دہشت گردی پر قابو کیونکر ممکن ہے!

ملک میں اگرچہ دہشت گردی پر قابو پایا جاچکا ہے لیکن ابھی اس پر مکمل قابو نہیں پایا گیا اور جب تک دہشت گردی کی جڑکا خاتمہ نہیں کیا جاتا ، اُس وقت تک یہ مسئلہ عوام الناس کو خون کے آنسو رُلاتا رہے گا۔ قیامِ پاکستان کا پُرجوش خیر مقدم کرتے وقت ٹائن بی نے ہمیں فرقہ واریت کے فتنہ سے خبردار کرنا ضروری سمجھا تھا ۔ فرقہ وارانہ مذہبی جنون کو پاکستان کے استحکام اور بقاء کے لیے زہرِ قاتل قرار دیتے وقت فلسفۂ تاریخ کے اس نامور شناور نے کتنا درست اور کیسا بروقت انتباہ کیا تھا مگر افسوس کہ ہمارے دینی اور سیاسی قائدین نے آج تک اس بیان کی دُوررس معنویت پر غور کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

وہ لکھتاہے:’’اسلام سے وفا کا مشترکہ عہد ہی وہ ناقابلِ تسخیر قوت ہے جس نے اسلامیانِ پاکستان کو باہم متحد کررکھا ہے ۔ مگر اب میں ایک متنازع بات چھیڑ رہا ہوں اور وہ یہ کہ اگر کبھی پاکستان کو ایک متعصب اور ناروا دارمسلمان ریاست بنانے کی کوشش کی گئی تو پاکستان تباہی کے راستے پر گامزن ہوجائے گا۔ ہر چند اس وقت پاکستان نسلی اور لسانی اختلافات کو مٹا کر اسلام کے پرچم تلے متحد ہے مگر یکسانیت کے نام پر مذہبی فرقہ آرائی کو ہوا دینے سے پاکستان اسلام ہی کے نام پر ٹوٹ جائے گا۔ پاکستان میں اسلام کسی ایک فرقہ کے پیروکاروں تک محدود نہیں ہے ۔ ان تمام فرقوں کو مل جل کر دوستوں کی مانند زندہ رہنا ہے۔ اگر پاکستانی اخوت و مساوات کی اس منزل کو پالیں گے تو یہ ایک ایسا انوکھا روحانی تجربہ بن جائے گا جو نہ صرف پاکستان بلکہ ساری کی ساری دُنیا ئے انسانیت کی ترقی اور سربلندی کی نوید بن جائے گا‘‘

طلوعِ پاکستان کے فوراًبعد 1948 منظرِ عام پر آنے والی اپنی کتاب میں آرنلڈ ٹائن بی اسلام کی حقیقی انقلابی روح کے بروئے کار آنے کے امکانات سے لرزہ براندام نظر آتے ہیں اور اپنی تشویش کو یوں زبان دیتے ہیں :’’ہر چند پان اسلام ازم محوخواب ہے تاہم اس حقیقت کو کبھی فراموش نہ کرنا چاہیے کہ سونے والا بیدار بھی ہو سکتا ہے ۔ اگر مغربی علوم میں تربیت یافتہ مسلمانوں نے مغربی بالادستی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کردی اور مغرب مخالف جدید قیادت کے پیچھے صف بستہ ہو گئے تو پھر انقلابی اسلام نیند کو جھٹک کر بیدار ہوجائے گا اور ایک مربتہ پھر دنیا میں اپنا تاریخی کردار سرانجام دینے لگے گا۔ یہ صورتِ حال دُنیائے مغرب کے لیے انتہائی سنگین ہو جائے گی‘‘

پروفیسر ٹائن بی کو اس امر پر اطمینان تھا کہ اسلام کی حقیقی روح ابھی تک سورہی ہے ، مگر ساتھ ہی ساتھ انہیں اس امکان پر تشویش بھی تھی کہ اگر اسلام کی حرکی روح جاگ اُٹھی تو پھر دنیا پر مغربی بالادستی کا مستقبل تاریک ہو کر رہ جائے گا۔ اس ضمن میں انہیں سے بڑا خطرہ اسلام کی انقلابی روح کے متلاشی جدید مسلمان سے تھا۔ ان کی نظر میں اس خطرے کا تدارک قدامت پرستی ، تقلید پسندی اور جدت بیزاری کے رجحانات کو ہوا دینے اور صوفی و ملا کو اس جدید مسلمان کے خلاف صف آرا  کرنے دینے ممکن ہے ۔ چنانچہ فرقہ وارانہ تصادم سے مسلمان کو اتفاق کی شاہراہ سے ہٹا کر نفاق کی اندھی گلیوں میں بھٹکا دینا اسی اندرونی صف آرائی کی ایک بھیانک شکل ہے ۔

اسی طرح فلسفۂ تاریخ کے اور محقق برنارڈلیوس نے لکھا: ’’ہر چند اسلام ایک توانا سیاسی قوت ہے تاہم یہ قوت ابھی تک بے سمت ہے ۔ اسلامی اتحاد کے نصب العین کو عملی جامہ پہنانے کی متعدد مساعی عمل میں لائی گئی ہیں ۔ مگر ان میں سے ہر ایک کوشش کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے ۔ ناکامی کی سب سے بڑی وجہ انقلابی قیادت کا فقدان ہے ۔ تمام اسلامی ممالک میں عوام ایسی قیادت کے ظہور کے خواب دیکھ رہے ہیں ۔ ڈریں اُس وقت سے جب ایسی قیادت سامنے آجائے گی‘‘

حقیقی اسلامی نظام کے نفاذ کے امکانات کے خلاف تمام تر پیش بندیوں کی کامیابی کا دارومدار فرقہ واریت کے فروغ اور استحکام پر ہے ۔ مغربی دُنیا کی حکمتِ عملی یہ رہی ہے کہ مسلمان اسلام کی حقیقی آفاقی روح کو فراموش کرکے دورِ ملوکیت میں پیدا ہونے اور پنپنے والے مذاہب فقہ کی تقلید کی خُو میں راسخ ہو کر خود کو باہم متحارب مذہبی گروہ بندیوں میں تقسیم کئے رکھیں ۔ آئین پیغمبر یا شرع پیغمبر کے نفاذ کا مطالبہ کرنے کی بجائے وہ اپنے اپنے امام مجتہد کی تعبیر و تفسیر کے نفاذ کے مطالبہ پر ڈٹ کر ایسی صورتِ حال پیدا کردیں جس میں کوئی ایک نظام فقہ بھی نافذ نہ ہوسکے۔ مسلمانوں کی غلامی اور ذلت اور مغربی دنیا کے عروج اور بالادستی کے دوعالمی نظام یکے بعد دیگرے رفت گزشت ہوئے ۔

آج سے ایک سو سال پیشتر علامہ اقبال نے اپنے مشہور انگریزی خطبہ بعنوان ’’اسلام بہ حیثیت ایک اخلاقی اور سیاسی مسلک ‘‘ میں ہمیں فرقہ آرائی کے خطرات سے خبردار کیا تھا ۔ اپنے اس مقالہ میں انہوں نے اسلام کے روحانی دائمی صداقت پر عہدِ جدید کے تقاضوں کی روشنی میں فلسفیانہ بحث کی ہے ۔ زندگی کے روحانی اور سیاسی ہر دو دائروں میں آزادی و جمہوریت اور اخوت و مساوات کے اصول و اقدار کی کارفرمائی کو مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا امتیازی نشان ثابت کرنے کے بعد اپنے مقالہ کی آخری ایسا سوال اُٹھا یا تھا جو آج بھی ہم سے جواب طلب ہے ۔ وہ پوچھتے ہیں : ’’کیا ہم مسلمان اپنی سوشل اکانومی میں ان اصول و اقدار پر صدقِ دل کے ساتھ عمل پیرا ہیں ؟ کیا اس سرزمین پر اسلام کا بنیادی اتحاد قائم ہے؟ مذہبی طالع آزماؤں نے مختلف فرقے اور برادریاں قائم کر لیں ہیں جو ہر وقت ایک دوسرے سے برسرِ پیکار رہتی ہیں ۔ میں مذہبی اور معاشرتی فرقہ واریت کے لعنتی نظام کی مذمت کرتا ہوں ۔ میں خدا کے نام پر اس کی مذمت کرتا ہوں ۔ خدا کا آخری پیغام انسانیت کی آزادی اور مساوات کا پیغام ہے ۔ اسلام ناقابلِ تقسیم ہے ۔ اسلام میں وہابی شیعہ سنی وغیرہ کا کوئی جواز نہیں ہے‘‘

دہشت گردی نے جس طرح ہماری کمر توڑ کر رکھ دی ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ  متحد ہو کر اس پر قابو پایا جائے۔ ہمیں کسی تقسیم میں نہیں پڑنا ہوگا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے فرقہ واریت سے گریز ازحد ضروری ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے اسلامی تعلیمات کو اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی کا رہبرو رہنما بنانے کے فریضہ سے مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا ہے۔ حریت و مساوات اور محبت و اخوت کا مرکز انسان کا دل ہے تاہم اس کے عملی ظہور کے لئے انسانی برابری کے اصول و اقدار کو طاقت ور ریاستی اداروں میں ڈھالے بغیر ناممکن ہے۔ ہماری حکومت کے مسائل ہی اور ہیں ۔ وہ خود پانامہ کیس میں اُلجھی ہوئی ہے ۔ کوئٹہ کے بے گناہ لوگ جس میں پولیس کے اہلکار بھی ہیں ، پاراچنار کے معصوم لوگوں پر قیامت ٹوٹ چکی ہے اور حکمران محض مذمتی بیان جاری کئے جارہے ہیں ۔ وہ دہشت گردی کی جڑوں تک کیسے پہنچیں گے۔