عاصمہ جہانگیر: ایک بھٹکی ہوئی عورت
آج میں آپ کے سامنے عاصمہ جہاں گیر کے بارے میں وہ مخفی معلومات رکھ دینا چاہتا ہوں جس کی ہر ایک کو خبر نہیں۔ لاہور کی یہ معمولی سی وکیل عاصمہ جہاں گیر، جنہیں دنیا نے خوام خواہ اپنے سر چڑھا رکھا ہے، یہ ملک غلام جیلانی کی بیٹی ہیں۔ پہلے میں آپ کو ملک غلام جیلانی کے بارے میں بتا دوں تاکہ آپ کا ذہن پوری طرح سے بن جائے۔
ان کے والد ملک غلام جیلانی نے ساری عمر سول سروس کے مزے لوٹے، آخر میں ایکسٹینشن لینے کے بجائے ریٹایرمنٹ لے کر سیاست میں قدم رکھ دیا، تاکہ ایوب خان کی آمریت کی مخالفت کی آڑ میں ملکی سالمیت کے لیے کام کرنے والے اداروں کے خلاف کام کر سکیں۔ ایوب خان وہ اولین مجاہد تھے جنہوں نے پاکستان سے کرپشن کے خاتمے کا بِیڑا اٹھایا تھا۔ ملک غلام جیلانی نہیں چاہتے تھے کہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہو۔ لہذا ایوب خان نے انہیں اپنے نیک ارادوں کی راہ میں حائل پا کے ان کے گھر میں نظر بند کیا، یہ پھر بھی نہ مانے تو انہیں جیل میں ڈال دیا گیا۔ جب یحیی خان نے مشرقی پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ کرنے کے لیے وہاں فوجی کارروائی کی تو ملک غلام جیلانی نے ان کے اقدام کی مخالفت کی۔ حال آں کہ سب جانتے ہیں، بھارت کرپشن کے بڑھاوے کے لیے مکتی باہنی کی مدد کر رہا تھا۔ اس کا اعتراف حال ہی میں بھارتی پردھان منتری نریندر مودی نے بھی کیا۔
مائیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں لیکن یہ بتانا ضروری ہے کہ عاصمہ کا ننھیال بھی آزاد خیال تھا۔ جب معزز گھرانوں کی عورتوں کو اسکول ہی نہیں بھیجا جاتا تھا، اس وقت بھی ان کی والدہ نے مخلوط تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی۔ یہ معمولی بات نہیں ہے، جسے نظر انداز کیا جا سکے۔ آگے چل کے اس کے دور رس نتائج سامنے آئے، جب 1967 میں عاصمہ کے والد کی زمین بحق سرکار ضبط کرلی گئی تو ان کی والدہ نے کپڑے کی تجارت کرکے عورتوں کے لیے ایک غلط مثال قائم کی۔ وہ اس کڑے وقت میں لوگوں کے گھر ٹاکی پوچا بھی کر سکتیں تھیں۔ لیکن جدید مغربی تعلیم سے اس کے سوا اور کیا امید کی جا سکتی ہے۔
عاصمہ اور ان کی بڑی بہن حنا جیلانی اس وقت چھوٹی تھیں، جب ان کے والد محب وطن ایوب خان کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم لاہور کے کانوینٹ آف میری اینڈ جیسس سے حاصل کی۔ عورت پر تو ویسے ہی اعتبار نہیں کیا جا سکتا، اور پھر جس عورت نے غیر مسلموں کے اسکول میں پڑھا ہو، اس کے ایمان پر بھروسا کیا بھی جائے تو کیوں کر کیا جائے۔ اور تو اور یہی عاصمہ بڑی بھی ہو گئیں اور بڑی ہو کے کنیرڈ کالج میں پڑھنے لگیں۔ ”کنیرڈ“ کے نام ہی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے، کہ یہ کالج کسی مسلمان نے نہیں بنایا ہوگا۔ ویسے بھی مسلمانوں کا کالج سے کیا کام۔ مسلمان تو مدرسے بناتے ہیں، جہاں دنیا کی تعلیم میں وقت ضائع نہیں کیا جاتا۔ نہ کہ عورتیں تعلیم حاصل کرکے تجارت کرنے لگیں۔ چوں کہ عاصمہ کی تعلیمی بنیاد میں خرابی تھی تو جامعہ پنجاب سے ایل ایل بی کرکے یعنی وکالت پڑھ کے سچ بولنے کا دعوا کرنے لگیں۔ بھلا کون وکیل ہے جو سچ بولتا ہوگا، اور سچ بولتا ہوگا تو کھاتا کہاں سے ہوگا۔ میں آپ کو بتاؤں کہ سچ کی کوئی ایک تعریف ہی نہیں۔ کسی سیانے نے یہ کہا ہے کہ ہر کسی کا اپنا سچ ہوتا ہے۔ بس عاصمہ اپنا سچ بولتی ہیں۔ حالاں کہ وہ دوسرے کا سچ نہیں ہوتا۔ عاصمہ وکالت کے شعبے میں ناکام رہی ہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ یہ سپریم کورٹ وکلا تنظیم کی صدر بنی تھیں۔ آپ جانتے ہیں کہ مزدروں کا یونین لیڈر وہی ہوتا ہے جو مزدوری کرنے میں ناکام رہا ہو۔
عاصمہ جہاں گیر اپنے تئیں جمہوریت کی چیمپین بنتی ہیں۔ میں آپ کو بتاؤں کہ جمہوریت اسلام میں حرام ہے۔ اس لیے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں عاصمہ جہاں گیر اسلام کے خلاف کام کرتی ہیں۔ جب ضیا الحق ملک میں اسلامی نظام کے لیے کوشاں تھے تو یہی خاتون تھیں جو انہیں روکے ہوئے تھیں کہ اسلامی نظام نہ لایا جائے۔ اگر یہ مرد مومن کو نہ روکتیں تو جتنا اسلامی نظام نہ آسکا وہ بھی آ کے رہتا۔ انہیں 1983 میں جمہوریت جیسے غیر اسلامی نظام کی بحالی کی کوششیں کرنے کی پاداش میں جیل بھیج دیا گیا۔ 1986 میں یہ ملک سے فرار ہو کر جینیوا چلی گئیں، جہاں پاکستان کے خلاف کام کرنے والی قوتوں نے انہیں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے کا نائب بنا دیا۔ تاکہ تن خواہ کی صورت ان کی مالی مدد ہو سکے۔ لیکن ان کے ذہن میں کچھ اور ہی کھچڑی پک رہی تھی۔ 1988 میں یہ چھپ چھپا کے پاکستان آ گئیں اور یہاں آ کے ایک اور نامناسب کام کیا۔ وہ یہ کہ انسانی حقوق کا کمیشن قائم کیا۔ پہلے اس کی سیکرٹری جنرل بن بیٹھیں، پھر 1993 تک خود ہی اس کی چیئرپرسن بن گئیں۔ اسلام کی نظر میں ہر انسان کے حقوق برابر ہیں۔ اور یہی پاکستان کے آئین میں لکھا ہے۔ پھر عاصمہ انسانی حقوق کمیشن بنا کے کیا ثابت کرنا چاہتی تھیں۔ یہی ناں کہ یہاں اسلامی نظام نہیں۔ یا یہ کہ پاکستانی شہریوں کو مکمل حقوق حاصل نہیں۔
یہ راز کوئی راز نہیں رہا کہ انسانی حقوق کی بحالی کی جدوجہد کے نام پر عاصمہ جہاں گیر، کافر ملکوں سے فنڈ لیتی رہی ہیں۔ آپ خود سوچیے اس سے پاکستان کی کتنی بدنامی ہوئی ہوگی۔ کافر تو یہی سوچتا ہوگا، سب پاکستانی بھکاری ہیں، کیوں کہ ان کی حکومتوں سے لے کر عسکری ادارے تک اور فلاحی ادارے سب ہمی سے چندہ مانگنے آ جاتے ہیں۔ اس سے بہ تر ترکیب تو ناچیز کے ذہن میں ہے کہ پاکستان راتوں رات خوش حال ملک بن سکتا ہے۔ اگر سب پاکستانی ہر روز صرف ایک روپیہ چندہ دیں تو دن کے بیس بائیس کروڑ، اور مہینے کے پتا نہیں کتنے کروڑ یا ارب جمع ہوجائیں گے۔ (آپ کیلکولیٹر سے حساب کر لیں) اس رقم سے ہم قرض کی پائی پائی اتار سکتے ہیں، اسکول بنا سکتے ہیں، اسپتال بنا سکتے ہیں۔ اور بھی بہت کچھ بنا سکتے ہیں جو نہیں بنایا گیا۔ سب سے بڑی بات کہ ہمیں کسی این جی او کی ضرورت ہی نہ رہے گی جو ادھر ادھر کے ایشو اٹھائے پھرتی ہیں، جس سے ملک کی جگ ہنسائی ہوتی ہے۔
آج عاصمہ جہاں گیر فوجی آمریت کے خلاف ببانگ دہل بولتی ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ کوئی بہادر خاتون ہیں یا یہ جمہوریت کی حامی ہیں۔ اس کی وجہ ایوب خان کے خلاف بغض ہے۔ کیوں کے ایوب خان نے ان کے والد کو قید میں رکھا تو یہ وہ بات بھولی نہیں ہیں۔ سچ کہتے ہیں عورت کے مکر اور اونٹ کی پکڑ سے بچنا چاہیے۔ اونٹ بھی اک بار پکڑ لے تو تب تک نہیں چھوڑتا جب تک بوٹی نہ اتار لے۔ آپ کسی ماہر نفسیات سے پوچھ لیں، وہ آپ کو یہی بتائے گا کہ انسان کے بچپن کے واقعات کا اثر اس کے ذہن سے ساری عمر نہیں جاتا۔ عاصمہ کے ذہن میں فوج کے خلاف یہ نفرت بچپن ہی میں پیدا ہو گئی تھی، جب ایوب خان نے ان کے والد کی ملک دشمنی سرگرمیوں پر پابندی لگائی تھی۔ ایسے میں ایوب خان سے کوئی چھوٹی موٹی زیادتی ہو بھی گئی تھی تو عاصمہ کو دل پر نہیں لینا چاہیے تھا۔ انہوں نے لیا۔ جب کہ ایوب کی غلطی فرد کی غلطی تسلیم کی جانی چاہیے، ادارہ اس سے بری الذمہ ہے۔ ایسے ہی جیسے اس علمی و تحقیقی مضمون پر آپ کے تبصروں سے ادارہ بری الذمہ ہونے کا اعلان کرتا ہے۔
پرویز مشرف جو سب سے پہلے پاکستان کی فکر میں دبلے ہوئے جا رہے تھے، عاصمہ جہاں گیر ان کی بھی مخالفت کرنے آ گئیں۔ کچھ عورتیں ہوتی ہیں جو نہ خود چین سے بیٹھتی ہیں، نہ دوسرے کو سکون لینے دیتی ہیں۔ عاصمہ جہاں گیر انہی میں سے ایک ہیں۔ مشرف کی مخالفت کی ایک وجہ تو اوپر بیان کر چکا کہ ”بغض“ ہے، اور دوسری وجہ یہ تھی کہ عاصمہ نہیں چاہتی تھیں، پاکستان کو اولیت دی جائے۔ میں نے خود اپنی گناہ گار آنکھوں سے سوشل میڈیا پر وہ ٹھوس ثبوت دیکھے ہیں، جس میں عاصمہ بال ٹھاکرے کو ہنس ہنس کر ملتے دکھائی دیتی ہیں۔ بھلا کوئی پاکستانی کسی بھارتی کو ہنس ہنس کے کیوں ملے گا، جب تک کہ وہ ملک دشمنی میں نہ بڑھ جائے! بال ٹھاکرے کو تو آپ جانتے ہی ہیں! یہ وہی بال ٹھاکرے ہے جو ہماری کرکٹ ٹیم کو بھارت آنے پر دھمکیاں دیتا تھا۔ کیوں کہ بال ٹھاکرے کو یہ پسند نہ تھا کہ ہمارے لڑکے ہندستان میں نمازیں پڑھیں۔ پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو بال ٹھاکرے کے ایسے ہی خطرناک عزائم بھانپ کر ملک میں ایمرجینسی کا نفاذ کر دیا تو عاصمہ ان کے خلاف احتجاجی تحریک کا حصہ بنیں۔ اس سے پہلے بھی یہ عدلیہ بحالی تحریک کی نمایاں رہ نما تھیں۔ پرویز مشرف نے انہیں ان کے عورت ہونے کا فائدہ دیا، اس لیے ان کے گھر میں نظر بند کر دیا۔ اگر وہ چاہتے تو انہیں اٹک جیل میں قید کر سکتے تھے لیکن ایسا کرنے میں ان کی رحم دلی آڑے آئی۔
عاصمہ جہاں گیر کی غیر مسلموں کے لیے خدمات کے صلے میں 2004 سے 2010 تک دنیا بھر کی کافر اقوام نے مل کر (اقوام متحدہ) انہیں اپنا مندوب مقرر کیا، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھتا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ فلسطین اور کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی کتنی سنگین خلاف ورزیاں ہوتی آئیں (لیکن کچھ کو پاکستان ہی دکھائی دیتا ہے) اسرائیل اپنے انجام کے قریب تھا کہ بس فلسطین آزاد ہوا چاہتا تھا، اس لیے بھی کہ اقوام عالم یہودیوں کے مظالم کا سن سن کے بے زار آ چکی تھی۔ اور وہ فلسطینیوں کا ساتھ دینے والی تھی۔ اسی دوران اقوام متحدہ میں یہودی لابی نے بہت بڑی منصوبہ بندی کرتے عاصمہ جہاں گیر کو اسرائیل میں انسانی حقوق کی شکایات پر نظر رکھنے کی ذمہ داری دلوائی۔ ساتھ میں سری لنکا بھی پکڑا دیا تاکہ سازش کا شبہہ نہ ہو۔ ظاہر ہے جب ان کے دل میں غیر مسلموں کے لیے نرم گوشہ ہوگا تو بھلا یہ یہودیوں کے جرائم کیوں گنوائیں گی۔ آہ! ایسے فلسطین آزاد نہ ہو سکا۔ یہودیوں نے انہیں بہت سے غیر ملکی ایوارڈ دلوائے۔ حتا کہ ہلال امتیاز بھی لے کر دے دیا۔
عزیز ہم وطنو! اس وقت فلسطین کی آزادی سے محروم رہ جانے کا دکھ مجھ پر حاوی ہو گیا ہے۔ اس لیے میرا قلم میرے آنسوؤں کا ساتھ نہیں دے پا رہا۔ مناسب وقت آنے پر عاصمہ جہاں گیر کے بارے میں مزید انکشافات کروں گا۔
(بشکریہ: ہم سب ۔ لاہور)