نواز شریف کے خلاف سازش کس نے کی
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 10 / اگست / 2017
- 4348
سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی ان کے لیے ، جماعت کے لیے اور ان کے حامی دانشوروں کے لیے بھی کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نااہلی کو قبول نہیں کیا گیا ۔ نااہلی سے قبل بھی نواز شریف نے جماعت اور سربراہ حکومت کے طو ر پر عدالتی عمل اور جے آئی ٹی کو شک کی نگاہ سے دیکھا تھا۔ بالخصوص جے آئی ٹی کے ارکان اور ان کی جانب سے جمع کروائی گئی حتمی رپورٹ کو نہ صرف تنقید کا نشانہ بنایا گیا بلکہ اس رپورٹ کے نتائج کو ہی قبول نہیں کیا گیا ۔ لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ مقدمہ میں نااہلی کو نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ دلیل یہ دی جارہی ہے کہ اس مقدمہ کو قانونی معاملات سے زیادہ سیاسی تعصب کی بنیاد پر نمٹا گیا ، جو انصاف کے تقاضوں کے برعکس ہے ۔
نواز شریف نااہلی کے بعد مزاحمتی کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں ۔ پنجاب ہاؤس میں بیٹھ کر مختلف سیاسی ، قانونی، جماعتی فریقین کے ساتھ ملاقاتوں میں وہ اس کا ااظہار کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سازش کا شکار ہوئے ہیں۔ اس سے قبل نواز شریف سمیت ان کے دیگر ساتھی ملکی اور بین الااقوامی سازشوں کا ذکر کرتے رہے ہیں ۔ لیکن جب بھی ان سے اس سازش کے کرداروں کو بے نقاب کرنے کا کہا گیا تو واضح بات کرنے کی بجائے سیاسی اشاروں میں بات کی جاتی ہے ۔ یہ سیاسی اشارے اہل علم کے لیے کافی ہیں جس میں وہ اپنے خلاف عدلیہ اور اسٹیبلیشمنٹ کے گٹھ جوڑ کا اشارہ دیتے ہیں۔ نواز شریف کے کچھ ساتھی تو خارجہ پالیسی میں حکومتی پالیسی کو بنیاد بنا کر بین الااقوامی سازش کو بھی ان کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔
نواز شریف ایک بڑی سیاسی جماعت کے راہنما ہیں اور یقینی طور پر ان کا بڑا ووٹ بینک موجود ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف کسی بھی صورت میں نہیں چاہیں گے کہ ان کی مقبولیت نااہلی یا نیب میں شروع ہونے والے ریفرنسز کی وجہ سے متاثر ہو۔ اس لئے نواز شریف اور ان کے ساتھی یہ بنیادی بیانیہ عوامی ، علمی اور فکری محاذ پر پھیلانا چاہتے ہیں کہ وہ پانامہ کی بجائے اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراؤ کی وجہ سے نااہل ہوئے ہیں۔ اس کھیل میں نواز شریف کو میڈیا کے محاذ پر ایک بڑے طبقہ کی حمایت بھی حاصل ہے جو نواز شریف کے بیانیہ کو قومی بیانیہ بنا کر پیش کررہا ہے ۔ یہ بات پہلے سے طے تھی کہ اگر پانامہ کا فیصلہ نواز شریف کے خلاف آئے گا تو اسے آسانی سے قبول نہیں کیا جائے گا ۔ اب نواز شریف اس مقدمہ کو بنیاد بنا کر اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف بڑے مزاحمت کار کے طور پر سامنے آئے ہیں ۔
نواز شریف بار بار اس نقطہ کو بھی دہرارہے ہیں کہ ان کے سینے میں بہت سے راز دفن ہیں اور یہ راز کافی تلخ اور کڑوے ہیں اور وقت آنے پر وہ ان رازوں اور تلخ حقایق کو عوام کے سامنے ضرور پیش کریں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نواز شریف اور ان کے سیاسی ساتھیوں کی جانب سے اس کھیل میں اسٹیبلیشمنٹ کو اہم فریق قرار دیا جارہا ہے تو دوسری جانب یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہمارے خلاف اس سازش میں کوئی بھی ریاستی ادارہ شامل نہیں۔ھ لوگ ملوث ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر نواز شریف کے خلاف سازش کومان لیا جائے تو وہ کسی بھی صورت میں انفرادی نہیں ہوسکتی ، اس میں ادارہ جاتی عمل ضرور ہوگا ۔ لیکن جب یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ادارے اس سازش میں شامل نہیں تو پھر ان کرداروں کی نشاندہی تو حکومت اوراداروں کے باہمی تعاون کے ساتھ ممکن ہوسکتی ہے ۔ لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت سازشی کرداروں یا اداروں کو سامنے لانے کی بجائے محض اس نقطہ کو سیاسی طور پر استعمال کرکے رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ بحث کو اسی تناظر میں ڈیزائین بھی کیا گیا ہے ۔
پانامہ مقدمہ کے دوران بھی حکومت، وزیر اعظم ، وفاقی وزرا اور ان کے حمایتی دانشور سول ملٹری تعلقات کی بہتری کی اعلی مثالیں دیا کرتے تھے ۔ جب اس طبقہ کے سامنے سول ملٹری تعلقات میں بداعتمادی پر مبنی مسائل یا ٹکراؤ کی صورتحال رکھی جاتی تو اس کا عملی طو رپر مذاق اڑایا جاتا تھا ۔ لیکن اب دلیل دی جارہی ہے کہ جو ایجنڈا نواز شریف کا داخلی اور خارجی تھا اس پر اسٹبلیشمنٹ ان سے نالاں تھی ۔ اپنے ایجنڈے پر ڈکٹیشن دیتی تھی جو صورتحال کے بگاڑ کا سبب بنا ۔ حالانکہ اگر محض مقصد نواز شریف کو اقتدار سے باہر کرنا تھا تو ان کے موجودہ دور اقتدار میں کئی ایسے مواقع آئے جو کافی سنگین نوعیت کے تھے۔ لیکن فوج نے کسی بھی طرح انہیں اقتدار سے علیحدہ کرنے کے لئے مداخلت نہیں کی۔ پانامہ مقدمہ میں بھی ایک برس تک معاملات عدالت میں چلے ، تسلسل کے ساتھ نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد کو صفائی کا موقع دیا گیا لیکن وہ اپنی صفائی پیش نہیں کرسکے ۔
یہ بات بجا ہے کہ نواز شریف کے ہمیشہ سے اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ تعلقات متاثر کن نہیں تھے۔ اس میں یقینی طور پر کچھ مسائل اسٹیبلیشمنٹ کی جانب سے بھی ہوں گے لیکن کیا وہ خود بھی اس صورتحال کے ذمہ دار نہیں بنے۔ اس پر بھی غور کرنا چاہیے۔ المیہ یہی ہے کہ یہاں کوئی اپنی غلطی کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے بقول سارا کھیل اسٹیبلیشمنٹ اور سیاسی مخالفین کا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ نااہلی کا فیصلہ بہت پہلے ہی ہوچکا تھا اور جواز بعد میں ڈھونڈا گیا۔ جے آئی ٹی میں مافیا کے لوگ شامل تھے ۔ وزیر اعظم کے خلاف ہمیشہ سازشیں کی گئیں اور ججز اور فوج کا احتساب نہیں کیا جاتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو، گیلانی اور راجہ پرویز اشرف جو منتخب وزیر اعظم تھے ان کو گھر بھیجنے کے لیے خود نواز شریف اسٹیبلیشمنٹ کی مدد سے سڑکوں پر آئے۔ وہ عمل کہاں تک جائز تھا اس کا جواب بھی ان کو دینا چاہیے ۔
نواز شریف کے پاس یہ حق ہے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی تمام سازشوں کا پردہ چاک کریں اورجو بھی حقائق یا تلح معاملات ان کے پاس ہیں وہ ضرور سامنے لائیں ۔ یہ محض ان کا ہی سیاسی حق نہیں بلکہ قوم بھی جاننا اور سمجھنا چاہتی ہے کہ سازشوں کا سچ کیا ہے ۔ وہ ضرور بتائیں کہ کون سے جنرل و ججز سمیت ممالک یا ان کے سربراہ یا ایجنسیاں ہیں جو ان کے خلاف سازش کے مرتکب ہوئے ہیں اور کیوں ہوئے ہیں ۔ اسی طرز کی باتیں نواز شریف سمیت ماضی میں دیگر سیاست دان بھی کرتے رہے ہیں مگر پھر اس پرخاموشی اختیار کی گئی ۔ اب دیکھنا ہوگا کہ نواز شریف ان پس پردہ سازشوں کو کب بے نقاب کرتے ہیں۔
لیکن اگر اس کے برعکس مقصد اس نااہلی کو بنیاد بنا کر اداروں پر دباؤ ڈالنا ہے تویہ ان کا حق ہے۔ لیکن اس کا ان کو فائدہ اور نقصان زیادہ ہوگا۔ ابھی تو نواز شریف کی مزاحمت کی ابتدا ہوئی ہے ۔ جیسے جیسے نیب کی عدالتوں میں ریفرنسز چلیں گے تو اس سے اور زیادہ اداروں میں بگاڑپیدا ہوگا ۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ محض ان کا ہی احتساب اور ٹارگٹ کیوں۔ اس وقت ملک میں نواز شریف کی جماعت اور ان کے نامزد کردہ وزیر اعظم اور کابینہ کی حکومت ہے۔ بلاتفریق احتساب کے عمل سے کس نے ان کو روکا ہے ۔ جن جن کے خلاف وہ احتساب کرنا چاہتے ہیں ، اس میں پہل کریں اور معالات کو شفاف انداز میں آگے بڑھائیں ۔ عوام اس کا خیر مقدم کریں گے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ماضی میں بھی اور موجود حکومت کے دور میں بھی احتساب کے نام پر سیاسی سمجھوتے کیے گئے جس نے شفافیت پر مبنی حکمرانی کے نظام کو پیچھے دھکیل دیا ۔
نواز شریف اب چونکہ اقتدار سے باہر ہیں ، ان کو مقدمات کا بھی سامنا ہے اس لیے ان کے دکھ کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ ایسی صورتحال میں وہ ضرور خارجی سازشوں پر غورکریں۔ اگر واقعی شواہد ہیں تو سامنے لاکر سب کی راہنمائی کریں ۔ لیکن اس موقع پر وہ ٹھنڈے دل ودماغ سے ان سازشوں پر بھی غور کریں جو ان کی اپنی صفوں میں ہوتی رہی ہیں۔ اس پر غور کرنے سے کہ وہ کیوں نااہل ہوئے ہیں، انہیں بہت سی باتوں کا جواب داخلی سیاست، حکمت عملی اور تضادات سے مل سکتا ہے ۔