ڈکٹیٹرشپ سے ملک پٹڑی پر نہیں چڑھتے

  • تحریر
  • منگل 08 / اگست / 2017
  • 3832

یہ  17  فروری 2001  کے جاتے ہوئے جاڑے کی   ایک  شام تھی۔  لاہور کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ایک تقریب تھی۔   بظاہر تو  یہ تقریب ہر سال پاکستان  فیڈریشن آف چیمبرز کے زیرِ اہتمام ایکسپورٹ ٹرافی ایوارڈ کے نام سے عموماٌ کراچی میں منعقد ہوتی تھی لیکن اس بار لاہور میں ہو رہی تھی۔  لاہور میں انعقاد کی وجہ سے  کاروباری  اشرافیہ کی اس میں دلچسپی ایک  قدرتی امر تھا لیکن اس میں  ہر قیمت  پر شرکت کی اصل  وجہ اس کے مہمانِ خصوصی تھے۔

پرویز مشرف اس  ایوارڈ تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ سیاسی حکومتوں کے سر کردہ لوگوں سے تعلق  تو کاروباری حلقوں کا معمول تھا لیکن اب ایک فوجی حکومت تھی۔ پرویز مشرف ابھی صدر نہ بنے  تھے اور ملک کے چیف  ایگزیکٹو تھے۔    چیف ایگزیکٹو پرویز مشرف تک  رسائی کاروباری لوگوں کے لئے  ضروری  تھی،  اسی لئے شہر کا شہر اس تقریب میں امڈ آیا۔   جس کمپنی میں ہم اس وقت ملازمت کر رہے تھے اس کمپنی کو بھی ایکسپورٹ ٹرافی ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا اور اس ایوارڈ کی وصولی کے لئے کمپنی کی طرف سے ہمیں مقرر کیا گیا۔ اس لمحے کی یادگار  ایک  تصویر آج بھی ہمارے گھر میں آویزاں ہے۔ ہمیں وہ لمحہ آج بھی یاد ہے، پرویز مشرف  سے گرم جوش مصافحہ اور  ان کے چہرے کی  بھر پور مسکراہٹ۔ ایوارڈ لینے والوں کی طویل قطار کے باوجود ان کے مصافحے کی گرم جوشی اور چہرے کی  تروتازہ  مسکراہٹ دیدنی تھی۔  

وقت بدلا، پرویز مشرف صدر بنے، تین سال بعد سیاست کو اپنے ڈھب سے بحال کیا۔  کہاں یہ کہ صدر بل کلنٹن بھارت یاترا کے بعد پاکستان آنے سے گریزاں تھے، آئے تو اس شرط کے ساتھ کہ ایک غیر جمہوری حکومت کے سربراہ سے سرِ عام مصافحہ  نہ کریں گے لیکن پھر اس کے بعد  9/11   کے واقعے نے ان کا اسٹیٹس بدل کر رکھ دیا۔ وہ امریکہ کے پسندیدہ ترین اتحادی ہوئے۔ سیاست کے جس میدان سے انہوں نے پی پی پی کی بے نظیر کو باہر رکھنے کا ہر جتن کیا،    این آر او کرکے ان کو  واپسی کی راہ دی اور  اپنے لئے محفوظ راستہ حاصل کیا۔  دس سال کے لئے ملک بدر کئے جانے والے نواز شریف  معاہدے کی مدت سے قبل ہی آن دھمکے۔  الیکشن ہوا تو اس  کے بعد  منظر ہی  تبدیل ہو گیا۔ اب دوبئی میں  قیام  پذیر سابق صدر پرویز  مشرف نے گزشتہ ہفتے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے تاریخی شعور  سے سب کو  ان الفاظ میں آگاہ کیا کہ جب بھی موقع ملا سویلینز نے ملک کا بیڑہ غرق کیا جبکہ  ڈکٹیٹروں نے ملک کو پٹری پر چڑھایا۔ اس  ایک سانس میں انہوں نے ایشیا میں حیرت انگیز ترقی کرنے والے  ممالک کا حوالہ بھی دیا کہ ان کے ہاں کی ترقی بھی ڈکٹیٹرز ہی  کی مرہونِ منت ہے۔ 

کاروباری سلسلے میں ہمیں مشرقِ بعید کے ان ممالک میں بار بار جانے کا موقع ملا جن کی معاشی ترقی کی داستانیں  ایک حقیقت ہیں۔  جاپان، ہانگ کانگ، جنوبی کوریا، تائیوان، سنگا پور، ملائیشیا، تھائی لینڈ، چین۔  ان ممالک کی حیرت انگیز ترقی ساٹھ   سے لے کر نوے  کی  دِہائی میں ہوئی۔ ہر ملک کا اپنا  اپنا تاریخی  پس منظر  ہے۔ ان دِہائیوں میں دنیا سرد جنگ  کا سامنا کر رہی تھی۔ ایک طرف امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی سرمایہ دارانہ نظام کو دنیا کے لئے  دائمی مسرت اور استحکام  بتاتے نہ تھکتے۔ دوسری طرف  روسی  اشتراکیت کے گْن گاتے  تھے۔  دوسری جنگِ عظیم کے بعد سرد جنگ نے دنیا کے بیشتر ممالک کو دو کیمپوں کو تقسیم کر رکھا تھا۔  ڈکٹیٹرز صرف ایشیا کے ان نصف درجن ممالک ہی میں نہ تھے بلکہ افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور لاطینی امریکہ میں بھی  تھے۔ تعداد جن کی یقینا  نصف سینکڑے تک پہنچتی تھی۔ سرد جنگ کا اختتام ہوا  تو اکثر ممالک میں ڈکٹیٹرشپ کے مکانوں کی دیواریں  کیا گریں جمہوریت  نے  رستے بنا لئے لیکن  ہر ملک کے حصے میں ایشیائی  ممالک کی سی  معجزاتی معاشی ترقی آئی اور نہ  جمہوریت کا قیام۔ 

دوسری جنگِ عظیم کے بعد دو لخت ہونے والے جنوبی کوریا   کی معیشت  1950   سے شروع ہونے والی تین سالہ   جنگ کے بعد بالکل تباہ حال ہو گئی۔  جنرل پارک نے  1963 میں  ملک کے اقتدار پر قبضہ کیا۔  انہیں جلد ہی احساس ہو گیا کہ  اقتصادی ترقی کے بغیر ان کے ملک کی آزادی ادھوری اور ان کا وجود دوسروں پر منحصر رہے گا۔  انہوں نے  حیرت انگیز اقتصادی اقدامات کا سلسلہ شروع کیا۔ ابتدا میں عالمی مالیاتی ادارے امداد دینے سے  انکاری تھے لیکن انہوں نے ملکی انٹرپرینیورز کو  متحرک کیا، انہیں  قرضے فراہم کئے، سہولتیں مہیا کیں۔ صنعتی ترقی میں جاپان کا ماڈل اپنایا۔  ان  کا مشن تھا کہ  کوریا کو صنعتی اور تجارتی اعتبار سے اپنے پاؤں  پر کھڑا  کر دیں۔ سیول بوسان ہائی وے اور  کوسکو اسٹیل ملز بغیر کسی عالمی  قرضے سے ملکی  وسائل سے بنائیں۔ شپ بلڈنگ، بندرگاہیں ، آٹومو بائلز، کیمیکلز،    ٹیکسٹائلز سمیت درجنوں نئے میدانوں میں سرمایہ کاری کی گئی۔ اس سخت گیر حکومت  پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں   کے رتکاب  کا داغ بھی نمایاں رہا لیکن ترقی  کا پہیہ چل نکلا  جس   میں اور بہت سے عناصر کا کردار کلیدی رہا۔ یہی  وجہ ہے کہ  صدر پارک کے 1979 میں قتل ہونے کے بعد بھی  ترقی کا یہ سفر  رکا نہیں بلکہ مزید تیز ہوا۔ 

تائیوان کئی سو سال تک ہالینڈ، چین اور جاپان کے زیرِ تسلط ایک خوابیدہ سا  زرعی جزیرہ تھا۔ چین کے انقلاب کے بعد چیانگ کائی شیک نے تائیوان میں اپنی حکومت  قائم کی۔ یہ بھی ایک آمرانہ حکومت تھی لیکن اسے جلد ہی احساس ہو گیا  کہ اقتصادی ترقی کے بغیر چین کے سامنے اپنا وجود قائم رکھنا ناممکن  ہے۔ زرعی اصلاحات کی گئیں، ر زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیداوار میں اضافہ کیا گیا۔  فارن کرنسی کے سخت کنٹرول کے باعث زرعی پیداوار کے عوض صنعتی مشینری منگوائی گئ۔، حکومت نے مشہورِ زمانہ دس کنسٹرکشن پروجیکٹس سے صنعتی ترقی کی بنیاد رکھی۔ سرکاری طور پر لائٹ انڈسٹری اور چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو قومی ترجیح بنایا گیا۔ ملک بھر میں یکساں پرائمری تعلیم کو  رائج کیا گیا،  تعلیم قومی ترجیح ٹھہری۔ ملک دھیرے دھیرے جمہوریت کی طرف چلا گیا لیکن تائیوان کی معا شی ترقی کا سفر اب بھی جاری ہے۔ تائیوان کو چین کے دباؤ کی وجہ سے اقوام متحدہ سمیت بہت اداروں سے نکالا گیا اور سفارتی میدان میں اسے  تنہائی کا سامنا  بھی ہے لیکن  اس کی اقتصادی ترقی اور چین کے دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت نے اسے اب بھی ایک کامیاب ملک بنا رکھا ہے۔   

سنگاپور ایک شہری ریاست پر مشتمل ملک ہے۔ سنگا پور ایک سو سال تک برطانوی تسلط میں رہا۔  1963 میں برطانوی راج سے آزاد ہوا لیکن دو سال بعد ملائیشیا نے اسے اپنے سے علیحدہ کر دیا۔ لی کوآن یوو  اس کے پہلے وزیراعظم بنے، انہیں اس حقیقت کا شدت سے احساس تھا کہ سنگا پور کے پاس زمین ہے نہ قدرتی  وسائل۔ بقول ان کے  سنگاپور میں ایک قوم اور ملک بننے کے  عناصر تھے ہی نہیں۔  سنگا پور کی   بندرگاہ کی منفرد  پوزیشن کو محور بنا کر انہوں نے  ایکسپورٹ اور اعلی درجے  کی صنعتی پیداوار   کے لئے اپنی پوری صلاحیتیں  لگا دیں۔ سنگا پور کی  اْس وقت کی فی کس آمدنی 360 ڈالر تھی جو اس وقت ساٹھ ہزار ڈالر ہے جو شاید دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے۔ سنگاپور دنیا کی مصروف ترین بندرگاہ ہے۔  تعلیم، ٹیکنالوجی، تجارت،  بینکنگ و انوسٹمنٹ،  ہائی ٹیک صنعتیں  اور لاجسٹک  آج کے سنگا پور کی پہچان ہیں۔ لی کوآن یوو کو  حکومت سے علیحدہ اور فوت ہوئے عرصہ بیت گیا لیکن سنگا پور کی ترقی کا سفر آج بھی جاری ہے۔

ان تینوں مثالوں میں کئی مشترک قدریں ہیں۔ تینوں پر غیر ملکی تسلط رہا، تینوں جنگ کی تباہ کاریوں کا شکار ہوئے، اقتصادی اور صنعتی ترقی کرنے کی کوشش کی تو عالمی مالیاتی اداروں نے تعاون سے شروع میں گریز ہی کیا۔ ان تمام ممالک نے  اپنے وسائل پر بھروسہ کیا۔ تعلیم، ٹیکنالوجی، انٹرپرینیورشپ،   اداروں  کی  تعمیر و ترویج اور   معاون حکومتی پالیسیوں سمیت کئی  ایسے اقدامات ہیں جن سے ان ممالک نے  اقتصادی معجزے  کر دکھائے۔  اْس وقت کے ڈکٹیٹرز جانے کے بعد ملک کو قیادت کا بحران رہا اور نہ اقتصادی ترقی کے  تسلسل کے لئے ان ڈکٹیٹرز کی  یاد ستاتی رہی۔

تاریخ کے اس پسِ منظر اور ذاتی مشاہدے کے بعد پرویز مشرف کے اس بیانئے پر ہم ابھی تک سوچ میں ہیں کہ  اگر واقعی ایسا تھا تو برما، زمباوے، یوگنڈا، کیمرون اور  سوڈان سمیت  وہ درجنوں ممالک پٹڑی پر کیوں نہ آ سکے جنہیں دِہائیوں تک ڈکٹیٹر نصیب رہے؟    جہاں ڈکٹیٹرز  قوموں  کے نصیب میں نہ تھے ان کے ہاں استحکام اور معاشی ترقی  کو پاؤں پسارنے کا موقع کیسے ملا۔   مرزا غالب  یاد آئے:
حیراں ہوں  دِل کو  روؤں کہ  پِیٹوں جگر کو میں
مقدور  ہو  تو ساتھ  رکھوں  نوحہ  گر کو میں