قلم کو سیاہی درکار ہے

 دنیا سمٹ کر گلوبل ویلیج بن چکی ہے اور رہی سہی کثر گوگل نے پوری کر دی ہے۔ لکھنے والوں میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔  اس کی اہم ترین وجہ آن لائن شائع ہونے کی سہولت ہے ۔  فنونِ لطیفہ کی ہر قسم آن لائن دستیاب ہے۔  شاعری ہو یا  افسانہ یا پھر کوئی مضمون سب کچھ آن لائن میسر ہے۔ ایک زمانہ تھا جب کوئی لکھنے والا صرف اس وجہ سے نہیں لکھ پاتا تھا کہ لکھ کر اپنے پاس ہی رکھنا پڑے گا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کسی تحریر کی اشاعت مقصود ہوتی تھی تو بہت بھاگ دوڑ کرنا پڑتی تھی۔ تکنیکی ترقی نے  ایسا متبادل  پیش کردیا ہے کہ نئی نسل  کتاب اور کاغذ پر چھپے الفاظ سے ناآشنا ہوتی جارہی ہے۔ یہ تبدیلی انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کی وجہ سے آئی ہے۔

ایک وقت تھا کی ایک اخبار تقریباً چار سے چھ گھروں میں پڑھا جاتا تھا۔  کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا کہ جس کے گھر اخبار آتا،  اسے سب سے آخر میں اسے پڑھنے کا موقع ملتا۔  اور تو اور بازاروں میں ایک پڑھنے والا اور دس سننے والے ہوا کرتے تھے۔ اب سب کچھ آپ کو آن لائن دستیاب ہے۔ یعنی کمپیوٹر یا پھر آپ کے ہاتھ میں موجود اسمارٹ فون پر آخبار تو کیا پوری کی پوری کتاب دستیاب ہے۔

جب رش بڑھ جاتا ہے تو اچھے اور برے میں تمیز کرنے میں دقت پیش آتی ہے اور یہاں تو رش میں ہر دن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طرف ایسے لکھنے والے ہیں جو حرف حق کےلئے  زندگیا ں داؤ پر لگا رہے ہیں۔  تو دوسری طرف یہی لکھنے والے اپنے قلم کی بولیاں لگواتے پھر رہے ہیں۔ لکھنے والے اپنی اپنی سوچ معاشرے کو دیتے  ہیں۔  معاشرہ اتنے سارے نظریات کی اماجگاہ بن چکا ہے کہ ہمارے لئے اپنی بات کو تسلیم کروانا  مشکل ترین کام بن چکا ہے۔ اب یہ حالت ہے کہ  کوئی فرقے کیلئے لکھ رہا ہے کوئی اپنی سیاسی جماعت کیلئے۔ کوئی کسی کے مفاد کا پرچار کر رہا ہے۔ سب سے اہم اور مزے کی بات یہ ہے کہ سب کا سب شائع ہو رہا ہے۔ انگنت ویب سائٹس لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہیں۔  لکھنے والوں کی شائع ہونے کی خواہش بروقت پورا ہو رہی ہے۔

الیکٹرانک میڈیا پر لکھنے والوں  کی کثیر تعداد شوقیہ قلم کاروں پر مشتمل ہے۔ ان کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کی تحریریں منظرِ عام پر آرہی ہیں۔  اخبارات  اداریہ کے صفحات پر آج کل بھی  درج ہوتا ہے کہ  ادارے کا لکھنے والے کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ یہ شرط اآن لائن پبلیکیشنز میں بھی عائد ہوتی ہے لیکن اس کا دھیان کم ہی رکھاجاتا ہے۔  تاہم الیکٹرانک اشاعت سے انگریزی کی طرح اردو لکھنے والے بھی ہر ملک اور معاشرے تک اپنی آواز پہنچا رہے ہیں۔

بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ دنیا  زیادہ کمرشل ہوگئی ہے۔  ہر شے بکنے لگی ہے۔  لیکن ابھی تک اردو لکھنے والوں کو معاوضہ دینے کا رواج دیکھنے میں نہیں آیا۔ اسی وجہ سے لکھنے والوں میں کرپشن بھی فروغ پا رہی ہے۔ میری خواہش اور درخواست ہے کہ آن لائن ادارے اپنے لکھنے والوں کو معاوضہ کی ادائیگی کا سلسلہ شروع کریں تاکہ بہتر لکھنے والے سامنے آئیں اور اچھے سے اچھا لکھنے کی حوصلہ افزائی ہو۔ معاوضہ  ملنے کی صورت میں لکھنے والوں میں  غیر جانبداری سے لکھنے کی روایت راسخ ہوگی۔