نظریہ ایک ہی ہواور وہ پاکستان
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعہ 04 / اگست / 2017
- 4361
پاکستانی شہری اور دنیا کے دیگر ممالک میں مقیم پاکستانی اپنے وطن سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔ مگر یہ محبت اس وقت ہی نظر آتی ہے جب ہمارا پڑوسی ملک کوئی دھمکی آمیز بیان دے یا پھر کسی قسم کا الزام لگائے۔ پاکستان سے محبت دل کے کسی پنہاں خانے میں سوئی رہتی ہے اور دیگر محبتیں جن میں سیاسی وابستگی ، فرقہ پسندی علاقے کی محبت اور زبان سے تعلق غالب رہتا ہے۔ پاکستان کو اللہ رب العزت نے نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے ان نعمتوں کی بدولت پاکستان آج تک اپنے پیروں پر کھڑا ہے ۔ پاکستانی آزادی کی 70 ویں سالگرہ کا جشن شایان شان طریقہ سے منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ پاکستان سے محبت کرنے والے اپنی محبت کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے ہیں۔
ہمارے آباؤاجداد ہندوستان میں رہتے تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ پہلے تو صرف اپنے عقائد کی پیروی میں مسائل پیدا ہونے شروع ہوئے جن کا تعلق روح سے ہوتا ہے۔ پھر زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی مسائل سامنے آنے لگے۔ وقت اور حالات نے ثابت کیا اتنی بڑی تعداد میں دو مختلف تہذیبیں اور مذاہب بہت زیادہ وقت تک ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرسکتے۔ سوائے اس کے کہ طاقت کی وجہ سے کوئی ایک دوسرے پر حاوی ہوجائے۔ ان گنت قربانیوں اور جہدِ مسلسل سے اللہ رب العزت نے ہمیں آزادی جیسی نعمت سے نوازا۔ ہم آج بھی ان بزرگوں کے پاس بیٹھیں جنہوں نے تحریک آزادی میں کسی بھی طرح سے اپنا حصہ ڈالا ہو تو ان کی آنکھوں میں اداسی اور چہرہ مغموم سا ہوجاتا ہے ۔پاکستان بنا تو ہجرت کرنے والوں نے سرزمینِ پاکستان پر قدم رکھنے سے پہلے اپنی جسمانی اور روحانی آزادی کیلئے سجدہ شکر ادا کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے قربانیوں کی ایسی تاریخ رقم کی جسے دہرانا بہت مشکل ہے۔ مال و عزت اور جان کسی شے قربانی سے دریغ نہیں کیا ۔
پاکستان بن گیا گھٹن ذدہ ماحول سے نجات مل گئی۔ وقت گزرتا گیا۔ پاکستان اپنے تحریکی لوگوں سے ایک ایک کرکے بچھڑتا چلا گیا ۔ یہ سمجھ لیا گیا کہ آزادی کا حصول ہی مقصد تھا۔ باقی سب کچھ خود بخود ہی ٹھیک ہوجائے گا۔ پاکستان پہلے ہی دن سے مختلف لبادوں میں ملبوس عاقبت نااندیشوں کے ہاتھوں میں چلا گیا تھا۔ نہ وہ نظام نافذ ہوسکا اور نہ ہی وہ دستور مرتب دیا جاسکا جس کے لئے ساری جدوجہد کی گئی تھی۔ مگر اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ اب تو کوئی اور جگہ بھی نہیں تھی۔ گرکسوں نے اس ملک کو لوٹنا شروع کردیا اور لوٹتے ہی چلے گئے ۔
ہم صرف اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کی بقء سب سے اہم ہے۔ کسی بھی قسم کی سیاسی اور مذہبی منافرت سے پرہیز کیا جائے اور ایسے عوامل کی بھرپور نفی کی جائے ۔ ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کہ سیاسی جنگ میں ملک کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اقتدار اور اختیار آنی جانی چیزیں ہیں۔ آزادی کی حفاظت ضروری ہے۔ آزادی کی 70 ویں سالگرہ پر ہم سب یہ وعدہ کریں کہ پاکستان ہمارے لئے سب سے اہم ہے اور ہمارے تمام نظریئے پاکستان کے ہونے سے ہی مکمل ہوسکتے ہیں۔