نوید غم

ہمارے میڈیا کے احباب اسے show of power کہتے ہیں، ہم بصد احترام ان سے اختلاف کرتے ہیں۔ ہم اسے show of papularity کہتے ہیں۔ پہلا فیصلہ یہ ہوا کہ نواز شریف بذریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد سے لاہور تشریف لے جائیں گے۔ یار لوگوں نے  سفر بذریعہ جی ٹی روڈ کو خطرناک گردانا اور فیصلہ بدل دیا گیا۔ لیکن پھر فیصلہ بدلا گیا اور اعلان ہوا کہ نواز شریف جی ٹی روڈ ہی سے لاہور جائیں گے۔ اسلام آباد اور لاہور کے درمیان ان کے بہت سے چاہنے والے چشم براہ ہوں گے ان پر پھول نچھاور کیے جائیں گے۔ ان کے خطاب کو خصوع و خشوع سے سنیں گے۔ دل و جان سے ان کے جلسوں میں شرکت کریں گے۔ ان کے حق میں نعرہ بازی کریں گے۔ اس لئے ہم اسے show of papularity کہتے ہیں۔

اسلام آباد سے لاہور تک جی ٹی روڈ دلہن کی طرح آراستہ کیا جائے گا۔ قد آور بینرز لگائے جائیں گے ہری جھنڈیاں جا بجا ہوا میں پھڑپھڑاتی دیکھی جائیں گی۔ دیگوں کے دہانے کھول دیئے جائیں گے۔ قیمے والے پراٹھے اور دہی بھلے تقسیم ہوں گے۔ گلی گلی اخباروں کی خبریں گشت کر رہی ہوں گی۔ گھر گھر ہمارے ٹی وی اینکر جوش خطابت میں مصروف ہوں گے۔ یہ سارا ماحول خوش حال پاکستان کی نوید دے رہا ہوگا۔

سب کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو وجود میں آئے ستر سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ لیکن تاریخ کے صفحات یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ان ستر سال میں ایک وزیراعظم بھی اپنی مدت پوری نہ کر سکا۔ اس سارے عرصہ میں ملک مشکل اور مشکل ترین مراحل سے گزرتا رہا۔ اور ملکی سیاست بدستور سیاسی تنزل کا شکار رہی۔ مہنگائی کا دست، دست بالاری، روزگار محدودے چند کے ہاتھوں میں رہا اور عوام ہر دور میں دربدر رہے۔ اس دوران ملک کے قانونی رہنماﺅں نے تین فوجی انقلابات 1985، 1977 اور 1999 کو احسن نظر سے دیکھا۔ عوام نے بھی سڑکوں پر نکل کر بھنگڑے ڈالے۔

دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

اب ایک بار پھر جمہوری منتخب وزیراعظم کو اپنی مدت پوری کرنے کی مہلت نہ دی گئی۔ اس کی وجوہات سرعام ہیں۔ عوام نے صبر آزما انتظار کے بعد عدلیہ کے  پانچ فاضل ججوں نے مشترکہ اعلامیہ سنایا کہ وزیراعظم نہ تو صادق ہیں اور نہ ہی امین ہیں۔ بلکہ وزیراعظم کا سارا کنبہ ”بدعنوانیوں اور دروغ گوئی“ کا شکار ہے۔ فاضل ججوں کا یہ تاریخی اعلان پاکستان کے لئے شرمندگی کا باعث ہوا۔ وزیراعظم  عدالت عالیہ کے حکم کے سامنے سرنگوں ہوئے لیکن حواریوں کے ذریعہ بار بار کہا کہ ہمیں عدالت کا حکم منظور نہیں۔ پھر اسی وزیراعظم نے جو کہ نہ تو صادق ہیں اور نہ ہی امین ہیں رائج قوانین کے مطابق وزیراعظم منتخب کیا۔ کابینہ کی تشکیل ہوئی لیکن ذرا غور سے دیکھئے، تو یہ کابینہ اس شراب خانے کا منظر دکھاتی ہے جس میں پرانی بوتلوں پر نئے لیبل لگائے گئے ہیں۔

پیو کہ مفت لگا دی ہے خون دل کی کشید

اب یہ سازش کہ اس وزیراعظم کو جو نہ صادق ہے نہ امین ہے ملک کا ہردلعزیز اور ملک کا نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جائے۔ اسلام آباد سے لاہور تک جا بجا show of papularity کے مظاہرے کئے جائیں۔ راولپنڈی، جہلم، گجرات، گوجرانوالہ اور بالآخر لاہور کو جھنڈیوں اور بینرز سے آراستہ کیا جائے۔ ہم دیکھ رہے کہ ایک بینر ”روک سکتے ہو تو روکو“ نے سارے جی ٹی روڈ کو تسخیر کر رکھا ہے۔

لیکن اس خبر کو خوش آئند قرار خبر نہ سمجھا جائے۔ اس خبر کو طبلے کی تھاپ، رقص کی بے خودی اور رنگوں اور روشنیوں کی آماجگاہ نہ سمجھا جائے۔ شاید اس سارے جشن کے پیچھے انسانی خون ریزی کی ارزانی بھی پوشیدہ ہے۔ فرقہ وارانہ  فساد بھی شامل ہے۔

اماں ملے نہ کہیں تیرے جانثاروں کو
جلال فرق سرِ دار کو نظر نہ لگے

کہیں اس جشن کے پیچھے ایک اور فوجی انقلاب تو سر نہیں اٹھا رہا۔ تاریخ کے صفحات تو یہی گواہی دے رہے ہیںِ

بساطِ مینا و ساغر اٹھا لو
اٹھا دو شمع محفل بزم والو
پیو اک اور جام الوداعی
پیو اور پی کے ساغر توڑ ڈالو!