوں کے درمیان معاہدوں کا وسط اور طویل مدت پروجیکٹ ہے۔ بقیہ ایک سال کی مدت میں بدستور احسن اقبال ہی کا بطور وزیر منصوبہ بندی رہنے کا امکان ہے۔ سی پیک پروجیکٹ کی آپریشنل تیاریوں اور نگرانی کے لئے پانچ ورکنگ گروپس قائم ہیں جن میں چار گروپس کے سربراہ متعلقہ وفاقی سیکریٹریز ہیں۔ دونوں حکومتوں میں منصوبہ بندی کے ادارے سی پیک منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ سیاسی طور پر کسی بھی عدم استحکام اور امکانی اکھاڑ پچھاڑ کے باوجود سی پیک پر کام جاری رہنے کے امکانات واضح اور یقینی ہیں۔ البتہ جہاں کہیں پالیسی اقدامات کے لئے بڑے فیصلوں کی ضرورت ہوگی وہاں کچھ مسائل آ سکتے ہیں۔ سیاسی نگرانی اور شتابی کے لئے دباؤ کی عدم موجودگی میں کچھ منصوبوں پر رفتار کی سستی البتہ خارج از امکان نہیں۔ سی پیک کے بیشتر منصوبوں میں سرمائے کی فراہمی کا غالب حصہ چینی حکومت نے ہی فراہم کرنا ہے جس کی وجہ سے سی پیک منصوبوں کے لئے سرمائے کی فراہمی میں تعطل کا امکان بھی کم ہے۔ مزید برآں پاکستانی افواج سی پیک کے منصوبوں کی حفاظت اور ان پر کام میں معاونت کے لئے اپنا عزم بار بار ظاہر کر چکی ہیں۔ اس پسِ منظر میں سی پیک منصوبوں پر سیاسی عدم استحکام کے سائے کم ہی پڑنے کے امکانات ہیں۔

معیشت پر ممکنہ دباؤ یا معاشی مشکلات کے بہت سے امکانات البتہ خارج از امکان نہیں۔ حکومت کا بجٹ خسارہ اسی صورت میں قابو میں رہ سکے گا اگر محصولات جمع کرنے کی کوششوں میں کامیاب رہی ۔ نئے وزیر اعظم نے بجا طور پر اپنی پہلی تقریر میں ٹیکس وصولی اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کا عزم واضح کیا۔ برآمدات بڑھانے اور درآمدات کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے تاکہ زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کیا جا سکے۔ روپے کی شرح مبادلہ کو حقیقت پسندانہ لیول پر لانے کی ضروت ہے ورنہ برآمدات کی حوصلہ شکنی جاری رہے گی اور برآمدات کے لئے راستہ بدستور آسان ۔ اس دوران میں افراط زر ، بنک مارک اپ کی شرح اور بجلی گیس کے نرخوں پر بھی حکومتی گرفت ضروری ہے ورنہ معاشی ترقی کی پوری کہانی تیزی سے تار تار ہو سکتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے لئے یہ ایک انوکھا چیلنج ہوگا کہ عدالتوں میں اپنے قائدین کا کامیابی سے دفاع بھی کرے، اپوزیشن سے چومکھی لڑائی بھی لڑے، انتخابات میں ان حالات میں اترے بھی اور معیشت میں شرح نمو سمیت باقی مبادیات میں بہتری یا کم از کم تسلسل کو یقینی بنائے۔ آنے والے چند مہینے سیاسی منظر نامے میں کئی دور رس تبدیلیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ غالب گمان یہی ہے کہ ان تبدیلیوں میں کئی حیرانیاں اور انہونیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔