کچھ ذکر ترقی کے سفر میں حائل مشکلات کا
- تحریر سرور غزالی
- جمعرات 10 / اگست / 2017
- 4827
کراچی کی چوڑی چکلی سڑکیں۔ شہری موٹر وے کی موجودگی میں ٹریفک کے اژدہام کو دیکھ کر آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے اس عفریت کے جنم لینے میں کہیں نہ کہیں جینیاتی خرابی ۔۔۔۔ اس طرح سے وقوع پذیر ہوچکی ہے کہ اس کا سدھرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔۔۔۔۔۔
صحرا نوردی اور جنگلوں سے گزرتے ہوئے انسان اکثر راستہ بھول جایا کرتا تھا۔ سر اٹھا کر چلنے سے انسان نے ارتقائی مراحل میں خود کو دوسرے جانوروں سے ممتاز تو کر لیا تھا۔ مگر پھر وہ اعلی و ادنی کی گرہوں میں بٹ گیا۔ وہ سرکش ا نسان جو جنت میں بھی نچلا نہیں بیٹھا بھلا کیونکر راستے کی صعوبت اور جنگلی جانوروں کا لقمہ اجل بننے پر ہار مان لیتا۔ حالانکہ سفر کرنا خطرناک تھا، ایک چیلنچ تھا انسان کے لیے۔ اکثر یہ ہوتا کہ سفر پر نکلا انسان صحراؤں میں راستہ بھول کر کہیں اور نکل جاتا اور پھر کبھی لوٹ کر واپس نہ آتا ۔ اسی لیے محاورے نے جنم لیا۔ صبح کا بھولا شام کو لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ یعنی لوٹ آنا ہی بڑی بات تھی۔ اور جنگل سے گزرتے جنگلی جانوروں کی غذا بن گیا تو واپسی ویسے ہی ناممکن ہوتی۔ اسی لیے تو مذاہب نے دور دراز کے سفر کو گناہ قرار دےکر اس پر قابو پانے کی کوشش کی۔
مگر کچھ ایسے انسان بھی تھے جو راستے میں نشانیاں چھوڑ جاتے اور یوں با آسانی واپس بھی آجاتے۔ جبکہ بیشتر لوگ اپنی زمین سے جڑے رہتے۔ پھر کچھ لوگوں نے اسے اپنا ذریعہ معاش بنا لیا۔ وہ صحراؤں اور جنگلوں سے گزرتے ایسی نشانیاں اپنے ذہنوں میں محفوظ کر لیتے کہ وہ آسانی سے آتے جاتے۔ ایسے ہی چند افراد دوسرے لوگوں کی سفر پر راہنمائی کرتے اور انعام و اکرام کے عوض کسی بھی سفر کی خواہش رکھنے والے یا ضرورت مند کو ایک مقام سے دوسری جگہ تک لے جاتے ۔ جب لوگ ایک ہی مقام سے روز گزرتے ہیں تو پہلے پہل قدموں کے نشاں پڑتے ہیں اور پھر پگڈنڈی بن جاتی ہے۔ ایسے انمنٹ نشاں تو صرف جنگلوں اور میدانوں میں ہوتے ہیں۔ صحرا کی ریت مگر کچھ اور ہے۔ یہاں خاک اڑاتی ہوا ریت پر پڑے وقتی نشان کو جلد ہی مٹا ڈالتی ہے۔
قدموں نشاں انمنٹ ہوتے گئے۔ سڑک بن گئی اور پھر پکییں پکی ہوگئیں۔ ترقی ے راستے پر سواریوں کی ضروریات بھی بڑھتی گئیں۔ پکی سڑک چوڑی شفاف شاہراہوں میں بدنے لگی اور پھر موٹر وے بن گئی۔ پھر گمان ہوا کہ شہروں کے درمیان موٹر وے شہر کے اندر بھی تو دوڑ سکتی ہیں۔ چنانچہ شہری موٹر وے کا دور آگیا۔ انسان تیز سے تیز تر ہوتا گیا۔ شہر گنجلک ہوتے گئے۔
ارتقائی سفر میں ایک دوڑ ہوتی ہے۔ انتخاب و بقا کی جدوجہد ہوتی۔ اور ایسے میں ایک نامیاتی خلیے کا ادنی سا حصہ وہ پیغام لیے ہوتا ہے جو ترجیحات بقا متعین کرنے کا باعث بنتا ہے۔ ڈی این اے کہ اس کوڈ ۔۔۔۔ مخفی پیغام میں فنا و بقا، سنوار و بگاڑ درج ہوتا ہے۔
اس کے تسلسل میں بد نظمی بگاڑ کو جنم دیتی ہے اور اسی طرح سے ہیبت ناک عفریت جنم لیتے ہیں۔
کراچی کی چوڑی چکلی سڑکیں۔ شہری موٹر وے کی موجودگی میں ٹریفک کے اژدہام کو دیکھ کر آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے اس عفریت کے جنم لینے میں کہیں نہ کہیں جینیاتی خرابی ۔۔۔۔ پیغام رسانی میں ڈی این اے کو کوڈ میں گڑ بڑ اس طرح سے وقوع پذیر ہوچکی ہے کہ اس کا سدھرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔