تقسیمِ ہند کے 70سال

اس سال تقسیمِ ہند کو 70سال مکمل ہو جائیں گے۔ 70 سال قبل  چودہ اور پندرہ اگست کو پاکستان اورہندوستان کو آزادی ملی تھی۔ جس سے کئی لوگوں کو اپنے ملک سے در بدر ہونے کا صدمہ، اپنے رشتہ داروں کی جان گنوانے کا دُکھ، افسوس اور ذلّت  کا احساس ہوا تو وہیں کئی ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں اپنے وطن کی آزادی پر ناز بھی ہوتا ہے اور وہ اپنے وطن کی آزادی کی خوشی میں خوب جشن بھی مناتے ہیں۔

1947 میں ہندوستان اور پاکستان کا  نئے ملکوں کی حیثیت سے جنم ہوا جس سے ہم سب واقف ہیں۔ لیکن وہیں ایک اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے قیام میں آنے سے لاکھوں لوگوں کی جانیں بھی گئیں ۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ہندو اور مسلمانوں کے بیچ بڑھتے ہوئے تناؤ اور ان علاقوں میں جہاں مسلمان یا ہندو اکثریت میں تھے وہاں اقلیتی طبقے میں خوف و ہراس کا ماحول قائم ہوچکا تھا۔ ظاہر سی بات ہے ان تمام باتوں کے پیچھے چند انتہا اور کٹّر پسند جماعتوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے جو صدیوں سے انسانوں کے بیچ نفرت پھیلانے کا کام کر رہے ہیں۔ نفرت کے دیوتا اور پجاری کہیں زبان کے نام پر، کہیں مذہب کے نام پر، تو کہیں اپنے نجی مفاد کی خاطربے گناہوں کا خون بہا کر انسانیت کی بے بسی کا جنازہ نکالتے ہیں۔ تاکہ امن پسند انسان ان خون کے پیاسے درندوں سے خوف زدہ ہو جائے۔

برٹش راج نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد ہندوستان کو اس لئے چھوڑنے کا فیصلہ کیا کہ انہیں ہٹلر کی جارحانہ نسل پرستی سے یہ سبق حاصل ہوا کہ اب وہ کسی غیر ممالک پر قبضہ برقرار رکھ کر اپنی آن اور شان کو قائم نہیں رکھ پائے گے۔ اس کے علاوہ گاندھی جی اور ان کے ساتھیوں کی عدم تشدد تحریک سے انگریزوں کو اس بات کا احساس ہوچلا تھا کہ اب وہ ہندوستان پر حکومت مشکل ہوچکا ہے۔  انگریزوں کے ہندوستان چھوڑنے اور ملک کا بٹوارہ ہونے پر ہونے والے تشدد کو آج بھی ہر ذی شعور انسان غلط قدم بتاتا ہے۔ دیکھا جائے تو بٹوارے سے ہندوستان اور پاکستان دو نوں ملکوں کا قیام عمل میں تو آیا لیکن وہیں آج بھی دونوں ملکوں کے عوام میں بے چینی اور نفرت  موجود ہے۔ ظاہر سی بات ہے جب ایک شخص کو اپنی جنم بھومی محض اپنے مذہبی پہچان کی وجہ سے چھوڑنا پڑے تو اس شخص کے دل میں ایسی آزادی کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ لاکھوں لوگوں کو مذہب کے نام پر قتل  کر دیا جائے اس سے بھلا کون مطمئن ہو سکتا ہے۔

آج بھی ہندوستان اور پاکستان کے بیچ روزانہ نہیں تو ہر ہفتے اسی بات پر توں توں میں میں ہوتی ہے کہ پاکستان انتہا پسندوں کو بڑھاوا دے رہا ہے یا ہندوستان اپنی خفیہ ایجنسی کے ذریعہ پاکستان میں گڑ بڑ پھیلا رہا ہے۔ گویا دیکھا جائے تو 70برسوں میں ہندوستان اور پاکستان نے آپس میں سوائے نفرت بڑھانے کے اور کسی مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ تاہم کبھی کبھار دونوں ملکوں کے لیڈروں کو ایک دوسرے سے دوستی کا ہاتھ ملانے کی بات کو خبروں کے ذریعہ سنتے رہتے ہیں۔ لیکن دونوں ملکوں کی دوستی شروع ہونے سے قبل ہی ڈھیر ہو جاتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے جب دونوں ممالک ایک دوسرے پر اعتبار ہی نہیں کرتے توانجام یہی ہوگا۔

دلّی اور اسلام آباد میں 430 میل کی دوری ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے لوگوں کو یہ سفر طے کرنے میں کئی مہینے بلکہ سال بھی لگ جاتے ہیں۔اس کی کئی وجوہات ہیں مثلاً ویزا کی کارروائی میں ایک عرصہ لگنا یا انکار ہونا اور دونوں راجدھانیوں کے بیچ براہِ راست ہوائی سفر کے انتظام کی سہولت کا نہ ہونا۔ جس کی وجہ سے بہت سارے لوگ ان ہی دشواریوں سے اپنے عزیز سے مل نہیں پا رہے ہیں۔ 70 برسوں میں ہندوستان اور پاکستان کے بیچ تین جنگیں ہوچکی ہیں جبکہ کچھ لوگ چار بھی کہتے ہیں۔ حالانکہ 1999میں جب ہندوستان اور پاکستان کے بیچ جھڑپیں ہوئی تھیں تو اُس وقت رسمی جنگ کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ اگر دیکھا جائے تو ہندوستان اور پاکستان میں جنگوں کی  اہم وجہ ہندوستان کا صوبہ کشمیر ہے۔ جہاں اب تک امن قائم نہیں ہوسکا ہے۔

برٹش راج کے خاتمہ اور ہندوستان اور پاکستان کے قیام سے لگ بھگ ایک کروڑ بیس لاکھ لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑکر پناہ گزین بننے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ اس کے علاوہ لگ بھگ دس لاکھ ہندو، سکھ اور مسلمان افراتفری میں سرحد پار کرنے اور اپنی جان بچانے کی کوشش میں مارے بھی گئے۔ ان میں وہ بوڑھے مرد اور عورتیں ، بچّے اور نوجوان شامل تھے جو شاید اپنی مذہبی شناخت کی بنا پر ایک نئے ملک کے خواب دیکھنے کی چاہت میں سرحدوں کو پار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک ایساخواب جس نے ایک نئے ملک کو جنم تو دیا لیکن ساتھ ہی بے شمار مسائل بھی چھوڑ گیا۔

1947کے بعد ہندوستان اور پاکستان میں دو قوموں نے پھر آزادی کی آواز کو بلند کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1971میں مشرقی پاکستان کو بنگلہ بولنے والوں کی بنا پر بنگلہ دیش بنا دیا گیا۔ جس میں ایک بار پھر لاکھوں لوگوں کا محض اس لئے قتل کیا گیا کہ وہ اردو زبان بولتے تھے اور پاکستان نواز تھے۔ اسّی کی دہائی میں ہندوستان میں سکھوں کی خالصہ تحریک نے ہندوستانی حکومت کے ہوش اڑا دئے تھے۔ ان دنوں آئے دن دھماکوں کی خبروں سے عام شہری کا جینا دو بھر ہوگیا تھا۔ 1984میں آپریشن بلو اسٹار کے ذریعہ خالصہ تحریک کا خاتمہ کیا گیا لیکن اس کے عوض میں وزیر اعظم اندرا گاندھی کو اپنی جان بھی گنوانی پڑی۔
آج بھی کئی لوگ برٹش راج کو تقسیمِ ہند کے لئے موردالزام ٹھہراتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ انگریزوں نے بٹوارے میں جلد بازی کی تھی جس کی وجہ سے مسلمانوں کی ایک بھاری تعداد ہندوستان میں رہ گئی۔ جو آج بھی اکژریتی ہندوؤں کی زیادتی کا شکار ہے۔ تاہم ہندوستان کی نئے نسل کے لوگوں میں اب اس بات کی کوئی شکایت یا افسوس نہیں  ہے۔ بلکہ اس کے مقابلے میں ان کے اندر ہندوستان کی انتہا پسند ہندو جماعت آر ایس ایس کے خلاف غصّہ زیادہ پایا جا رہا ہے۔

میں نے اس بات کو محسوس کیا ہے کہ تقسیمِ ہند سے سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو پہنچا ہے۔ مسلمانوں نے ہندوستان میں سب سے پہلے مسلم لیگ کے بینر تلے پاکستان بنانے کی مانگ کی تھی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو ہندوستانی مسلمان ہجرت کرکے ایک نئے سپنے کے ساتھ پاکستان گئے انہیں مہاجر کہہ کر ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا۔ اس کے بعد جو مسلمان مشرقی پاکستان گئے انہیں بے دردی سے مارا اور کاٹا گیا اورجو مسلمان ہندوستان میں رہ گئے انہیں اب تعلیم، روزگار، رہائش اور دیگر شعوبوں میں تعصّب کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔

میں ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں کو آزادی کی مبارباد پیش کرتا ہوں۔ لیکن میں اُن لوگوں کے دُکھ اور درد میں بھی برابر کا شریک ہوں جنہیں مذہب، زبان اور نسل پرستی کی بنیاد پر جان گنوانی پڑی۔ میں آج بھی اپنے آپ سے یہی پوچھتا ہوں کہ اگر آزادی ملی ہے تو کس بات کی، غربت کو بڑھاوا دینے کی، ذات پات کے نام پر انسان کو اس کے حق سے محروم کرنے کی، مذہب کے نام پر انسان سے نفرت کرنے کی، اپنے پڑوسیوں کے ساتھ خوف وہراس میں جینے کی یا ملک کے خزانے سے اپنی جیبیں بھرنے کی۔

شاید ہم اور آپ ان سوالوں کے جواب سے ہمیشہ محروم رہیں گے۔  ہم ہر سال یوم آزادی منانا بھی نہیں بھولیں گے۔ اور کیوں بھولیں کیونکہ آزادی ہم سب کا بنیادی حق ہے۔