نیا چہرہ مگر چیلنج پرانا
- تحریر
- جمعہ 11 / اگست / 2017
- 3948
پاکستانی سیاست کے پاؤں میں مسلسل چکر ہے اور دل میں مستقل بے قراری۔ سفر میں ٹھہراؤ کی منزل آتی ہے نہ بے قراری کو قرار۔ کئی ماہ کی عدالتی کارروائی کے بعد جو فیصلہ آیا ، اس کے بعد ایک ٹھہراؤ اور قرار کی توقع تھی لیکن سیاسی حرکیات کا ایک نیا دائرہ شروع ہو گیا ہے ۔ نئے وزیراعظم اور کابینہ نے حلف اٹھایا تو کچھ احباب کو لگا کہ اب شاید کچھ روز سیاست سستانے کو ذرا دم لے لیکن میاں نواز شریف نے گھر واپسی کے لئے موٹر وے کی بجائے جی ٹی روڈ کے راستے کا انتخاب کیا تو یہ گمان بھی ہوا ہو گیا۔ جی ٹی روڈ کا عام سا سفر سیاسی قوت اور عوامی رابطے کی شکل اختیار کرگیا ۔ مخالفین برہم ہیں کہ یہ عدالتی فیصلے سے سرتابی ہے جبکہ حکومت اور مسلم لیگ ن کا اصرار ہے کہ گھر جانے کا کہا تھا، گھر ہی تو جا رہے ہیں۔
ایسے گرما گرم اور جوشیلے ماحول میں معیشت کے لئے ایک اچھی خبر یہ رہی کہ حکومت میں کئی چہروں کی تبدیلی کے بعد نئی کابینہ وجود میں آ چکی اور وزیر اعظم نے بجا طور پر دنیا اور ملکی سرمایہ کاروں کو پالیسیوں کے تسلسل کا پیغام دیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کا یہ فیصلہ کہ خاقان عباسی ہی مستقل وزیر اعظم رہیں گے بھی معیشت کے لئے ایک اعتماد افزاء پیغام ہے۔ سیاسی میدان کی ہیجان خیزی اپنی جگہ لیکن نازک معیشت کے لئے پالیسیوں میں تسلسل اور زیر تعمیر منصوبوں کی بروقت تکمیل ازحد ضروری ہیں۔ ان اقدامات سے سی پیک کے منصوبوں کے بارے اگر کوئی غبار کسی کے ذہن میں تھا تو دور ہو گیا ہوگا۔ کابینہ کی تشکیل میں خاموشی سے دو اقدامات نہایت اہم رونما ہوئے جن کے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں۔ پاور اور قدرتی وسائل کی وزارت کو ضم کرکے ایک نئی انرجی وزارت بنا دی گئی۔ اسی طرح ٹیکسٹائل کو ایک بار پھر کامرس کے ساتھ ضم کرکے ایک وزارت کے تحت کر دیا گیا۔
وزارت تجارت و ٹیکسٹائل کی ذمہ داری ملک پرویز کے حصے میں آئی۔ وفاقی وزیر تجارت ملک پرویز اس سے قبل قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے کامرس، پبلک اکاؤنٹس ، فنانس و ریونیو اور نج کاری کمیٹی کے ممبر رہے ہیں۔ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے بورڈ کے بھی ممبر رہے ۔ 2010 سے ممبر رکن قومی اسمبلی رہنے والے پرویز ملک کو امپورٹ اور ایکسپورٹ سیکٹر کے مسائل سے خوب شناسائی ہے، خود بھی کاروباری ہیں اور کاروباری کمیونٹی میں عرصے سے متحرک ہیں۔ ہمارا ان سے تعارف اسی سلسلے میں آج سے پچیس سال قبل ہوا۔ اس وقت وہ لاہور چیمبر اور ایپٹما میں سرگرم ہوتے تھے لیکن بعد میں سیاست میں ایسے داخل ہوئے کہ اسی کے ہو کر رہ گئے، مسلم لیگ ن کے لاہور کے صدر بھی ہیں۔ لاہور چیمبر کے ایک فلاحی ادارے کے بانی اور صدر رہے جو حادثات اور پیدائشی معذوری کے مریضوں کی بحالی کے لئے قائم ہے۔
اس اعتبار سے ان کے انتخاب سے کاروباری کمیونٹی کو بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ امید یہ ہے کہ وہ مسائل کو پہلے سے جانتے بوجھتے ہیں ، اس لئے انہیں ان کے حل اور اور فیصلہ کن اقدامات تک پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ پاکستان کی تاریخ میں گزشتہ سال تجارتی خسارہ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا یعنی 32.5 ارب ڈالر۔ درآمدات پچاس ارب ڈالر سے زائد اور برآمدات بیس ارب ڈالر کے لگ بھگ۔ حکومت نے جنوری میں ایکسپورٹ پیکج کا اعلان کیا جس کا کچھ مثبت اثر مالی سال کے آخری چند مہینوں میں دکھائی دیا۔ ایکسپورٹ پیکج میں جولائی کے بعد ریبیٹ کو ایکسپورٹ میں دس فی صد اضافے سے منسلک کر دیا گیا۔ نئے تجارتی سال کا ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باو جود ابھی تک وزارت خزانہ اور تجارت اس پیکیج کے رواں تجارتی سال کے لئے طریقہ کار اور ضوابط طے نہیں کر سکے۔ بطور وزیر تجارت پرویز ملک کو پہلا چیلنج یہی ہوگا کہ وزارت خزانہ سے کس طرح وہ اس پیکیج کے لئے حقیقت پسندانہ طریقہء کار منظور کروا سکتے ہیں، گزرنے والا ایک ایک دن پاکستان کی ایکسپورٹ پر بھاری گزر رہا ہے اور تجارتی خسارے کی ٹیڑھی بنیاد نئے تجارتی سال میں بھی اسی طرح رکھی جا رہی ہے۔
ماضی میں ایکسپورٹ کے فروغ کے لئے دو ٹیکسٹائل پالیسیاں وضع کی گئیں اور برآمدات کے لئے اسٹریٹجک پالیسیاں بھی بنائیں گئیں ۔ ان پالیسیوں کی خامیاں خوبیاں اور کاروباری طبقے کے مسائل اپنی جگہ لیکن ان پالیسیوں کے لئے مختص وسائل کبھی بھی وقت پر وزارت خزانہ سے دستیاب نہ ہوسکے۔ دونوں ٹیکسٹائل پالیسیوں میں پچیس ارب ڈالر کا ہدف رکھا گیا لیکن دونوں بار درکار وسائل بر وقت دستیاب نہ ہوئے۔ وزارت خزانہ پر سدا کا دباؤ رہتا ہے محصولات بڑھانے کا اور اخراجات کنٹرول کرنے کا۔ اخراجات پر کنٹرول تو کم ہی پایا لیکن محصولات میں ہونے والا اضافہ حکومتی مالیاتی شگافوں کو بھرنے میں کھپ جاتا رہا ۔ آئی ایم ایف کو سبھی با جماعت طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں لیکن بنیادی طور پر ہمیں اپنی اقتصادی مبادیات کو ٹھیک کئے بغیر بیرونی سہارے سے چھٹکارا نہیں مل سکتا۔ برآمدات بڑھانا اور درآمدات کو مناسب حدود و قیود میں لانا اس بیرونی سہارے سے چھٹکارے کا لازمی جزو ہے۔ نئی کابینہ کے پاس وقت کم ہے لیکن اس محدود وقت کو ہی بہت جانتے ہوئے اس تلخ اور مشکل حقیقت کا سامنا کرنا ہی اس کی کامیابی ہوگی۔
دیگرترقی یافتہ ممالک میں برآمدات میں اضافے کے لئے تمام تر کوششوں کے رجحان کے برعکس ہمارے ہاں برآمدات کا نہ تو کلچر فروغ پا سکا اور نہ حکومتی پالیسیاں بالعموم برآمدات دوست رہیں۔ بقول ایک ماہر معیشت ہمارے ہاں عملاٌ اینٹی برآمدات اور اینٹی مینوفیکچرنگ رجحان پایا جاتا ہے۔ انتہائی کم امپورٹ ٹیرف، دراّمدات کے لیے آسانیوں اور چین کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے کے بعد گزشتہ چند سالوں میں ٹریڈنگ ہی زیادہ پر کشش اور منافع بخش رہی۔ رہا ملک کا مینوفیکچرنگ کا شعبہ ، تو اس پر براہ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار اور انرجی کی گھٹتی بڑھتی انرجی سپلائی اور قیمتوں ، دھڑا دھڑ درآمدات و سمگلنگ نے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ دنیا بھر میں ٹیکسوں کی کم شرح سے کاروبار کو بھی زندہ رہنے دیا جاتا ہے اور ٹیکس نیٹ کو بھی آسانی سے پھیلایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے، سیلز ٹیکس کے لیے پہلا ہندسہ ہمارے پالیسی سازوں کو سولہ فی صد یاد ہے !
پاکستان کی برآمدات کا تناسب اس وقت کل جی ڈی پی میں فقط سات فی صد ہے جو 2000 میں پندرہ فی صد تھا۔ ویت نام کی برآمدات کا کل جی ڈی پی میں تناسب 90 فی صد ہے۔ کمبوڈیا میں 68 فی صد ہے۔ بھارت میں دو ہزار میں یہ تناسب تیرہ فی صد تھا جو اب بڑھ کر 23 فی صد ہو چکا ہے۔ انڈونیشیا اور سری لنکا میں یہ تناسب 21 فی صد ہے۔ بنگلہ دیش نے یہ تناسب بڑھا کر 17 فی صد کر لیا ہے۔ یہ صورت حال یک دن یا ایک سال میں پیدا نہیں ہوئی۔ ہمارے ہاں ایک کے بعد ایک حکومت کا سارا زور خزانے کو ڈنگ ٹپاؤ انداز میں بھرنے اور اپنا وقت گزارنے پر رہا ۔ جانے والے الزام پہلوں پر اور آنے والوں ان پر ڈال کر اپنی وقت گزاری کے جتن کرتے رہے۔ یوں دھیرے دھیرے برآمدات کا تناسب گرتے گرتے اس خوفناک حد تک گر گیا ہے۔
گزشتہ تین سالوں کے دوران تیل اور اجناس کی گرتی ہوئی قیمتوں نے عالمی مارکیٹوں میں طلب اور رسد کو بری طرح متاثر کیا ہے لیکن اعداد وشمار یہ بتاتے ہیں کہ برآمدات میں اضافے کے لیے دنیا کے ممالک میں مسلسل سخت مقابلہ ہے۔ 2000 کے بعد عالمی تجارت میں تقریباٌ تین گنا اضافہ ہوا۔ اس دوران بھارت کی برآمدات میں چھ گنا اضافہ ہوا۔ بنگلہ دیش کی برآمدات میں سات گنا اور ویت نام کی برآمدات میں گیارہ گنا ہوا۔ ترکی کی برآمدات میں کم اضافہ ہوا لیکن پھر بھی ساڑھے چار گنا اضافہ ہوا۔ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ بمشکل دو گنا ہو سکا۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس دوران دنیا کہاں کہاں سے جا پہنچی اور ہم کہاں کھڑے ہیں۔
ہماری کم ویلیو ایکسپورٹ اشیاء ، حکومتی تساہل اور پالیسیوں کے تضاد میں بہت وقت ضائع ہو چکا لیکن اس بچے کھچے وقت میں بھی یہ ضروری ہے کہ حکومت روپے کی شرح مبادلہ کو حقیقی لیول پر لائے، درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جائے، ایف ٹی اے کے نام پر سمگلنگ اور تجارتی خسارے کے راستے بند کئے جائیں اور ایکسپورٹ پیکیج کے بقیہ عرصے کے لئے طریقہء کار کو فوراٌ واضح کیا جائے۔ وزارت تجارت کے وزیر ضرور نئے ہیں لیکن چیلنج وہی پرانے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی مہارت ان مسائل کو قابو کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔