70 برس کے جھوٹ اور سچ
- تحریر رضی الدین رضی
- اتوار 13 / اگست / 2017
- 4823
پاکستان کی 70ویں سالگرہ کے موقع پرجی چاہا کہ ایک کالم حکمرانوں کی زبان میں تحریر کیاجائے اوراس میں وہ تمام وعدے اوردعوے یک جا کردیئے جائیں جو قیام پاکستان کے بعد سے تسلسل کے ساتھ کئے جارہے ہیں۔ آج سے 20 برس قبل پاکستان کی گولڈن جوبلی بہت دھوم دھام کے ساتھ منائی گئی تھی۔ اس موقع پر ہم نے شاکر حسین شاکر کے ہمراہ پاکستان کی تاریخ پر ایک کتاب ترتیب دی اوراس میں14اگست 1947 سے 14اگست 1997 تک کے تمام واقعات تاریخ وار جمع کردیئے ۔
اس کام کے دوران جب ہم نے مختلف لائبریریوں میں ماضی کے اخبارات کو کنگھالا تو ہمیں محسوس ہوا کہ قیام پاکستان کے بعد تسلسل کے ساتھ ہرزمانے میں حکمرانوں، سیاستدانوں اور مختلف اداروں کی جانب سے ایک ہی جیسے بیانات جاری کئے جارہے ہیں اور ایک ہی جیسا جھوٹ بولا جارہاہے۔ یہ جھوٹ حکمرانوں نے بھی بولا اپوزیشن نے بھی ۔ مختلف ادارے اورمحکمے بھی اس جھوٹ میں اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ کچھ جملے ایسے ہیں جوپہلے روز سے تسلسل کے ساتھ ہمیں سننے کومل رہے ہیں۔ کچھ وعدے ایسے ہیں جو ہردورمیں کئے گئے مگر وفا نہ ہوسکے۔ اورکچھ الزامات ایسے ہیں کہ جومسلسل گزشتہ 70برس سے ایک دوسرے پرعائد کئے جارہے ہیں ۔ اخبارات، ریڈیواورٹی وی 70برس سے ایک ہی زبان بولتے دکھائی رہے ہیں اور سنائی دے رہے ہیں۔ ایک ہی آواز ہے جسے سن سن کر ہم اپنی سماعت پریقین کھوبیٹھے اور ایک ہی منظرہے جسے دیکھ دیکھ کر ہمارااپنی بصارت سے اعتماد ختم ہوگیا۔
بداعتمادی اور بے یقینی کا عالم یہ ہے کہ اب جب بھی عوام سے کوئی وعدہ کیا جاتاہے توانہیں اس پراعتبار نہیں آتا۔ جب بھی ہمیں کوئی بتاتا ہے کہ انتخابات شفاف اور غیرجانبدارانہ ہوں گے توہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی کامنصوبہ تیارکرلیا گیا ہے۔ اسی طرح جب یہ دعویٰ کیاجاتا ہے کہ تفتیشی اداروں نے قاتلوں کاسراغ لگا لیا توعوام کو ازخودمعلوم ہوجاتاہے کہ اس قتل کا اب کبھی سراغ نہیں مل سکے گا اوراس واردات کوبھی اس طویل فہرست کا حصہ بنالیا جائے گا جس میں پہلے بھی بہت سے اندھے قتل درج کیے جاچکے ہیں۔ بتانا صرف یہ ہے کہ حکمران اور ادارے اتنا جھوٹ بول چکے ہیں کہ عوام اب ان کے جھوٹ کے ذریعے سچ تک پہنچنے کے عادی ہوچکے ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ پرکام کرنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ وطن عزیز میں ایک ہی بات تسلسل کے ساتھ دہرائی جاتی رہی اور ایک ہی الزام مسلسل لگایا جاتا رہا۔ فرق بس اتنا ہے کہ ہردورمیں کردار تبدیل ہوتے رہے اورعوام مختلف کرداروں کی زبانی ایک ہی بات باربار سنتے رہے۔ ہم 70برسوں سے ایک ہی زمانے میں جی رہے ہیں اوراسے بے یقینی کا زمانہ سمجھتے ہیں۔ ہرنئے آنے والے نے ہرزمانے میں جانے والے پرایک ہی جیسے الزامات عائد کئے ۔ ہرسانحے کے بعد مجرموں کاسراغ لگانے کی بات کی گئی اور ہرمرتبہ ایک دوسرے کو غدارکہا گیا۔ محرم الحرام کی آمد ہو یا استقبال رمضان ، بجٹ ہو یا ٹیکسوں کی داستان، احتساب ہو یا کرپشن اورلوٹ مار کی کہانی ۔ ہمیں گزشتہ 70 برس سے سب کچھ ایک ہی جیسا دکھایا اور سنایا جارہاہ ے۔
اس کالم میں ہم نے گزشتہ 70برس کے دوران حکمرانوں کی جانب سے کی گئی مشق سخن کو یک جا کیا ہے اوراس مشق سخن کے مطالعے کے بعد آپ کو یہ بھی ادراک ہوجائے گا کہ عوام چکی کی مشقت کیسے کررہے ہیں۔ ہم نے صرف یہ دعوے اور وعدے یک جا کردیئے ہیں ، اب آپ ان کا مطالعہ کیجئے اورجوکچھ ان وعدوں اوردعوﺅں میں کہا گیا ہے سمجھ لیجئے کہ صورتحال اس کے برعکس ہی رہی ۔ آپ کو خودمعلوم ہوجائے گا کہ70برس بعد بھی ہمارے دشمن تبدیل نہیں ہوئے اورہمارے مسائل آج بھی وہی ہیں جوپہلے روز تھے ۔ لیجئے گزشتہ 70 برس کی جھلک ایک نظرحکمرانوں کی زبانی دیکھ لیجئے۔ ان برسوں کے دوران ہمیں یہ سب کچھ ہی بتایا گیا:
” کشمیرپاکستان کی شہ رگ ہے ۔ کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔ کشمیریوں کے حق خودارادیت کےلئے عالمی سطح پرآوازبلند کرتے رہیں گے ۔عالمی ادارے کشمیریوں کوان کا جائزحق دلائیں ۔ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی جائے گی ۔ ہمارا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے ۔ پاک سرزمین پرکوئی میلی نظرنہیں ڈال سکتا۔ رمضان المبارک کے دوران ناجائزمنافع خوری کی اجاز ت نہیں دی جائے گی۔ قیمتوں پرکنٹرول کے لئے کمیٹیاں قائم کردی گئیں ۔ محرم الحرام میں بھائی چارے اوررواداری کوفروغ دیاجائے گا۔ شرپسندوں کو امن خراب نہیں کرنے دیں گے ۔ فرقہ واریت پھیلانے والے علماء اور ذاکروں کو ضلع بدر کردیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائے گا ۔ دہشت گردوں کی کمرتوڑ دی ہے ۔ عوام کی جان ومال کا تحفط حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کسی کو بے گناہ افراد کا خون بہانے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ قاتلوں کو کیفرکردارتک پہنچایاجائے گا۔ مجرموں کے گرد گھیرا تنگ کردیا گیا ہے۔ کوئی قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکے گا۔عدلیہ آزادہے۔ لوگوں کو ان کی دہلیز پرانصاف فراہم کیاجائے گا۔
پارلیمنٹ کی بالادستی پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ عوام کے حق پرکسی کوڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے ۔ سابق حکمرانوں نے پاکستان کوتباہی کے دہانے پرپہنچا دیا۔ ہمیں خزانہ خالی ملا ہے ۔ ملک کوترقی کی راہ پرڈال دیا گیا ہے ۔ قوموں کی برادری میں پاکستان کو اب عزت کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے۔ لٹیروں سے ایک ایک پائی کاحساب لیں گے ۔کرپشن سے پاک معاشرہ تشکیل دیاجائے گا۔ ہمارادامن صاف ہے ۔ قومی خزانے کو عوام کی امانت سمجھتے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کاجال بچھا دیا ہے ۔ جتنی ترقی ہمارے دورمیں ہوئی ماضی میں اس کی نظیرنہیں ملتی ۔ ملک سے اندھیروں کاخاتمہ کردیاہے ۔عوام کوروزگارکے نئے مواقع فراہم کردیئے گئے ہیں۔ پاکستان کو قائداعظم اورعلامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیربنائیں گے ۔ ہمارے مخالفین ہنودویہود کے ایجنٹ ہیں ۔ غیرملکی آقاﺅں کے اشاروں پرکام کرنے والوں کو عوام مستردکردیں گے ۔ ہم آئین اورقانون کی بالادستی پریقین رکھتے ہیں۔ احتساب بلاتفریق ہوگا۔
عوام کے مسائل ترجیحی بنیادں پرحل کئے جارہے ہیں ۔عوام کی خدمت ہمارانصب العین ہے ۔ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بناناچاہتے ہیں۔ کوئی بھی قانون سے بالاترنہیں ۔ دہشت گردی میں غیرملکی ہاتھ ہوسکتا ہے ۔ کسی کو اپنے معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پاکستان کی آزادی اورخودمختاری پرکوئی آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ کسی عالمی طاقت کے آلہ کارنہیں بنیں گے ۔ ہم اپنے فیصلے خودکرتے ہیں ۔ خواتین کومعاشرے میں ان کا جائزمقام دلایاجائے گا۔عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین ختم کردیئے گئے ہیں ۔ اقلیتوں کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے ۔عبادت گاہوں کاتحفظ کیاجائے گا۔ بھارت اقلیتوں پربہت ظلم ڈھارہاہے ۔ بھارت کاسیکولرچہرہ بے نقاب ہوگیا۔ تحقیقاتی کمیشن قائم کردیا گیا ہے ۔ سازش کے اصل کرداروں کاسراغ مل گیا ہے کمیشن کی رپورٹ منظرعام پرلائی جائے گی ۔ وقت آنے پرعوام کو حقائق سے آگاہ کردیں گے ۔ آمریت کاراستہ ہمیشہ کے لئے روک دیاگیاہے۔
تمام فیصلے میرٹ پرکئے جاتے ہیں ۔ کوئی سفارش یادباﺅ خاطرمیں نہیں لائیں گے ۔ ہمیں دھمکیوں سے کوئی مرعوب نہیں کرسکتا۔ عوام توڑپھوڑکی سیاست سے تنگ آچکے ہیں۔ اپوزیشن پاکستان کونقصان پہنچاناچاہتی ہے۔ کسی کے اشارے پرجمہوریت کے خلاف سازش کی جارہی ہے۔ ہم اپنے بچوں کومحفوظ پاکستان دیناچاہتے ہیں ۔ ہم عوام میں سے ہیں اورغریبوں کے دکھوں کو جانتے ہیں ۔عوام کو بااختیاربنادیا گیا ہے ۔عوامی سیلاب کے سامنے کوئی نہیں ٹھہرسکتا۔ ہم صرف عوام کی طاقت پربھروسہ رکھتے ہیں۔ منتخب نمائندے عوام کے خادم ہیں۔ پہلی بار پرامن انتقال اقتدارعمل میں آیا۔ جمہوریت مستحکم ہوگئی ہے ۔ کوئی منی بجٹ نہیں آئے گا۔ عوام دوست بجٹ لارہے ہیں ۔ ہم نے بجٹ میں کوئی نیاٹیکس نہیں لگایا۔ ٹیکسوں کادائرہ وسیع کررہے ہیں ۔ فرائض میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ملاوٹ مافیا کے خلاف کاروائی بلاتفریق ہوگی ۔
سرکاری اراضی واگزارکرائی جائے گی ۔ تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن ہوگا۔ ریلوے خسارے میں ہے ۔ منافع بخش صنعتیں فروخت نہیں کی جائیں گی ۔ حکمران دھاندلی کے نتیجے میں برسراقتدارآئے ہیں ۔ اپوزیشن عوامی مینڈیٹ کی توہین کررہی ہے ۔ الحمد اللہ جہیز کی لعنت ختم ہوگئی ہے ۔ ‘‘
(بشکریہ: گرد و پیش ۔ ملتان)