نواز شریف کا نیا پاکستان
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 14 / اگست / 2017
- 4375
پاکستان کی سیاست عمومی طور پر تضادات اور فکری مغالطوں پر استوار ہے ۔ ایک فکر اقتدار میں شامل لوگوں کی ہوتی ہے اور دوسری فکر ہمیں حزب اختلاف کی صورت میں نظر آتی ہے ۔ اقتدار اور حزب اختلاف کا سیاسی ایجنڈا ایک دوسرے سے متصادم ہوتا ہے ۔ اقتدار کے کھیل میں قومی معاملات، مفادات سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات پر مبنی اقتدار کی سیاست کو مضبوط بنایا جاتا ہے۔ جبکہ حزب اختلاف سیاسی انقلابی نعرے اور خوشنما باتوں کے ساتھ عوام کا دل لبھاتی ہے۔ تضادات پرمبنی سیاست میں سب سے زیادہ استحصال عام اور کمزور آدمی کا ہوتا ہے۔
نواز شریف خوش قسمت ہیں کہ وہ تین بار اس ملک کے وزیر اعظم اور دو بار وزیر اعلی پنجاب منتخب ہوئے۔ پاکستان کی جمہوری سیاست میں یہ اعزاز کسی اور کے پاس نہیں ۔ لیکن بدقسمتی سے وہ بطور وزیر اعظم اپنے تینوں ادوار میں اقتدار کی مدت پوری کئے بغیر رخصت کئے گئے ۔ ان کے بقول پہلی بار صدر، دوسری بار فوج اور تیسری بار ان کو عدلیہ کی مدد سے انہیں اقتدار سے الگ کیا گیا ۔ وہ اس کھیل کو پاکستان کی اسٹیبلیشمنٹ کا ایجنڈا قرار دیتے ہیں۔ جو جمہوری سیاست اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف ہے ۔ سپریم کورٹ سے اپنی نااہلی کو بھی وہ اسی کھیل سے جوڑ کر جی ٹی روڈ کی عوامی عدالت میں اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف اپنا مقدمہ پیش کررہے ہیں ۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے سپریم کورٹ سے اپنی نااہلی کو عملی طور پر قبول نہیں کیا۔ وہ اس مقدمہ کو بنیاد بنا کر ایک نئی مزاحمتی تحریک اور ایک نئے سیاسی ایجنڈے کے ساتھ مستقبل کی سیاست کا نقشہ کھینچ رہے ہیں ۔ ان کے بقول اول ہمیں پارلیمنٹ ، جمہوریت ، عوامی حاکمیت، ووٹ کی طاقت، آئین کی بالادستی سمیت حق حاکمیت کی بڑی جنگ لڑنی ہوگی ۔ دوئم اب وقت آگیا ہے کہ جمہوری قوتوں کی مدد سے اسٹیبلیشمنٹ کے اس کھیل کے خلاف حتمی جدوجہد کی جائے۔ سوئم موجودہ نظام جمہوریت کے خلاف سازش ہے اور ہمیں اس کے خلاف منظم ہوکر کھڑا ہونا ہوگا۔ چہارم پس پردہ طاقتیں (اس سے مراد اسٹیبلیشمنٹ اور عدلیہ ہے) سن لیں ’’ فیصلہ نامنظورقوم کی آواز سن لو‘‘ ۔ پنجم یہاں ڈکٹیٹر آئین توڑتے ہیں اور عدلیہ کے ججز انہیں قانونی تحفظ دیتے ہیں ۔ ششم اب اس ایجنڈے کو بنیاد بنا کر میں باہر نکل آیا ہوں اور اس نظام کو بدلے بغیر چین سے نہیں بیٹھوں گا۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اقتدار میں موجود سیاست دانوں کو یہ تما م مسائل اسی وقت کیوں یاد آتے ہیں جب وہ یا تو اقتدار سے باہر آتے ہیں یا ان کے بقول ان کو نکال دیا جاتا ہے۔ جن مسائل کی نشاہدہی نواز شریف کررہے ہیں، ان ہی مسائل کو بنیاد بنا کر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے میثاق جمہوریت کے معاہدے پر دستخط کئے اور جدوجہد کا اعلان کیا تھا۔ لیکن پچھلے پانچ برسوں میں پیپلز پارٹی اور چار برسوں میں مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں نے یہ معاملات حل کرنے میں کوئی پیش رفت نہیں کی ۔ پارلیمنٹ کی بالادستی ، قانون کی حکمرانی اورعوام کی حاکمیت آسان الفاظ ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کرنا کیوں مشکل بن گیا ہے ۔ نواز شریف اور ان کے حامی دانشوردیانت داری سے اس امر کا جائزہ لیں کہ ان کا اقتدار میں جمہوری طرز عمل کیا تھا۔ پارلیمنٹ سے مسلسل غیر حاضری اور اسے اہمیت نہ دینا، پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لینا اور باہر فیصلہ کرنا ، کابینہ کے اجلاس نہ بلانا ، کچن کیبنٹ کی تشکیل ، پارلیمانی کمیٹیوں کی اہمیت کو نظر انداز کرنا اور ان کو بے اختیار کرنا، وزارتوں کے بارے میں عدم دلچسپی، پارلیمانی پارٹی کے لوگوں کو نظر انداز کرنا ، اداروں کو کمزور کرنا ، مقامی نظام حکومت سے انحراف کرنا ، عوامی حاکمیت کے مقابلے میں ذاتی اور خاندانی سیاست ، عوامی مفادات کے برعکس پالیسیاں ، احتساب اور شفافیت پر سمجھوتے کی سیاست ، اہم انتظامی او ر ریاستی اداروں میں پسند و ناپسند کی بنیاد پر تقرریوں اور بالخصوص سول ملٹری تعلقات جیسے سنگین مسائل شامل ہیں ۔
نواز شریف کی طرف سے اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف اور عوامی حاکمیت کے لیے جنگ لڑنے کی بات واقعی اہم ہے ۔ لیکن یہ جنگ کون لڑے گا۔ اس کا جواب یہی ہوگا کہ جو لڑے گا وہ تضادات پر مبنی سیاست سے مختلف ہوگا ۔ پاکستان میں اسٹیبلیشمنٹ ایک طاقت ور ادارے کے طور پر موجود ہے ۔ اس طاقت کا مقابلہ ایک مضبوط سیاسی نظام ، سیاسی جماعتیں ، صاف اور شفاف قیادت سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ ہم اقتدار کے حصول کے لیے اسٹیبلیشمنٹ کا سہارا لیتے ہیں اور اسی ادارے سے ٹکراؤ کی پالیسی بھی اختیار کرتے ہیں ۔ پاکستان کی اسٹیبلیشمنٹ کے لاتعداد مسائل ہیں لیکن اس کا علاج کسی بھی طور پر غیر جمہوری سیاست ، طرز عمل یا ذاتی مفادات پر مبنی سیاست نہیں ہوسکتی- اس کو تبدیل کرنا ہوگا۔
جب ہماری سیاست لوگوں کو مضبوط بنانے کی بجائے محض اپنی طاقت کے حصول کا زریعہ بن جائے تو پھر حکمرانوں اور عوام کے درمیان بداعتمادی کی خلیج پیدا ہوتی ہے ۔ جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اب نواز شریف نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے ، یہی بات میثاق جمہوریت کے تناظر میں کہی گئی تھی۔ لیکن عملی نتیجہ یہ نکلا کے نواز شریف نظام کو بنانے یا اسے مضبوط بنانے کی بجائے اپنی ذات اور خاندان کی سیاست تک محدود ہوکر رہ گئے ۔ اب وہ جو انقلابی باتیں کررہے ہیں تو ان کی باتوں اور ماضی کے تجربات کی بنیاد پر لوگ ان پر کم یقین کرتے ہیں ۔
یہ مغالطہ بھی موجود ہے کہ واقعی اس نااہلی کے بعد نواز شریف واقعی جمہوریت کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں یا ان کے سامنے اس وقت بھی عملی طور پر جمہوریت ایک ہتھیار ہے ۔ وہ جمہوریت کو ڈھال بنا کر اپنی ذاتی سیاسی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں ۔ اس وقت ان کے سامنے میں تین بڑے چیلنجز ہیں ۔ اول وہ کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات کی جنگ کو اپنے خلاف اسٹیبلیشمنٹ کے سازشی کھیل کے ساتھ جوڑ کر اپنا اور اپنے خاندان کا دفاع کریں۔ دوئم وہ اس جماعت اور ان کے ساتھیوں کو اپنے اور اپنے خاندان تک محدود رکھیں اور یہ باور کروائیں کہ وہ نااہلی کے باوجود ایک بڑی سیاسی حقیقت ہیں اور لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ سوئم وہ اپنے خلاف چلنے والے نیب عدالتوں کے معاملات پر ایک بڑے دباؤ کی سیاست کی مدد سے بچنا چاہتے ہیں۔ یا کوئی نیا ایسا سمجھوتہ جو ان کو ان مسائل سے نکلنے کا محفوظ راستہ فراہم کرسکے ۔ چہارم وہ چاہتے ہیں کہ ان کی پارٹی اور ووٹر 2018 تک کے انتخابات تک ان کی قیادت میں متحد رہیں۔ چاہے وہ براہ راست قیادت نہ کریں اور یہ کام وہ اپنی اہلیہ کلثوم نواز یا بھائی شہباز شریف سے کروائیں۔ لیکن طاقت کا مرکز اپنی ذات کو ہی رکھ کر اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑیں ۔ لیکن نواز شریف کے لب ولہجہ میں تلخی اور غصہ ابھر کر سامنے آرہا ہے وہ خود ان کی موجودہ حکومت اور پارٹی کے لیے بھی خطرہ ہے ۔ کیونکہ مزاحمتی سیاست میں ان کے اپنے اندر موجود بہت سے لوگ ان کے ساتھ نہیں ہوں گے اور وہ اس ٹکراؤ کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں ۔
چیئرمین سینٹ نے یہ جو بیان دیا ہے کہ ادارہ جاتی عمل کو مضبوط بنانے کے لیے وزیر اعظم ، فوج ، بیوروکریسی اور چیف جسٹس ایک میز پر بیٹھ کر معاملات کو حل کریں۔ یعنی ایک نیا عمرانی معاہدہ ہو۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جو کام نہایت سنجیدہ نوعیت کا ہے اور جو ایک مضبوط اور بااثر مکالمہ کی صورت میں ہی ہوسکتا ہے ، وہ محاز آرائی اور بداعتمادی کے درمیان پھنس کر رہ گیا ہے ۔ نواز شریف اس جنگ کو اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی پر آگے بڑھانا چاہتے ہیں ، جو خطرناک کھیل ہے ۔ اس وقت نواز شریف کی جماعت ہی کی حکومت ہے۔ وہ اپنے نامزد کردہ وزیر اعظم کو بااختیار بنائیں کہ وہ ان آئینی ، قانونی اور سیاسی اصلاحات کی طرف پیش قدمی کریں۔ لیکن اگر نواز شریف ایک کٹھ پتلی وزیر اعظم کے ساتھ اس کھیل کو ایک بڑی جنگ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو یہ ممکن نہیں۔ بلکہ اور زیادہ سیاسی انتشار اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوگی۔