نواز شریف، نا اہلی اور عدالتی نظام
- تحریر سید انور محمود
- ہفتہ 05 / اگست / 2017
- 4182
نواز شریف کے نااہلی کا فیصلہ آنے سے قبل کافی تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ نواز شریف تیسری مرتبہ تو اپنی مدت مکمل کریں گے حالانکہ پاناما کیس میں وہ لندن کے فلیٹوں کی ملکیت کے بارےمیں مسلسل غلط بیانی کرتے رہے ہیں۔ منی لانڈرنگ اور اقتدار سے مالی فائدے اٹھانے کے فن سے شریف برادران بہت اچھی طرح واقف ہیں۔ نااہل ہونےکے بعد اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب میں سابق وزیر اعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ ’’مجھے فخر ہے کہ میری نااہلی کی وجہ کرپشن نہیں ہے‘‘۔
میں بھی نواز شریف کی اس بات سے پورا پورا اتفاق کرتا ہوں کہ واقعی نواز شریف کو کرپشن کی بنیاد پر نااہل قرار نہیں دیا گیا بلکہ میرا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ نواز شریف کی خواہش پر ہوا ہے۔ اگرفیصلہ واقعی کرپشن کی بنیاد پر ہوتا تو اس وقت نواز شریف کم از کم دس سال کےلیے کسی جیل میں ضرور ہوتے۔ پھر ایک اور سوال ذہن میں آتا ہے کہ جج صاحبان کوپورے پاناما کیس میں دبئی کا اقامہ اور دس ہزار درہم نہ لینا ہی نواز شریف کی نااہلی کی وجہ لگے اور یہ سوچتے سوچتے مجھے بینظیر بھٹو کا یہ کہنا یاد آجاتا ہے کہ سب ’چمک‘ کا کمال ہے۔
پاناما کیس کا پہلا فیصلہ 20 اپریل کو آیا تھا۔ اس کو آپ کسی بھی زاویے سے پڑھ لیں اس کا صرف ایک ہی مطلب نکل رہا ہے کہ نواز شریف ایک قومی مجرم ہیں جو ملک سے پیسہ لوٹ کر باہر لے گئے جہاں انہوں نے مہنگے ترین فلیٹ خریدئے اور اپنے بیٹوں کو کاروبار کرنے میں مدد کی۔ اس لوٹ کھسوٹ میں ان کے بچےبھی شامل ہیں۔ 20 اپریل کا وہ فیصلہ اگر پانچوں جج کا مشترکہ فیصلہ ہوتا تو شریف خاندان کی سیاست مکمل اور ہمیشہ کےلیے ختم ہوجاتی۔ لیکن یہ فیصلہ 2۔3 کی بنیاد پر نواز شریف کے تحفظ کاسبب بنا۔ ایک جے آئی ٹی بنانی پڑی جس نے شریف خاندان کی تین نسلوں کی لوٹ مار کھول کر رکھ دی ۔ لیکن 28 جولائی کو جو فیصلہ سامنے آیا وہ پانچوں ججوں کا متفقہ تھا کہ نواز شریف کو ہم اس بنیاد پر نااہل قرار دے رہے ہیں کہ انہوں نے دبئی کا اقامہ کیوں لیا اور اپنے بیٹے سے تنخواہ کیوں وصول نہیں کی۔ یہ فیصلہ سو فیصد غلط ہے۔ فرض کریں میرے بیٹے نے مجھے دس ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا لیکن میں نے نہیں لیے تو یہ میرا اثاثہ کیسے ہوگیا۔ میرے نزدیک اثاثہ جب ہوگا جب یہ رقم میری جیب میں ہوگی۔
ہم سب جانتے ہیں کہ نواز شریف جب بھی عدالتوں میں گئے ہیں کامیاب لوٹے ہیں۔ وہ بہت اچھے کاروباری ہیں، سودا کرنا جانتے ہی۔، یہی وجہ تھی کہ بینظیر بھٹو نے پہلی مرتبہ ان کی حکومت کی بحالی پر کہا تھا کہ سب ’چمک‘ کا کمال ہے۔ جب سابق صدر غلام اسحاق خان نے 1993 میں نواز شریف کی پہلی حکومت کو برطرف کیا تو نواز شریف سپریم کورٹ چلے گئے۔ جہاں جنرل ضیاء کے وفادار نسیم حسن شاہ چیف جسٹس کی کرسی پر موجود تھے۔ ان کے ساتھ ہی سابق صدر محمد رفیق تارڑ بھی تھے۔ سپریم کورٹ نے نواز شریف حکومت کی برطرفی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مئی 1993 میں اس کی بحالی کا حکم جاری کردیا۔ مگر غلام اسحق خان اور نواز شریف کا ساتھ چلنا مشکل ہوگیا تھا۔ چنانچہ بری فوج کے سربراہ جنرل عبدالوحید کاکڑ کے دباؤ پر دونوں کو اپنےعہدوں سے علیدہ ہونا پڑا۔
اپنے دوسرے دور میں نواز شریف نے محمد رفیق تارڑکو صدر بناکر ان کی خدمت کا معاوضہ ادا کردیا جبکہ نسیم حسن شاہ اپنی مہربانی کی اجرت کے عوض سینیٹر بننا چاہتے تھے۔ نواز شریف تو تیار تھے لیکن شہباز شریف نے ان کو روکا ۔ اپنے دوسرے دور میں ہی نواز شریف نے ایک صدر، ایک آرمی چیف اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا شکار کیا۔ جسٹس سجاد علی شاہ کا شکار بھی چمک کا کمال تھا ۔ تب جسٹس سعید الزمان صدیقی ان کے کام آئے اور جسٹس سجاد علی شاہ کو جانا پڑا۔ لیکن 1999 میں جنرل پرویزمشرف نے ان کی حکومت کو ختم کیا۔ 2013 میں تیسری مرتبہ وزیراعظم بنے تو گزشتہ سال اسی سالہ سعید الزمان صدیقی کو ان کی خدمت کا معاوضہ سندھ کا گورنر بناکر دیا۔ لیکن شدید علالت کے باعث سعید الزمان صدیقی صرف دو ماہ بعد انتقال کرگئے۔ 24 سال پہلے 1993 میں نواز شریف کو جسٹس نسیم حسن شاہ نے بحال کیا اور آج نسیم حسن شاہ کے داماد جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نواز شریف کو نا اہل قرار دیا ہے۔ پاناما کیس کا فیصلہ سنانے والے پانچ میں سے چار جج پی سی او کا حلف اٹھا چکے ہیں۔
پاکستان میں کرپشن کا کینسر اتنا پھیل چکا ہے کہ اسے ایک بے رحمانہ آپریشن کی ضرورت ہے۔ کرپشن کا یہ کینسر نہ ہی نیب کے بس کا روگ ہے اور نہ کسی کوئی سرکاری ادارہ اس کا علاج کرسکتا ہے۔ پاکستانی عوام بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ملک کے وسائل کو بڑی ہی بے رحمی سے لوٹا گیا ہے، بڑی بڑی رقمیں بیرون ملک منتقل کرکے ان سےمہنگی جائیدادیں خریدی گئیں اور بیرونی ملکوں کے بینکوں کی تجوریوں کواپنے ملک کے لوٹے ہوئے ڈالروں سے بھرا گیا۔ ہمارے ملک میں دو ہی طبقے حکمران ہوتے ہیں۔ یا تو وہ جاگیردار ہوتے ہیں یا پھر سرمایہ دار، اس لیے عام آدمی یہ جانتا کہ یہ طبقے خوشحال ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں یہ تاثر لیا جاتا ہے کہ یہی خوشحال خاندان منی لانڈرنگ کرتے ہیں۔ مشکل حالات سے گزرنے والے اس ملک سے اتنی زیادہ منی لانڈرنگ کی گئی ہے کہ ملک کی معاشی حالت ابتر ہوچکی ہے اور عام آدمی کو زندگی گزارنا مشکل ہے۔ نوازشریف نے اپنے پہلے دورحکومت میں98 قومی ادارے کوڑیوں کے بھاؤ اپنے کاروباری دوستوں کو فروخت کیا تھے اور اداروں کی فروخت میں مبینہ اربوں روپے کمیشن وصول کرکے اپنے اثاثے بڑھائے تھے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل برطانیہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں شریف خاندان کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے اور انہیں پاکستان کو واپس لوٹانے کا انتظام کیا جائے۔
پاکستان میں ہم قومی حیثیت سے غربت اور جہالت کے جس نقطے پر کھڑے ہیں وہاں سے تعمیر و ترقی کی منزل اتنی دور ہے کہ اس کے بارے میں سوچنا بھی ناممکن ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں گزشتہ چارسال حکومت ایک ایسے کاروباری فرد کے ہاتھ میں رہی جس کا واحد مقصد خود اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو فائدہ پہنچانا تھا۔ نواز شریف نے پہلے کروڑ پتی اور پھر ارب پتی بننے کی جو شاندار مہم چند سال میں طےکرلی اسے دوسرے سیاسی رہنما شاید صدیوں میں بھی سر نہیں کر سکتے۔ 28 جولائی 2017 کا سپریم کورٹ کا فیصلہ جس میں نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا ہے درحقیقت نواز شریف کےلیے فائیدہ مند رہا ہے۔