پاکستان کو آج تک تاریخی بنیاد نہیں مل سکی

میں یہاں ایمسٹرڈیم میں بیٹھ کر پاکستان کے یوم آزادی کے حوالے سے اپنے اور اپنے اردگرد یورپ میں آ بسنے والے ہم وطنوں کے خیالات اور تاثرات جاننا چاہوں گا کہ میں تاریکی میں گم شدہ ایک ایسا فرد ہوں جو تاریک بھول بھلیوں میں شاید 70 برسوں سے اپنی راہ تلاش کر رہا ہوں۔ مگر ہوتا یوں ہے کہ ڈور کا سرا ہی نہیں ملتا۔ میں گزشتہ کئی برسوں سے خواب دیکھ رہا ہوں۔ ایک ہی خواب اور وہ خواب بھی نیند کے گھیرے میں ہے اور وطن عزیز کی فضا ہے کہ لاقانونیت کے بوجھ تلے سیاہی میں اور سیاہ ہوتی چلی جا رہی ہے اور میں اس دن کا منتظر ہوں جب کوئی ہاتھ دیئے کی لو بڑھائے گا اور چار سو روشنی پھیلے گی، مقدروں، نصیبوں اور فیصلوں کی روشنی جو وعدوں اور اعلانوں کی مدہم روشنی پر چھا جائے گی۔

ہمیں آزاد ہوئے 70 برس ہو گئے ہیں۔ لیکن بنیادی سوالات ابھی تک معمہ بنے ہوئے ہیں مثلاً یہ کہ اس آزادی کی نوعیت کیا ہے۔ اس کے اہداف و مقاصد کیا ہیں۔ یہ آزادی کس نے کس سے حاصل کی ہے۔ کون آزاد ہوا ہے۔ وہ کیسی اور کیا آزادی ہے جسے قائم رکھنے میں ہم مرے جا رہے ہیں۔ اس آزادی کا منشور کہاں اور کس نے تیار کیا ہے۔ اس کی حکمت عملی کیا ہے۔ اس آزادی کا فیصلہ کس نے کیا اور کس نے نہیں کیا تھا۔ کیا دنیا اسے بھی آزادی کہتی ہے جو ہمارے نزدیک آزادی ہے۔ اس آزادی نے اب تک کون کون سے قلعے سر کئے اور کون کون سے مقاصد کھوئے۔ اس آزادی نے عوام کے دلوں میں ایمان و یقین و اخوت و بھائی چارا کی کتنی شمعیں روشن کیں۔ یہ آزادی برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ان کی سلامتی و استحکام کیلئے کتنی سودمند ثابت ہوئی یا ہو رہی ہے۔ اور یہ کہ اس ”آزاد عوام“ کی باگ ڈور کن ہاتھوں میں ہے۔

گزشتہ برس انہی دنوں کی بات ہے کہ میں انڈیا آفس لائبریری لندن میں تھا۔ وہاں پر پاکستان کے کل اور آج کے بارے میں بہت سی کتابیں رکھی ہیں۔ اگر آپ تاریخ کے اوراق پلٹنا چاہیں تو نہ صرف تاریخ بلکہ کمپیوٹر بھی آپ کی مدد کرتا ہے وہاں میں نے جو پڑھا وہ کچھ یوں تھا۔

”ماﺅنٹ بیٹن 13 اگست کی سہ پہر کو دہلی سے کراچی پہنچا اور اسی شام کو محمد علی جناح نے اس کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کی ایک جانب مس فاطمہ جناح اور دوسری جانب بیگم رعنا لیاقت علی بیٹھی تھیں۔ ماﺅنٹ بیٹن لکھتا ہے ”یہ دونوں دہلی میں ہونے والی نصف شب کی رسومات کا ذکر کرکے میرا مذاق اڑاتی رہیں کہ ایک ذمہ دار حکومت کو اتنے اہم معاملے میں جوتشیوں کے کہنے پر نہیں چلنا چاہئے“..... چونکہ 14 اگست 1947 کی رات کی تقریبات سے پہلے دو سنیاسیوں اور جوتشیوں نے اپنے مذہبی طریقے کے مطابق پنڈت نہرو کو راج سنبھالنے کیلئے تیار کیا تھا اور یہ کہ قدیم ہندوستان میں جب کوئی راجہ مہاراجہ سنگھاسن پر بیٹھتا تھا تو سنیاسی اور پجاری اس قسم کی رسوم ادا کیا کرتے تھے۔ اس لئے 14 اگست کی شام کو یہ رسم نہرو کی رہائش گاہ پر انجام دی گئی۔

15 اگست کی صبح کو قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے طور پر حلف اٹھایا۔ حلف ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سر عبدالرشید نے لیا۔ کوئی مذہبی تقریب ادا نہ کی گئی۔ حلف کی عبارت سادہ مگر پروقار تھی۔ یہ عبارت اس سے بھی زیادہ سادہ اور مختصر تھی جو برطانوی حکومت نے تجویز کی تھی۔ برطانوی حکومت نے ہندوستان اور پاکستان کے گورنر جنرلوں کیلئے حلف نامے کی یکساں عبارت تجویز کی تھی۔ پٹیل اور نہرو نے یہ عبارت من و عن منظور کر لی لیکن جناح نے اس سے اتفاق نہ کیا اور اپنے لئے علیحدہ عبارت تجویز کی جس کی برطانوی حکومت نے توثیق کر دی۔ اور 15 اگست کو انہوں نے اسی عبارت پر حلف اٹھایا۔ متن یہ تھا ”میں محمد علی جناح باضابطہ اقرار کرتا ہوں کہ میں پاکستان کے آئین کا جو کہ قانوناً نافذ ہے سچا وفادار اور اطاعت گزار رہوں گا اور یہ کہ میں شہنشاہ معظم شاہ جارج ششم کے وارثوں اور جانشینوں کا بطور گورنر جنرل پاکستان وفادار رہوں گا“۔

اس میں قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے آئین سے وفاداری کو شامل کیا اور اسے اولیت دی، اس کے علاوہ مجوزہ متن کا ایک اہم جملہ جسے جناح نے حذف کر دیا یہ تھا ”پس اے خدا میری مدد فرما“۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کاروبار حکومت میں مذہب کا عمل دخل پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ اس کے لئے آئین کی بالادستی کو اولیت دیتے تھے۔ 15 اگست کو محمد علی جناح نے پاکستان کی پہلی کابینہ کے وزیروں کا حلف بھی اسی عبارت پر لیا تھا۔ اس میں فقط ”باضابطہ اقرار کرتا ہوں“ کی جگہ ”حلف اٹھاتا ہوں“ کر دیا گیا تھا۔ آئین ساز اسمبلی کے پہلے صدر کی حیثیت سے قائداعظم نے اپنی پہلی تقریر کرتے ہوئے پاکستان کی آئین سازی کا سنگ بنیاد ان الفاظ کے ساتھ رکھا۔ ”خواہ آپ کا تعلق کسی مذہب ذات یا عقیدے سے ہو، اس کا امور مملکت سے کوئئی تعلق نہ ہوگا اور اپ دیکھیں گے کہ کچھ وقت گزرنے کے بعد ہندو ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان مسلمان نہیں رہیں گے، مذہبی اعتبار سے نہیں کیونکہ یہ ہر فرد کا ذاتی عقیدہ ہے بلکہ سیاسی اعتبار سے کہ وہ ایک ملک و قوم کے شہری ہیں“۔

یہ قائداعظم کی پہلی پالیسی تقریر تھی۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ اس میں انہوں نے واضح طور پر امور حکومت اور سیاست کو مذہب سے بالکل جدا کر دیا تھا۔ معروف دانشور و سیاستدان رفیق ذکریہ اپنی کتاب   The man who divided India  میں قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں ایک واقعہ لکھتے ہیں ”جب پاکستان کی تخلیق کے بعد علما کے ایک وفد نے جناح سے ملاقات کرکے اس نئے ملک (پاکستان) میں شرعی نظام کا مطالبہ کیا تو مسٹر جناح نے پوچھا ”آپ کس شرعی نظام کی بات کر رہے ہیں۔ حنفی، حنبلی؟۔ مالکی،  شافعی یا جعفریہ۔  میں اس جھگڑے میں قطعی نہیں پڑنا چاہتا۔ اگر میں اس جھگڑے میں پڑا تو علما یہ کہہ کر حکومت میں مداخلت شروع کر دیں گے کہ وہ شرعی امور کے ماہر ہیں۔ حکومت کو علما کے حوالے کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔“ میرے حساب سے علامہ اقبال کی طرح قائداعظم بھی کمال اتاترک کے مداح تھے۔ علامہ اقبال نے تو ”فلسفہ الہٰیات کی تشکیل جدید“ کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے یہ برملا اعتراف کیا تھا کہ ”تمام مسلم ممالک میں صرف ترکی ہی ایک ایسا ملک ہے جو نظریاتی تنگ نظری اور ادعائیت پسندی کی نیند سے بیدار ہو کر بیدار مغزی کا ثبوت دے رہا ہے۔ آج بیشتر مسلم ممالک مشینی انداز میں قدیم اقدار کو دہرا رہے ہیں جبکہ ترکی آئین نو اور اقدارنو کی تخلیق کر رہا ہے۔“

آخر میں پاکستانی روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ کا حوالہ دے کر اپنی بات ختم کرتا ہوں 25 جنوری 1987 کو  نامہ نگار محمد یحییٰ نے لکھا ہے ”قائداعظم محمد علی جناح نے انتقال سے پہلے بے حد مایوسی کے عالم میں لیاقت علی خان سے کہا تھا، کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ پاکستان ہم نے تخلیق کیا ہے۔ میں نے پاکستان بنایا ہے لیکن اب میں قائل ہو گیا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی تھی۔ اب اگر مجھے موقع ملے تو میں دہلی جاﺅں گا اور جواہر لال (نہرو) سے یہ کہوں گا کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو فراموش کر دیں اور پھر سے دوست بن جائیں۔“