فرشتہ صفت روتھ فاؤ بھی رخصت ہوئیں
- تحریر مختار چوہدری
- جمعرات 10 / اگست / 2017
- 5764
ایدھی کے بعد آج کراچی اور پاکستان ایک اور انسان دوست ہستی سے محروم ہو گیا۔ ایک ایسی ہستی جس کے بارے میں ناخواندہ پاکستان کے بہت کم لوگوں کو علم ہوگا۔ کیوں کے لوگوں تک معلومات پہنچانا ذرائع ابلاغ یعنی میڈیا کا کام ہوتا ہے اور ہمارے میڈیا کو جب کبھی آیان علیوں اور گلالئیوں سے فرصت ملتی ہے تو وہ ہمیں الطاف بھائی کے خوبصورت چہرے کا درشن کرواتے تھے یا پھر این آر او، میموگیٹ، دھرنے اور پاناما پاناما کا کھیل پیش کرتے ہیں۔ آج جب اس بڑی ہستی اور انسانیت کی معراج کا انتقال ہوا ہے تو پاکستان کے تمام پھول اور پھولوں کی پتیاں راولپنڈی میں کرپشن میں سزا یافتہ شخص پر نچھاور ہو رہے ہیں۔
ہمارے میڈیا کا رخ بھی جی ٹی روڈ کی طرف ہے۔ آج اس ماں جیسی ہستی کے انتقال نے جو صدمہ دیا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ کم از کم اس ہستی کے لیے چند الفاظ لکھے جائیں۔ میرے جو دوست اس بڑی شخصیت کے بارے نہیں جانتے ان کی معلومات کے لیے بتا دوں۔ روتھ فاؤ جن کا پورا نام روتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ تھا، 9 ستمبر 1929 میں جرمنی کے شہر Leipzig میں پیدا ہوئیں اور دوسری جنگ عظیم کے دوران پلی بڑھیں۔ 1939 سے 1945 اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے اپنے شہر پر بمباری کے مناظر دیکھے اور اپنا گھر بھی بمبوں سے تباہ ہوتا دیکھا۔ اسی دوران ان کا وطن ملبے کا ڈھیر بنا اور جنگ کے خاتمے تک لاکھوں لوگ مارے گئے۔ اور ملک 2 حصوں مغربی اور مشرقی جرمنی میں تقسیم ہو گیا۔ مشرقی حصے پر روس کا تسلط تھا۔
روتھ فاؤ ابتدائی تعلیم کے بعد 1948 میں بارڈر کراس کرکے مغربی جرمنی میں میڈیکل کی تعلیم شروع کی ۔ یاد رہے کہ اس زمانے میں مشرقی جرمنی کا بارڈر کراس کرکے مغربی جرمنی جانے پر سخت پابندی تھی اور ایسا کرنے والوں کو سزائے موت بھی دی جاتی تھی۔ 1950 میں انہوں نے مغربی جرمنی کی یونیورسٹی Mainz and Marburg سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی اور گریجویشن کے بعد عیسائیوں کے فرقے کیتھولک کی مشنری تنظیم Daughters کو جوائن کر لیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر پاک و ہند میں جذام جسے کوڑھ کی بیماری بھی کہتے ہیں کی وبا پھیلی ہوئی تھی جس سے ہزاروں ہلاکتیں ہو گئی تھیں۔ کوڑھ کی بیماری بہت خطرناک بیماری تھی، جس سے جسم گلنا شروع ہو کر ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگتا تھا۔ یہ اچھوت بیماری ہے جس کی وجہ سے اس بیماری کا شکار مریضوں کو ان کے اپنے پیارے گھروں سے دور ویرانے میں سسک سسک کر مرنے کے لیے چھوڑ آتے تھے۔ اور کسی طرح کچھ خوراک ان کے قریب رکھ آتے تھے لیکن لوگ اس بیماری کے خوف سے اپنے پیاروں سے دور رہنے پر مجبور تھے۔
کسی اللہ کے بندے نے پاکستان میں اس بیماری پر ایک ڈاکومنٹری فلم بنا دی اور یہ فلم ڈاکٹر روتھ نے بھی دیکھ لی اور دل ہی دل میں اس چیلنج کا سامنا کرنے کی ٹھان لی۔ ڈاکٹر روتھ کی تنظیم نے انہیں ایک مشن پر انڈیا بھیجنے کا فیصلہ کیا اور 8 مارچ 1960 میں انڈیا جاتے ہوئے وہ کراچی رکیں۔ ویزا کے مسئلے پر ان کو کراچی زیادہ رکنا پڑا تو انہیں یہاں جذام (کوڑھ) کے مریضوں کے بارے معلومات حاصل ہوئیں اور انہوں نے جذام کے مریضوں کی کالونی اس وقت کی میکلورڈ روڈ اور آج کی آئی آئی چندریگڑھ روڈ کا معائنہ کیا۔ اس علاقہ میں جو ریلوے لائین کے نواح میں واقع تھا سب لوگ اپنے مریضوں کو چھوڑ جاتے تھے جب ڈاکٹر روتھ نے ان مریضوں کے حالات دیکھے تو وہ بہت دکھی ہو گئیں اور ان کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور اس مقصد کے لئے کام شروع کر دیا۔ 1961 میں وہ انڈیا گئیں جہاں سے جذام کی بیماری کی روک تھام کی ٹریننگ حاصل کی اور واپس کراچی آکر اس بیماری کے خاتمے کا بیڑا اٹھایا۔ 1965 میں انہوں نے ایک پاکستانی ڈاکٹر زرینہ کے ساتھ مل کر پیرامیڈیکل ورکر کا ایک ٹریننگ گروپ تیار کیا۔ جب کراچی میں انہوں نے اس بیماری پر کنٹرول کر لیا تو پھر 1971 میں صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے تمام صوبوں بشمول آزادکشمیر کام شروع کر دیا اور ملک کے کونے کونے کا سفر کرکے جذام کے مریضوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کا علاج کرتی رہیں۔ کراچی میں ان کا پہلا کلینک ایک جھگی میں قائم کیا گیا تھا جو بعد میں ترقی کرتے کرتے بہت بڑے ہسپتال میں تبدیل ہوا اور کراچی کے مختلف علاقوں کے علاوہ سارے صوبوں میں بھی مراکز قائم کئے گئے۔
ڈاکٹر روتھ کی خدمات پر حکومت پاکستان نے انہیں 1979 میں جذام کے متعلق وفاقی حکومت کا مشیر مقرر کیا۔ ڈاکٹر روتھ کی خدمات اور کوششوں سے 1996 میں عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کو جذام کی بیماری سے پاک ملک تسلیم کر لیا تھا۔ ڈاکٹر روتھ نے میڈیکل ، جذام کی بیماری پر اور اپنے کام کے حوالے سے ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ کتب بھی لکھی ہیں۔ ڈاکٹر روتھ کو ان کی خدمات پر بہت سارے پاکستانی اور بین الاقوامی ایوراڈز سے بھی نوازا گیا جن میں: دی آرڈر آف دی کراس فرام جرمنی، ستارہ قائداعظم، ہلال امتیاز، دی کمانڈرز کراس آف دی آرڈر آف میرٹ وڈ سٹار فرام جرمنی، ہلال پاکستان، Damien-Dutton Award from USA, Osterreischische Albert Schweitzer Gasellschaft from Austria, Ramon Magsaysay Award from Govt. PHILIPINE, The Jinnah Award from Jinnah Socity Pakistan, Om the name of Allah Award from Idara-e-Waqar-e-adab Pakistan, Honorary Degree og Doctor from Agha Khan University, Marion Doenhoff-prize, Germany اور اس کے علاوہ بہت سے ایوارڈ شامل ہیں۔
ڈاکٹر روتھ نے اپنے مشن میں کامیابی حاصل کرنے پر اپنی ساری جوانی، اپنے سارے خواب (جو دنیا کی ہر لڑکی اپنی آنکھوں میں سجاتی ہے) اور اپنی ساری زندگی قربان کر دی۔ اپنے وطن سے دور اپنے عزیزوں سے جدا۔ بس ایک ہی لگن کہ غریب اور بے بس انسانوں کو ایک موزی بیماری سے نجات دلانی ہے اور ان انسانوں کا تعلق روتھ کےوطن سے نہ مذہب سے لیکن وہی بے بس انسان اس کی خدمت کے حقدار تھے۔ کیوں کہ ان مریضوں سے اپنوں نے منہ موڑ لیے تھے، ان کی حکومت ان کے لیے کچھ بھی نہیں کر رہی تھی۔ وہ اپنے ہی وطن میں بے آسرا تھے۔ ان کی سسکیاں جب آسمان کو چیر گئیں اور اللہ کی بارگاہ میں ان سسکیوں کا ایک شور اٹھا تو اللہ نے روتھ کی شکل میں ایک فرشتہ بھیج دیا جو اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد واپس اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہے اور سوال کر رہا ہے کہ اب میرا ٹھکانہ جنت ہے یا جہنم۔
یہ معاملہ تو اللہ ہی بہتر جانے کہ اس کا ٹھکانہ کہاں ہوگا۔ لیکن اب میں یہ فیصلہ اپنے اللہ پر چھوڑتے ہوئے کالم ختم کرتا ہوں۔