بچوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے
- تحریر غلام یاسین بزنجو
- ہفتہ 05 / اگست / 2017
- 5897
بچے کسی بھی معاشرے میں انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ بچوں کو مستقبل کا معمار سمجھا جاتا ہے۔ ملک و قوم کا قیمتی اثاثے ہوتے ہیں ۔ بچوں کے بہتر مستقبل کو مدِنظر رکھتے ہوئے ان کی تعلیم و تربیت اور صحت مندانہ ماحول کی فراہمی ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔ روشن مستقبل کا حصول اسی صورت ممکن ہے جب ہم اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہوئے نئی نسل خصوصاً بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے پالیسیاں مرتب کریں۔
آج کے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ایک طرف کچھ ممالک عروج و ترقی کا سفر طے کر رہے ہیں تو دوسری جانب ایشیا کے ترقی پذیر ممالک غربت، بےروزگاری، لاقانونیت، کرپشن، دہشت گردی کا شکار ہیں اور بنیادی انسانی حقوق اور سہولتوں سے محروم ہیں۔ ان ممالک میں نہ صرف تمام طبقے اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں بلکہ مستقبل کے معمار یعنی بچوں کو بھی بنیادیسہولتیں حاصل نہیں ہیں۔ حالانکہ ان ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کئے ہوئے ہیں۔ اس طرح یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ کسی قسم بھی انسانی حقوق کی پامالی کا مرتکب نہیں ہوں گے۔ اسی بنیاد پر ان ممالک کو اقوام متحدہ کی جانب سے ممبر شپ ملی ہے۔
اس وقت سب سے اہم مسئلہ بچوں کی جبری مشقت عرف عام میں چائلڈ لیبر کا ہے جو شدت اختیار کر چکا ہے۔ مختلف ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے فنڈز فراہم کیے جانے کے باوجود ترقی پذیر ممالک میں بچوں کی جبری مشقت کا سلسلہ آج بھی جوں کا توں ہے۔ اس وقت پاکستان میں بچوں سے جبراً مزدوری کرانے کا معاملہ انتہائی سنگین صورت حال اختیار کر چکا ہے۔ حالیہ دنوں ایک سیمینار میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں ایک اعلیٰ عہدیدار نے اپنے خطاب میں اقرار کیا کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک مافیا سرگرم ہے جو کہ یتیم اور لاچار بچوں سے جبری طور پر بھیک منگوانے کا کام لیتا ہے۔ یہ کسی بھی معاشرے کے لیے انتہائی شرم ناک عمل ہے ۔ درحقیقت بچوں کے بنیادی حقوق اور ان کی بہتر تعلیم و تربیت یقینی بنانا کسی بھی ریاست کی جمہوریت، ترقی، اور امن و تحفظ کے لیے کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔
بچوں کی جبری مشقت نہ صرف پاکستان کا مسئلہ ہے بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں علت موجود ہے۔ لیکن ترقی پذیر ممالک میں یہ معاملہ زیادہ سنگین ہے۔ اب پوری دنیا میں چائلڈ لیبر یعنی بچوں سے جبری مشقت کے خلاف بیداری کی مہم پیدا ہوچکی ہے، اس کی وجہ سے لوگ اس اہم مسئلے پر ہر سطح پر آواز اٹھا رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں جبری مشقت کا شکار بچوں کی تعداد ایک کروڑ کے قریب ہے۔ بچوں کی کثیر تعداد ملک کے مختلف شہروں کے مختلف مقامات میں ہوٹلوں، کارخانوں، ورکشاپوں، گھروں اور صنعتی مراکز پر کام کرتی ہوئی پائی جاتی ہے۔ یہ بچے مستقبل کے چراغ ہیں جنہیں ان کے والدین معاشی مجبوریوں کے وجہ سے گروی رکھ کر رقوم وصول کرتے ہیں۔ جس کے باعث یہ نونہال نہ صرف تعلیم سے محروم رہتے ہیں بلکہ ان کا مستقبل بھی خراب ہو جاتا ہے۔ ایسے بچے زندگی کی پرخار راہوں سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جو کسی المیہ سے کم نہیں ہے۔
کم عمری میں بچے کی دیکھ بھال اور نگہداشت انتہائی اہم ہے۔ ان کے کندھوں پر آنے والے وقت کی اہم ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے حقوق پر اقوام متحدہ کے کنونشن کی توثیق کے بیس سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد پاکستان میں بچوں کی حالت زار نہایت مایوس کن ہے۔ پاکستان میں جبری مشقت میں پھنسے ہوئے متعدد بچے جسمانی اور جنسی تشدد کا بھی شکار ہوتے ہیں۔ چند سال قبل اسلام آباد میں ایک اعلی سطحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے غیر سرکاری تنظیم سپارک کے سربراہ ارشد محمد نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی عالمی تنظیم کے 1989 کے کنونشن کے تحت پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک کمیشن تشکیل دے، ان کی شکایت کے ازالے کے لیے علیحدہ محتسب بنائے، بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ کرے ۔ کم عمری کی شادی کے خلاف قانون سازی سمیت کئی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ب
اس کے برعکس بدقسمتی سے پاکستان میں گزشتہ چند سالوں سے گھریلو ملازمین پر تشدد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ بچوں کی جبری مشقت کی بڑی وجہ ملک میں غربت اور بیروزگاری ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے حکمرانوں کی عدم دلچسپی اور عدم توجہی بھی جبری مشقت کا سبب بنتی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ اس حوالے سے قانون سازی کی جائے۔ 18 سال سے کم عمر کے بچوں اور بچیوں کی جبری مشقت پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے۔ ملک میں بیروزگاری اور غربت کے خاتمے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔ حکومت تعلیم کو حقیقی معنوں میں عام کرے تاکہ غریب کا بچہ بھی وہ تعلیم حاصل کرے جو ملک کے وزرا اور امرا کے بچے حاصل کر رہے ہیں۔
سب کے لیے ایک قانون، یکساں تعلیم کی پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ورنہ انتہا پسندی، دہشت گردی اور غربت سے جان چھڑانا آسان نہیں ہوگا۔