نئے وزیر داخلہ احسن اقبال کا چیلنج
احسن اقبال درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے ان معدودے چند سیاستدانوں میں سے ہیں جن کا خمیر طلبہ سیاست سے اٹھا ہے۔ ان کی والدہ آپا نثار فاطمہ جماعت اسلامی سے وابستہ تھیں۔ جنرل ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کی رکن نامزد ہوئیں۔ احسن اقبال امریکہ کے وارٹن بزنس سکول سے تعلیم یافتہ ہیں۔ زمانہ طالب علمی میں انہوں نے ایک کامیاب یوتھ کنونشن کا انعقاد کروایا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کی تربیت نے ان کی تحریر و تقریر میں نکھار پیدا کیا۔
عملی سیاست کا آغاز ناروال سے کیا وقت کے ساتھ ان کی جمہوری اقدار اور روایات کے ساتھ وابستگی گہری ہوتی چلی گئی۔ جنرل (ر) ضیاء الحق کا ساتھ دینے کو اپنی اور مسلم لیگ کی غلطی تصور کرتے ہیں۔ جب وزیراعظم نواز شریف نے نوے کی دہائی میں اسٹیبلشمنٹ کی ڈکٹیشن لینے سے انکار کیا تو مسلم لیگ کے بڑے بڑے ناموں نے اپنی راہیں جدا کرلیں۔ پھر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور آمریت میں قاف لیگ کا ظہور ہوا لیکن احسن اقبال نواز شریف کے ساتھ ڈٹے رہے۔ نواز حکومت میں انہیں سی پیک کی منصوبہ سازی اور مالی امور کی نگرانی سونپی گئی۔ گو اس پر چھوٹے صوبوں کے اعتراضات سامنے آئے لیکن احسن اقبال نے مکالمے کے ذریعے ان اعتراضات کو دور کرنے کی کوشش کی۔ سوال ہے کیا احسن اقبال بطور وزیر داخلہ اپنی ذمہ داریوں پر پورا اترنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اگر ہم چودھری نثار علی خان کی بطور وزیر داخلہ کارگردگی کا جائزہ لیں تو روائتی گھن گھرج کے سوا اداروں کی استعداد کار میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا۔ نیکٹا کے فنڈز تعطل کا شکار رہے۔ پھر کئی سالوں تک اس کے سربراہ کا ہی تقرر نہ ہو سکا۔ جسٹس فائز عیسیٰ کی رپورٹ وزیر داخلہ کی کارگردگی پر عدمِ اعتماد کا اظہار تھی۔ نیشنل ایکشن پلان کے چند نکات کے علاؤہ اکثر نکات پر عمل ہی نہ ہو سکا۔ کسی بھی دہشت گردی کے واقعہ کے بعد وزیر داخلہ چودھری نثار کو تلاش کرنا ایک مشکل عمل ہوتا تھا۔ مختلف اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن کا فقدان تھا۔ وزیر داخلہ تک رسائی ایک چیلنج تھا۔ من پسند صحافیوں کو اعتماد میں لے کر مرضی کی خبریں لگوائی جاتیں۔ پولیس، ایف آئی اے اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ سے متعلق اہم تعیناتیوں میں تاخیر سے فیصلے کئے جاتے۔ نادرا کو ایک خودمختار اور فعال ادارے کے بجائے وزارت داخلہ کا ایک ذیلی ادارہ بنا دیا گیا۔ آئی ٹی اور قومی ڈیٹا سے تعلق رکھنے والے اس اہم ادارے کو ذاتی آنا کی تسکین کے لئے کام کرنے سے روک دیا گیا۔ لا کھوں پاکستانیوں کے شناختی کارڈ بغیر ثبوت کے بلاک کر دئے گئے۔
نادرا دنیا کے مختلف ممالک سے مسابقتی عمل کے ذریعے پراجیکٹ پر کام کر رہا ہے، چودھری نثار نے نادرا افسران کی غیر ملکیوں سے ملاقات پر پابندی عائد کر دی اور نادرا کو دوسرے ممالک کے آئی ٹی پراجیکٹ کے حصول سے روک دیا۔ جس سے پاکستان قیمتی زرمبادلہ سے محروم ہو گیا۔ اسی طرح سندھ اور کے پی کے کی صوبائی حکومت نادرا سے مختلف شعبوں میں تعاون کی خواہش مند تھیں لیکن وزیر داخلہ اس میں دلچسپی نہ رکھتے تھے۔ موجودہ چیرمین نادرا عثمان مبین ایک باصلاحیت اور آئی ٹی کے شعبہ کے مایہ ناز پروفیشنل ہیں۔ اگر حکومت ان کی صلاحیت سے فائدہ اٹھائے تو وہ نادرا کو دوبارہ نفع بخش ادارہ بنا سکتے ہیں۔
احسن اقبال نوجوانوں کو اپنی ٹیم کا حصہ سمجھتے ہیں۔ وہ بیوروکریسی کی روائتی چال بازیوں کو خوب سمجھتے ہیں۔ فیصلوں میں ملک و قوم کا مفاد مقدم رکھتے ہیں۔ ان کے میڈیا کوآرڈینیٹر عاصم نیازی بھی نوجوانوں کو مختلف ٹاسک دینے اور انہیں پورا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے۔ احسن اقبال کے لئے بڑا چیلنج ان خوشامد پرست صحافیوں سے بچنا ہے جو ہر دور میں وزیر داخلہ کی خوشامد پر مبنی ایک ہی طرح کی خبریں شائع کرتے ہیں۔ بس وزیر داخلہ کا نام تبدیل کریا جاتا ہے۔