اگر قائداعظم لوٹ آئیں ۔ ۔ ۔

  • تحریر
  • اتوار 13 / اگست / 2017
  • 3882

بانئ پاکستان محمد علی جناح اگر وطن عزیز میں لوٹ آئیں تو سب سے پہلے اس مخمصے یا کشمکش کا شکار ہو جائیں گے کہ وہ جغرافیائی طور پر کون سے پاکستان کے قائداعظم ہیں۔ مغربی پاکستان کے یا مشرقی پاکستان ( موجودہ بنگلہ دیش) کے۔  کیونکہ جس پاکستان کو ہم " اے قائد اعظم ترا احسان ہے احسان" مانتے ہیں اسے مغربی یعنی موجودہ پاکستان کے حساس و نیم حساس اداروں، غیر حساس سیاستدانوں، اور مطالعہ پاکستان اور سرکاری تاریخ کے بیانئیے کے مطابق، مکار و عیار ہندو بنیے اور عالمی استعمار کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں دولخت کیا گیا۔

ہاں جناح صاحب کو ایک آسانی بہرحال میسر ہوگی کہ پاکستان کے قیام کی تاریخ کے حوالے سےعلمی و تعلیمی حلقوں میں تواختلاف موجود ہو سکتا  ہے کہ آزادئ عظیم 14 اگست 1947 کو نصیب ہوئی یا 15 اگست 1947 کو، لیکن سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے دو روایتی حریفوں یعنی پاکستان اور ہندوستان میں بھی، ہمراہ تمام تر اداروں کے یہ اتفاق موجود ہے کہ یہ سانحہ 16دسمبر 1971 کو ہی رونما ہؤا تھا۔ البتہ اس اندوہناک انکشاف کے بعد  مسٹر جناح کیا ردعمل دیں گے، اس بارے میں کسی طرح کی قیاس آرائی بہرحال قبل ازوقت ہے۔

جناح صاحب کو درپیش دوسرا بڑاچیلنج  پاکستانی سیاست کی نرسری میں لگی مسلم لیگی پنیری سے ہو گا۔  ہر آمرانہ اور نیم جمہوری دور میں اگی مسلم لیگوں میں سے اپنی اصل مسلم لیگ کو تلاش کرنا اور اس کی باگ ڈور سنبھالنا، جناح جیسے عظیم رہنما کے لئے بھی اتنا بڑا چیلنج ہی ہوگا کہ جتنا دومختلف رنگوں کے پانی کو آپس میں حل کرکے پھر سے الگ کرنے کی سعی کرنا۔  اگر  اس کار ناتمام کے بعد  جناح کو سنبھلنے کا موقع ملا تو اس بات کی کوئی ضمانت بھلا کیسے دی جا سکتی  ہے کہ زمام کار ان کے ہاتھ میں ہی رہےگی۔ کیونکہ انہیں تو برصغیری قسم کی جمہوریت کے تقاضے پورے کرنے کے لئےایک دریا عبور کرنے کے بود ایک اور دریا کا سامنا کرنے جیسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خاص طور اس صورت میں کہ نہ تو ان کے ہاں اولاد نرینہ جیسی نعمت غیر مترقبہ اور نہ ہی "وہ زرائع" ہوں گے جو پانامی سیاست کا مقابلہ کرنے کےلئے ناگزیر ہیں۔

یہ بات بھی غور طلب ہے کہ کابینہ کے اجلاس تک کے اخراجات میں احتیاط برتنے والا لیڈر اور اپنی  تنخواہ ایک روپیہ مقرر کرنے والا گورنر جنرل، جس کی وکالت کی ایک کیس کی فیس کم از کم 1500 روپے تھی، وہ بین الاقوامی سطح پر  کاروبار کرنے والے سیاسی خاندانوں ، مے فئیر فلیٹس  اور سرے محل جیسی پر شکوہ رہائش رکھنے والے آج کے سیاستدانوں  کے سیاسی داؤ پیچ کا توڑ کس صورت نکالے گا۔ جناح صاحب نے ایک ایسٹ انڈیا کمپنی کا مقابلہ تو بھر پور کیا تھا ، پر اس ملک کی درجنوں ایسٹ انڈیا کمپنیوں کو دیس نکالا دینے کے لئے شاید انہیں پہلے اپنا بیمہ کرانا پڑے گا کہ یہاں سیاست اور  اصول متصادم ہو چکے ہیں۔

ایک اور اہم چیلنج جو جناح کو درپیش ہو سکتا ہے وہ گیارہ اگست 1947 کی اپنی شہرہ آفاق تقریر کو آرکائیوز میں تلاش کرکے زمہ داران ریاست اور ارباب بست و کشاد کو یہ یقین دلانا ہے کہ آزادی کے بعد ان کا نظریہ پاکستان کیا تھا۔ جناح صاحب ہی بتا سکتے ہیں کہ جب انہوں نے اپنی اپنی مسجدوں، مندروں اور کلیساؤں میں آزادی کے ساتھ جانے کی بات کی تھی تو کیا وہ پالیسی بیان تھا یا کہ سیاسی بیان۔ نیز یہ بھی وہی بتا سکتے ہیں کہ جو ملک نما لیبارٹری یا لیبارٹری نما ملک کا بیان ان سے منسوب کیا جاتا ہے اس کا پس منظر کیا تھا۔ عین ممکن ہے کہ پاکستان کےسیٹھ میڈیا کے "آزاد" نمائندے اسی تقریر کی بنیاد پر ان سے کچھ متفرق سوالات کی بوچھاڑ بھی کردیں اور  انہیں مولوی یا مسٹر کا خطاب بھی دے ڈالیں۔  

یقین کامل ہے کہ جناح  صاحب ان دونوں خطابات کو پاکستان کے معروضی حالات کی روشنی میں پرکھتے ہوئے مسترد کر دیں گے۔ کیونکہ اگر وہ مولوی بنتے ہیں تو لبرلز انہیں  تختۂ مشق بنا سکتے ہیں اور مسٹر ہونے کی صورت میں تو ازسرنو فتوی بازی کی زنبیل کھلتے دیر نہیں لگے گی۔ جناح صاحب  آپ جہاں بھی رہیں، خوش و خرم رہیں۔