جے آئی ٹی سے جی ٹی روڈ تک

پانامہ کیس کا فیصلہ آنے سے قبل تحریک انصاف کے قائدین فخریہ دعویٰ کرتے تھے کہ مسلم لیگ (ن) کے چالیس سے زائد اراکین اسمبلی اعلان بغاوت کرکے تحریک انصاف میں آنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں جبکہ شیخ رشید ایسے اراکین کی تعداد ساٹھ سے زائد بتاتے تھے۔ ان کا دعویٰ تھے کہ تبدیلی کا ہم سفر بننے والوں میں مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونے والوں کی اکثریت ہوگی اور شاید چوہدری نثار اس قافلے کے سالار ہوں گے.

اس حوالے سے تحریک انصاف کے میڈیا ونگ میں شامل نیوز چینلز بالخصوص اے آر وائی نے تو یہ خبریں بھی چلا دی تھی کہ نواز شریف کا فلاں وزیر فلاں ملک فرار ہو گیا اور عنقریب شریف فیملی بھی راہ فرار اختیار کرنے والی ہے۔ لیکن موجودہ منظر نامہ اس کے برعکس ہے۔ نواز شریف کی نااہلی کے بعد نہ صرف مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے نظر آئے بلکہ شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنانے میں بھی انہیں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

اس دوران عائشہ گلالئی کے عمران خان پر الزامات سامنے آئے جس کے بعد تحریک انصاف کے سپورٹرز کی جانب سے عمران خان کو فرشتہ اور الزام لگانے والی اپنی ہی رکن اسمبلی اور اس کے خاندان کو بکاؤ مال ثابت کرنے کی مہم شروع ہو گئی۔ دوسری جانب جس گندی سیاست کا الزام تحریک انصاف کی جانب سے مسلم لیگ پر لگایا جا رہا تھا اسی کی پیروی میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور ڈاکٹر یاسمین راشد نے عائشہ احد کے ساتھ پریس کانفرنس کر کے خود کو 'سیر پر سوا سیر'  ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ عمران خان نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے اس جہاد میں شامل ہو کر اپنی سابق روایت کو زندہ رکھا ہے کہ وہ کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے زیادہ سوچنے کا تردد نہیں کرتے ہیں۔

ان حالات میں نواز شریف نے موٹروے کی بجائے بذریعہ جی ٹی روڈ لاہور جانے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد تحریک انصاف کو سمجھ نہیں آ رہی کہ معاملات کس طرف جائیں گے۔ اس لئے کبھی عوام کو پیش آنے والی مشکلات کا رونا رویا جا رہا ہے اور کبھی حکومتی وسائل کے ضیاع کی دہائی دی جا رہی ہے۔ حالانکہ پی ٹی آئی والے خود پولیس اور ایف سی کے سولہ ہزار سے زائد اہلکاروں کے زیر سایہ اسلام آباد میں ایک سو چھبیس دن کا دھرنا دے چکے ہیں۔ تحریک انصاف کی اس حوالے سے پریشانی اس لئے بھی قابل ذکر ہے کہ چند دن قبل تک یہی لوگ تمسخرانہ انداز میں پوچھتے تھے کہ نواز شریف کی نااہلی پر کوئی احتجاج کیوں نہیں ہوا۔

حالات کا تجزیہ کریں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ انگلی اٹھانے والوں نے عمران خان سے جو کام لینا تھا وہ لیا جا چکا اور اب انہیں حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ خیبرپختونخواہ کی حکومت کو اپنے ہی اتحادی جماعت اسلامی نے الٹی میٹم دے دیا ہے اور آزاد حیثیت میں الیکشن جیت کر پی ٹی آئی کا حصہ بننے والے اراکین صوبائی اسمبلی بھی اپنی سیاسی قیمت وصول کرنے کے لئے دوبارہ متحرک ہو چکے ہیں۔ اگر حالات اسی رخ پر چلتے رہے تو وقت کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کی پریشانیوں میں اضافہ ہو گا جس کا آغاز عائشہ گلالئی کے واقعہ پر پارلیمانی کمیٹی بنا کر دیا گیا ہے۔

آنے والے وقت میں عمران خان کو عدالت کی جانب سے اشتہاری قرار دیئے جانے کو جواز بنا کر حوالات کی سیر بھی کروائی جا سکتی ہے کیونکہ نواز شریف عدالت کے فیصلے پر نااہلی قبول کرکے پہلے ہی مثال قائم کر چکے ہیں۔ اب وہ وقت بھی گزر چکا ہے کہ عمران خان اپنے ہاتھوں سے لگائی ہوئی گرہیں منہ سے کھول سکیں۔ حالانکہ نواز شریف میثاق جمہوریت پر قائم رہنے اور سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لئے ایک نیا ضابطہ کار طے کرنے پر آمادگی کا اظہار کر چکے ہیں لیکن شاید اب دیر ہو چکی ہے۔

جے آئی ٹی نے نواز شریف کو ایوان وزیر اعظم سے نکال کر جی ٹی روڈ پر دھکیل دیا ہے اور ان کے سر پر نیب کے کیسز کی تلوار لٹک رہی ہے۔ جبکہ عمران خان اگلی چال میں اپنا کردار جاننے کے لئے راولپنڈی سے پاکپتن کے چکر لگا رہے ہیں۔ ماضی پر نظر ڈالیں تو یہ حالات نئے نہیں ہیں کیونکہ پہلے بھی سیاستدانوں کو گھیر کر اسی طرح ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کیا جاتا رہا ہے۔ تاکہ ہر فریق کو اپنی بقا دوسرے کی مکمل ناکامی میں ہی نظر آنے لگے۔ آخر کار قوم سیاستدانوں سے مایوس ہو کر کسی 'نجات دہندہ' کی راہ دیکھنے پر مجبور ہو جائے۔