امریکہ کے سابق صدر نکسن کی کہانی
امریکہ کے صدر رچرڈ نکسن اپنی مقبولیت کے عروج پر تھے کہ ایک امریکی صحافی نے تہلکہ خیز خبر شائع کی کہ صدر نکسن کے احکامات پر اپوزیشن راہنماوں کے ٹیلی فون ٹیپ کئے جا رہے ہیں۔ اس خبر کا شائع ہونا تھا کہ امریکہ کی سیاست میں بھونچال آگیا۔
صدر نکسن نے خبر کی تردید کرتے ہوئے ایسے کسی بھی احکام کے دینے سے انکار کیا۔ بحران بڑھتا چلا گیا اور بالآخر ایک انکوائری کمیشن کے ذریعے تحقیقات شروع ہوگئی۔ جس کے نتیجے میں یہ ثابت ہوا کہ خبر درست ہے۔ اور صدر نکسن، اپوزیشن راہنماوں کے ٹیلی فون ٹیپ کرانے کے عمل میں ملوث تھے۔
صدر رچرڈ نکسن پھر آج ہی کے دن 1974 میں جھوٹ بولنے کے ثابت ہونے پر مستعفی ہوگئے،
پاکستان بھی ان دنوں ایک ایسے ہی بحران سے گزر رہا ہے۔ بعض حلقوں کی رائے ہے کہ 1973 کے آئین کی دفعہ 62-63 کو آئین سے حذف کر دینا چاہیے۔ سیاستدان تو جھوٹ بولتے ہی ہیں لہذا ان کے حلفی بیانوں کی بنا پر انہیں نا اہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن نکسن کا واقعہ بتاتا ہے کہ مغربی جمہوریت میں بھی جب حکمرانوں کا جھوٹ پکڑا جاتا ہے تو انہیں اخلاقی دباؤ کے پیش نظر مستعفی ہونا پڑتا ہے۔